گھٹنوں پر تیل لگا کر 4 مرتبہ یہ آیت پڑھ لیں بغیر کسی آپریشن کے گودا پیدا ہونا شروع ایسی طاقت ہوگی کہ

اگر دیکھا جائےتو گھٹنوں کا درد اس قدر عام ہوچکا ہے۔ ہردوسرا شخص اس کی شکایت کر تا دکھائی دیتاہے۔ چالیس سے پچاس سال کی عمر تک ہی گھٹنوں پر چلنا مشکل ہوجاتاہے۔ بلکہ آج کل نوجوان بھی گھٹنوں کے درد کی شکایت کرنے لگیں ہیں۔گھٹنوں کے درد کی مختلف وجوہات ہوتی ہیں۔اور بڑھتی عمر کے ساتھ

یہ مرض گھٹنوں سے گودا ختم ہو جانے کی وجہ سے ہوتا ہے۔ جس کےلیے ڈاکٹر حضرات آپریشن تجویز کرتے ہیں۔ لیکن یہ آپریشن بھی اتنا کامیاب نہیں ہوتا کہ آپریشن کے بعد بھی لوگ چلنے پھرنے کاقابل نہیں ہوتے۔ اگر آپ اس پریشانی میں مبتلاہیں تو آپ کو گھبرانے کی بالکل بھی ضرروت نہیں ہے ہم آپ کو ایک ایسے وظیفے کا بتاتے ہیں۔انشاءاللہ آپ کے گھٹنوں کی ہر قسم کی تکلیف دور ہوجائےگی۔ گھٹنوں میں گودا ختم ہے تو گھٹنوں میں گودا بننا شروع ہوجائےگا۔ یہ وظیفہ قرآنی ہے جو کہ مجر ب اور بہت خاص ہے۔ اس وظیفے کو ہرگز مت بھولیئے گا۔ وظیفے تو تبھی فائد ہ دے گا جب اس کو پورے طریقے سے کیا جائےگا۔ اس وظیفے کو کرنے سے اللہ آپ کو اس کے درد سے نجات دلا دے گا۔ اس کی برکت سے آپ کے گھٹنے ایسے ہوجائیں گے جیسے جوانی میں ہوتےتھے۔ اس عمل میں “سورت البقرہ کا پہلارکوع اور سور ت البقرہ کا آخری رکوع” تین تین مرتبہ پڑھ کر اپنے گھٹنوں پر دم

کر دینا ہے۔ اور اسی طرح آپ نے اسی عمل کو زیتون کے تیل پر بھی دم کرنا ہے۔ پھر آپ نے سورت البقرہ کا پہلا اور آخری رکو ع تین تین مرتبہ پڑھ کر گھٹنوں پردم کردیناہے۔ پھر اسی عمل کو زیتون کے تیل بھی دم کرنا ہے۔الگ سے یہ عمل کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ تیل پر دم کرنے کے بعد آپ نے اس تیل سے اپنے گھٹنوں کی مالش کرنی ہے۔ اسی طرح سے آ پ نے دم کیے ہوئے تیل سے ایک چمچ پی لینا ہے۔ زیتون کے تیل کی دو اقسام ہوتی ہیں۔ ایک تیل کھانے کےلیے استعمال کیا جاتا ہے اور ایک تیل مالش کرنے کےلیے استعمال کیا جاتا ہے ۔ کوشش کریں کہ دونوں تیل کو اپنے پاس رکھ کر دم کریں۔ جس سے مالش کرنی ہے اس سے مالش کرلیں ۔ جس تیل کو کھانا ہے اس کا آدھاچمچ تیل پی لینا ہے۔ اگر آپ کو تیل پینے میں مسئلہ

ہو اور اس کو پینے میں ممکن نہیں ہے تو اس صورت میں آپ پینے کا پانی رکھ لیں۔ اور اس پر دم کر لیں۔ اور اس پانی کو پی لیں۔ اس عمل کو پورے نوے دن کرنا ہے۔ اس عمل کی جو میعاد بتائی گئی ہے اس کی اہمیت ہے اکثر لوگ بتائی گئی میعاد پوری نہیں کرتے ۔ تو پھر شکایت کرتے ہیں۔ کہ وظیفہ کا کوئی فائد ہ نہیں ہوا ہے۔ اکابرین جس طرح چلہ کرتے ہیں وہ چالیس دن بہت اہم ہوتے ہیں۔اسی طرح جس وظیفے کی میعاد بتائی جاتی ہے اس کی میعاد کو پورا کیا جاتا ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *