صرف ایک گھنٹے میں بال اگنا شروع۔ ہر عمر میں بال اگا ئیں۔

گنج پن مردوں کا ایسا مسئلہ ہے جو بہت عام اور ان کی ذہنی صحت کو پریشان کردینے والا ہوتا ہے مگر اب لگتا ہے کہ سائنسدانوں نے اس کا انتہائی آسان علاج ڈھونڈ نکالا ہے، جس کے لیے پیوند کاری کی بھی ضرورت نہیں ہوگی۔یہ دعویٰ جاپان میں ہونے والی ایک تحقیق میں سامنے آیا۔جاپان کی یوکو ہاما نیشنل

یونیورسٹی کی تحقیق میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹس میں فرنچ فرائز میں استعمال ہونے والا ایک کیمیکل گنج پن کا علاج ثابت ہوسکتا ہے۔تحقیق کے مطابق سیلیکون میں پائے جانے والا کیمیکل جسے فرنچ فرائز بنانے کے لیے تیل میں شامل کیا جاتا ہے، گنج پن سے نجات دلا کر بالوں کو قدرتی طور پر اگاتا ہے۔ حقیق کے دوران جب چوہوں پر اس کیمیکل کو استعمال کیا گیا تو بالوں کے غدود زیادہ بننے لگیں اور بال دوبارہ اگنا شروع ہوگئے۔ابتدائی ٹیسٹ سے عندیہ ملا کہ یہ طریقہ کار انسانوں میں بھی گنج پن کے علاج کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔محققین کے مطابق تجربات کے دوران بالوں کے دوبارہ اگنے میں سب سے بڑی رکاوٹ پر قابو پانے میں کامیابی حاصل کی گئی۔جب بالوں کے غدود کی پیوند کاری چوہوں کے سر میں کی گئی تو ان کے بال اس حصے میں دوبارہ اگنا شروع ہوگئےمحققین کا کہنا تھا کہ اس کیمیکل کا استعمال کامیابی کی کنجی ثابت ہوا۔ان کے مطابق ہم نے

آکسیجن پرمیبل کو ایک شریان پر استعمال کیا اور اس نے بخوبی کام کیا۔انہوں نے بتایا کہ یہ کیمیکل تجرباتی طور پر بالوں کے اگنے میں بہترین ثابت ہوا ہے ۔ مگر یہ بذات خود بالوں کی نشوونما کا باعث نہیں بنتا، تو فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹس میں فرنچ فرائز کھانے کی عادت گنج پن کو دور نہیں کرسکتی۔محققین نے توقع ظاہر کی کہ بہت جلد اس طریقہ کار کو انسانی بالوں کو دوبارہ اگانے کے لیے استعمال کیا جاسکے گا۔محققین کے مطابق چونکہ یہ برقی پلسز بہت نرم اور کھوپڑی کی اوپری تہہ کے علاوہ گہرائی میں نہیں جاتیں، تو ان ڈیوائسز کے اب تک کوئی مضر اثرات سامنے نہیں آسکے، جو اس طریقہ کار کو دیگر طریقہ علاج سے بہتر ثابت کرتا ہے، جن میں ڈپریشن، ذہنی بے چینی یا دیگر مسائل کا خطرہ ہوتا ہے۔ چوہوں پر تجربات کے دوران یہ ڈیوائسز گنج پن کے علاج کے لیے استعمال ہونے والی ادویات کے 2 مختلف کمپاﺅنڈز جتنی ہی موثر ثابت ہوئیں۔پروفیسر وانگ کا کہنا تھا کہ یہ خود متحرک ہونے والا

سسٹم ہے جو بہت سادہ اور استعمال میں آسان ہے، اس میں استعمال ہونے والی توانائی بہت کم ہوتی ہے تو نہ ہونے کے برابر سائیڈ ایفیکٹس مرتب ہوتے ہیں۔محققین نے اس کانسیپٹ کو وسکونسن Alumni ریسرچ فاﺅنڈیشن میں پیٹنٹ کرایا ہے اور انہیں توقع ہے کہ بہت جلد انسانوں پر اس کی آزمائش کی جاسکے گی۔ جیسا کہ ہم سب ہی اس بات سے واقف ہیں کہ آج کل ہر کوئی اس مسئلے سے دو چار ہے تو ہمیں چاہیے کہ ان ٹوٹکوں کا استعمال کر یں تا کہ ہم اس مسئلے سے بچ سکیں۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.