اسلام کے حیا کے مقرر کر دہ حفاظتی بند۔

آج کا ہمارا موضوع ہے اسلام کے مقرر کردہ حفاظتی بند حیا ء ایک ایسا جذبہ ہے جو گ ن ا ہ اور بے شرمی کے کاموں سے روکتا ہے رسول اللہ ﷺ نے ایک انصاری سے فر ما یا جو اپنے بھائی کو کہہ رہے تھے کہ زیادہ شرم نہ کیا کرو ۔ ایسا نہ کہو کیونکہ حیاء ایمان کا جز ہے آپ ﷺ نے فر ما یا حیاء

خیر ہی کی موجب ہو تی ہے لڑکیوں میں حیاء کا ہو نا ان کی نسایت پاک کے حوالے سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے خود رسول اللہ ﷺ کے بارے میں صحابہ کرام فرما تے ہیں آپ ﷺ کنواری دوشیزہ سے بھی زیادہ حیاء دار تھے۔ آپ ﷺ نے کنواری لڑکی کی شادی کے لیے اس سے اجازت لینے کا فر ما یا تو عائشہ ؓ نے عرض کیا وہ تو شرما تی ہیں آپ ﷺ نے فر ما یا اس وقت اس کا چپ رہنا ہی اس کی اجازت ہے معلوم ہوا کہ کنواری لڑکی کا شرم کے بنا پر اپنی شادی کی اجازت اپنی زبان سے دینا ضروری ہے البتہ نا پسندیدگی کی صورت میں وہ کہہ سکتی ہے کسی قریبی خاتون سے کہہ کر بتا سکتی ہے جب لڑکیاں لو میرج رسوا کن قدم اٹھاتی ہیں تو اس وقت حیاء کے تمام تقاضوں کو پا ما ل کر دیتی ہیں۔ ربِ کر یم نے اہلِ ایمان مردوں کے

بارے میں رسول اللہﷺ کو مخاطب کر کے فر ما یا ایمان والوں سے کہہ دیجئے نا محرم عورتوں سے اپنی نگا ہیں نیچی رکھیں اور اپنی ش ر م گا ہو ں کی حفاظت کر یں ۔ اس میں ان کے لیے نجات ہے اللہ پا ک جو کچھ وہ کر تے ہیں اللہ اس سے خوب واقف ہے۔ اس کے بعد خواتین کے بارے میں فر ما یا ایمان والیوں سے کہہ دیجئے کہ اپنی آنکھیں نیچی رکھیں اور اپنی ش ر م گاہو ں کی حفاظت کر یں مگر جو ان میں سے ازخود ظاہر ہو جا ئے نگاہ ابتدائی قاصد کا کام کر تی ہے اور یہ ایک ایسا مسموم تیر ہے جو نگاہ سے اور یہ ایک مسموم تیر جو نگاہ کے ذریعے سیدھا دل پر جا کر وار کر تا ہے اور اجنبی مرد یا عورت کی شکل کو دل میں پیوند کر کے اس بات پر ابھا رتا ہے کہ اب اس عورت یا مرد کو حاصل کیا جا ئے اگر انسان

توفیق ربانی سے اپنے آپ کو قابو میں نہ رکھے تو وہ بے۔ قرار ہو جا تا ہے زندگی میں اچانک بغیر ارادے کے نظر پڑ جا تی ہے ایک صحابی نے رسول پاک ﷺ سے پو چھا اچانک نظر پڑ جا ئے تو کیا کروں آپ ﷺ نے فر ما یا اچانک نظر پڑ جا ئے تو اپنی نظر پھیر لو ایک حد یث میں ارشاد ہے اپنی نظر جھکا لے لو میرج کرنے والے اللہ پاک کے اس حکم کی نا فر ما نی ایک بار نہیں بار بار کر تے ہیں۔ اور جتنی بار نا فر ما نی کر تے ہیں اتنی بار اللہ پاک کی ناراضگی مول لیتے ہیں۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *