رات سونے سے پہلے یہ 3 کام ضرورکرلینا ورنہ تمہارے گھر میں شیطان اور بیماریاں داخل ہوجائیں گی۔

اللہ میں تو اپنی جان کا مالک ہوں ،شرارتی لوگ جو تیری نافرمانی پر اپنے آپ کو لگابیٹھے ہیں میرے اور ان کے درمیان فاصلہ کردے میں ان کے ساتھ نہیں رہ سکتا ۔رسول اللہ ﷺ نے اسی معنی میں یہ فرمایا تھا لوگو جب رات کو سونے لگو اپنے برتنوں کو ڈھانپ لیاک رو برتنوں کو ڈھانپ دیا کرو ڈھانپنے کے

لئے کوئی چیز نہیں لکڑی اوپر رکھ دو ۔کیوں؟کوئی بھی بیماری جو آسمان سے اترتی ہے بلائیں اترتی ہیں جو برتن ڈھکا ہوا نہیں ہوتا اس کے اندر چلی جاتی ہیں اور دوسرا کام یہ کیاکرو مشکیزے کے منہ کو باندھ دیا کرو۔جب سونے لگو تو دروازے بند کر کے سویا کرو۔مغرب سے عشاء کا وقت ایسا وقت ہے اس وقت جن پھیلتے ہیں اور اچکتے ہیں جس کو اچکنا ہو اس لئے مغرب کی اذان کے بعد اپنے بچوں کو پکڑ لیا کرو ان کو باہر نہ بھیجا کرو۔جب سونے لگو تو چراغ بجھا دیا کرو۔ کیوں بجھا دیا کرو؟اب تو وقت بدل گیا ہے چراغ لوگ جلایا کرتے تھے ،چوہیا اس چراغ کی بتی کو نکالتی اور چھت جو اس وقت لکڑی اور اس طرح کی چیزوں کی بنائی جاتی تھی اس میں ڈالتی اور پورے گھر کو آگ لگادیتی اس لئے چوہیا کو بھی رسول اللہ ﷺ نے فویسقہ کہا ہے جو فاسق سے ہے فسق سے ہے ہر وہ چیز جس کے اندر شرارت آجائے جو کسی کا نقصان ہی سوچے ایسے شخص فاسق کہتے ہیں ۔اس

حدیث کا تقاضا ہے کہ رات کو سوتے وقت گھر میں آگ، کوئلوں کی انگیٹھی، گیس یا بجلی کے چولہے اور ہیٹر وغیرہ بند کر دئیے جائیں بصورت دیگر نقصان کا اندیشہ ہے ہم اخبارات میں پڑھتے رہتے ہیں کہ رات کے وقت کسی گھر میں آگ لگ گئی وغیرہ، اس حدیث کے مطابق احتیاط کا تقاضا یہی ہے کہ بجلی کے بلب بھی بجھا دئیے جائیں۔ کیونکہ بجلی آگ کی ایک قسم ہے، اس کے علاوہ اندھیرے میں سونا طبی لحاظ سے بہت زیادہ مفید ہے۔ سوال میں زیرو کے بلب کی افادیت کو بیان کیا گیا ہے کہ اس سے رات کو اٹھنے والوں کو سہولت ہے۔ یہ سہولت تو موقع پر بلب جلا کر بھی حاصل کی جا

سکتی ہے۔ اس لئے ہمارا رجحان یہی ہے کہ اس قسم کے بلب کو بھی رات سوتے وقت گل کر دینا چاہیے۔ اگر جلتا رہے گا تو سرکٹ شارٹ ہونے سے گھر کا نقصان ہو سکتا ہے۔ایک حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ گھروں کو آگ لگنے میں شیطانی حرکت کا عمل دخل ہوا کرتا ہے۔ جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: “جب تم سونے لگو تو اپنے چراغ بجھا دیا کرو بلاشبہ شیطان چوہیا جیسی مخلوق کو اس قسم (جلا دینے کا) کام سمجھا دیتا ہے اور تمہارے گھروں میں آگ لگا دیتا ہے۔ان احادیث کی روشنی میں ہم یہ کہنا چاہتے ہیں کہ احتیاطی تدابیر پر عمل کرتے ہوئے شیطان کے شر سے بھی پناہ مانگتے رہنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس لعین کی شرارتوں سے محفوظ فرمائے۔ آمین

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.