کونسے صدقہ سے مصیبتیں ٹل جاتی ہیں؟

آیات و روایات کے مطابق، صدقہ دینا ایک نہایت اھم کام ہے۔ لیکن صدقہ دینے والا صرف رضائے الھی کو ھی مد نظر رکھے اور احتیاط رھے کہ کھیں محتاج فرد پر احسان جتانے یا اسے اذیت پھنچانے یا ریاکاری اور دکھاوے کے ذریعے اپنا اجر ضائع نہ کرے۔صدقہ (زکوۃ اور خمس کے سوا) دینے کی کیفیت کیا ہے،

صدقے کے مستحقین کون ہیں؟ کونسی چیزیں بطور صدقہ دی جا سکتی ہیں؟ کم از کم صدقہ کتنا ھونا چاھئے؟اسلام میں مستحب صدقہ اللہ کی رضا کے لئے ہے۔جس کو صدقہ دیتے ھو اس پر احسان نہ جتاؤ،صدقہ دیتے ھوئے ریاکاری اور دکھاوے سے پرھیز کرو۔صدقہ ایسے محتاج کو دو جو اس کو گناہ میں خرچ نہ کرتا ھو۔صدقہ پاک اور حلال اموال سے نکالا جاسکتا ہے۔صدقے میں افراط اور تفریط سے پرھیز کرنا چاھئے۔ نہ ھاتھ جیب پر رکھنا اور نہ ھی ھاتھ مکمل طور پر کھولنا یعنی نہ تو صدقہ دینے میں کوتاھی کرو ۔اور نہ ھی اپنی پوری دولت کو بطور صدقہ دے دو۔کہ بعد میں خود محتاج ھوجاؤ،یہ صدقہ انسان کی اپنی صلاحیت پر منحصر ہے اور بعض روایات میں ہے کہ صدقہ دے دو خواہ وہ ایک گھونٹ پانی ھی کی صورت میں کیوں نہ

ھو۔صدقے کے مستحقین میں اقارب اور رشتہ داروں کو ترجیح حاصل ہے۔اسلام کی شرع مقدسہ میں صدقے کی اھمیت کے بارے میں قرآنی آیات اور احادیث خاندانِ عصمت و طھارت میں بھت زیادہ سفارشات ھوئی ہیں۔اسلام میں صدقے کی دو قسمیں ہیں: ایک واجب صدقہ ہے جو درحقیقت “زکوۃ” ھی ہے اور آیات و روایات میں اس زکوۃ کی مقدار بھی بیان ھوئی ہے اور اس کے مستحقین بھی متعین ہیں۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *