تسبیح سے استخارہ جو آپ خود کرسکتے ہیں

استخارہ کا مطلب خیر طلب کرنا ہے یعنی اللہ تعالیٰ سے خیر کی دعا کرنا بلکہ شریعت میں استخارہ ایک خاص اصطلاح ہے اسی طرح استخارہ کے کچھ طریقے بزرگان دین کے مجربا ت میں سے بھی ہمیں ملتے ہیں ہمارے معاشرے میں اکثر اس کا استعمال شادیوں کے وقت نظر آتا ہے احادیث کی کتب علماء دین و علماء

روحانیات نے استخارے کے بے شمار طریقے بیان کئے ہیں لہٰذا انہی طریقوں میں سے اس تحریر میں تسبیح سے استخارہ کا مجرب طریقہ بتایاجائے گا یہ آسان و مجرب المجرب سا استخارہ جو آپ خود کرسکیں گے اور بہتر جان سکیں گے تسبیح کے دانے آپ کی تقدیر کو بدل سکتے ہیں۔ اس طریقہ کار میں تسبیح کے دانوں پر ہاتھ رکھاجاتا ہے پھر کچھ مخصوص تعداد کے مطابق دانے شمار کئے جاتے ہیں باقی بچنے والے دانوں کے اعداد و شمار کے مطابق نیک و بد کا تعین کیاجاتا ہے ۔بعض صورتوں میں فوری نتیجہ درکار ہوتا ہے لہٰذا یہ ایک ایسا عظیم مجرب استخارہ ہے کہ آپ دنیا کے کسی بھی کام کے متعلق فورا استخارہ کرسکتے ہیں شادی کے بارے میں کرنا ہو کہ وہاں میرے لئے شادی کرنا مناسب ہے یا نہیں نوکری کے بارے میں کاروبار کے بارے میں بندش جادو جنات تعویذات نظر بد کے بارے میں غرض کسی بھی حوالے سے کرنا ہو اس استخارے سے آپ کو فورا انشاء اللہ جواب ملے گا بیمار ہیں

مسلسل علاج سے افاقہ نہیں ہورہا غرض کہ کوئی بھی پریشانی ہو تو یہ آسان طریقہ استخارہ کا عمل ضرور کریں۔میں نے بہت سے لوگوں کو دیکھا ہے۔ ان کے سامنے بہت ہی بہتر کاروبار یا رشتے ہوتے ہیں اور وہ قدم نہیں اٹھاتے کہ پیر صاحب کے یا پھر کسی اللہ والے کے استخارہ میں صحیح نہیں آیا اصل بات یہ ہے کہ ہر شخص خود اپنے لئے استخارہ کرے استخارہ خود کرنا مسنون ہے دوسروں سے کرانے کی ضرورت نہیں ہے ایک حدیث میں جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ سے استخارہ کا چھوڑ دینا اور نہ کرنا انسان کے لئے بدبختی اور بد نصیبی میں شمار ہوتا ہے استخارہ کے لئے شریعت نے تو کوئی ایسی شرط نہیں لگائی کہ استخارہ گناہ گار انسان نہ کرے کوئی ولی اللہ کرے لہٰذا جو شرط شریعت نے نہیں لگائی آپ اپنی طرف سے اس شرط کو نہ بڑھائیں خود استخارہ کریں کیونکہ انسان کتنا ہی گناہ گار کیوں نہ ہو بندہ تو اللہ ہی کا ہے۔ اور جو بندہ اللہ سے مانگے گا تو جواب

ضرور آئے گا جس ذات کا یہ فرمان ہو کہ مجھ سے مانگو میں دعا قبول کروں گا وہ ذات تو ایسی ہے کہ شیطان جب جنت سے نکالا جارہا ہے تو اس وقت شیطان نے دعا کی اللہ نے اس کی دعا کوقبول فرمایا جو شیطان کی دعا قبول کررہا ہے کیا وہ ہم گناہگاروں کی دعا قبول نہ کرے گا اور جب کوئی استخارہ رسول اللہ ﷺ کی اتباع سنت کے طور پر کرے گا تو یہ ممکن نہیں کہ اللہ دعا نہ سنے بلکہ ضرور سنے گا اور خیر کو مقدر فرمائےگا اللہ کی بارگاہ میں سب کی دعائیں سنی جاتی ہیں ہاں یہ ضرور ہے کہ گناہوں سے بچنا چاہئے تا کہ دعا جلد قبول ہو۔استخارہ کا طریقہ یہ ہے کہ آپ باوضو ہوکر آنکھیں بند کر کے اول و آخر درود شریف تین بار پھر اکیس مرتبہ سورہ اخلاص پڑھ کر تسبیح کے دانوں پر پھونک دیں اور تسبیح کے آخرت کچھ دانوں پر یہ دعا پڑھنی شروع کردیں۔ پہلا لفظ بسم اللہ دوسرا لفظ خیرہ تیسر ا لفظ وشرہ اب دیکھئے کہ پڑھتے پڑھتے تسبیح کے آخری دانے پر کس لفظ کا

سٹاپ آیا ہے اگر تسبیح کے آخری دانے پر بسم اللہ آیا ہے تو مطلب ہے کہ یہ رشتہ کرنا یا یہ کام کرنا مناسب ہے اور اگر پڑھتے پڑھتے تسبیح کے دانے پر خیرہ کا لفظ آیا تو مطلب ہے کہ یہ رشتہ یہ کام نہایت نیک اور بہتر ہے اور اگر تسبیح کے آخری دانے پر شرہ آیا تو یہ رشتہ کرنا یا یہ کام کرنا مناسب نہیں اس کو چھوڑ دینے میں خیر ہے اس عمل کے لئے کم از کم سو دانوں والی تسبیح ہی لی جائے ایک وقت میں ایک کام کے لئے ایک بار استخارہ کریں سمجھ نہ آئے تو اگلے دن دوبارہ کریں بار بار کوشش کریں انشاء اللہ بہت جلد آپ اس استخارہ کے ماہر ہوجائیں گے۔اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔ آمین

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *