ظہراور عصر کی نماز میں خاموشی کیوں ہوتی ہے ؟ کسی بھی مولوی سے پوچھو تو وہ غصے میں کیوں آجاتا ہے ؟

نماز دین اسلام کے بنیادی اراکان میں سے ہے اللہ اور اس کے رسولﷺ پر ایمان کے بعد اہم ترین رکن ہے اس کی فرضیت قرآن وسنت اور اجماع ِ اُمت سے ثابت ہے نماز شبِ معراج کے موقع پر فرض کی گئی ہے قرآن وسنت واجماع کی روح سے اس کی ادائیگی کے پانچ اوقات ہیں اسلامی نظام عبادت میں نماز

کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ قرآن کریم میں بانوے مقامات پر نماز کا ذکر آیا ہے اور متعدد مقامات پر سیغا امر کیساتھ نماز کا حکم واجب ہوا ہے ۔پیارے دوستو نماز اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندوں کیلئے ایک ایسا انعام ہے جس کیوجہ سے بندہ جنت کا مستحق ہوسکتا ہے ۔کیونکہ حدیث پاک میں یہ واضح طور پر بیان فرمایا کہ اللہ کا ان لوگوں کیساتھ جنت کا وعدہ ہے جو نماز کا احتمام کرنے والے ہیں جیسا کہ حضرت عبادہ بن سامت ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہﷺ کو یہ فرماتے سنا کہ پانچ نمازیں ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر فرض قرار دیا ہے جس نے ان نمازوں کو بہترین وضو کیساتھ انکے مقررہ اوقات پر ادا کیا اور ان نمازوں کو رکوع سجود اور کامل خشوع سے ادا کیا تو ایسے شخص سے اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ اسکی مغفرت فرما دے گا اور جس نے ایسا نہیں کیا یعنی نماز ہی نہ پڑھی یہ نماز کو اچھی طرح نہ پڑھا تو ایسے شخص کیلئے اللہ تعالیٰ کا کوئی وعدہ نہیں ہے اور چاہے تو اس کی مغفرت فرمادے اور چاہے تو اس کو عذا ب دے ۔باروایت سنن ابو دائود۔اور دوستو حدیث میں

یہ بات بھی بیان ہوئی کہ نماز سے مسلمان بندے کے گناہ ختم ہوجاتے ہیں جیسا کہ حضرت ابو ذر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ موسم سرما میں جب پتے درختوں سے گر رہے تھے باہر نکلے آپ ﷺ نے درخت کی دو شاخوں کو پکڑ لیا ۔حضرت ابو ذر ؓ فرماتے ہیں کہ شاخ سے پتے گرنے لگے راوی کہتے ہیں کہ حضور اکرم ﷺ نے پکارا اے ابو ذر ؓ میں نے ارض کیا لبیک یا رسول اللہ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا مسلمان بندہ جب نماز اس مقصد سے پڑھتا ہے کہ اُسے اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل ہوجائے تو اس کے گناہ اس طرح جھڑ جاتے ہیں جس طرح یہ پتے درخت سے جھڑتے جارہے ہیں بروایت مسند احمد بن حمبل اس لیے چاہیے کہ نماز کی پابندی کی جائے تاکہ ہماری بھی بخشش ہوسکے ہم بھی اللہ تعالیٰ کے اس وعدے کے مستحق ہوجائیں۔پانچ نمازوں میں جماعت کی جو نمازیں ادا کی جاتی ہیں ان میں تلاوت بغیر آواز کے کیوں کی جاتی ہے اور تین نمازوں میں امام آواز کیساتھ کیوں تلاوت کرتا ہے یاد رہے کہ جب نمازوں میں تلاوت بغیر آواز کے کی جاتی ہے وہ سریح نمازیں کہلاتی ہیں اور جن میں تلاوت آواز کیساتھ کی جاتی ہے ۔انہیں جوہری نمازیں کہا جاتا ہے ایسا اس لیے کیا جاتا ہے کہ ہمارے آقاﷺ نے ایسا کیا اور ہم ایسا اپنے پیارے آقاﷺ کی اتباع میں کرتے ہیں آپ ﷺ کی اتباع کے بعد

ویسے کسی اور دلیل کی ضرورت باقی نہیں رہتی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں نبی کریم ﷺ کی اتباع اور اقتداء کرنے کا حکم دیا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے یقیناً تمہارے لیے اللہ کے رسولﷺ امدا نمونہ ہیں اور نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے کہ تم ایسے ہی نماز ادا کرو جیسے تم مجھے نماز ادا کرتے ہوئے دیکھتے ہو ۔اور نبی کریم ﷺ نماز فجر مکمل جبکہ مغرب اور عشاء کی پہلی دو رکعتوں میں جوہری قراءت کرتے تھے جبکہ ان کے علاوہ رکوۃ میں آہستہ آواز میں تلاوت کرتے تھے جیسا کہ مختلف روایات میں یہ بات واضح ہوتی ہے سیدنا جبیر بن متام ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو نماز مغرب میں سورۃ طور کی تلاوت کرتے ہوئے سنا اسی طرح براء ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ کو عشاء کی نماز میں سورۃ التین پڑھتے ہوئے سنا
میں نے آپ ﷺ سے خوبصورت آواز کسی کی نہیں سنی بخاری اور مسلم میں ابن عباس ؓ کی حدیث ہے جس میں ذکر ہے نبی ﷺ کی تلاوت جنوں نے سنی تو اس میں یہ بھی ہے کہ آپ ﷺ اس وقت اپنے صحابہ کرام کو فجر کی نماز پڑھا رہے تھے تو جب جنوں نے قرآن سنا تو کان لگا کر غور سے سننے لگے اس حدیث کو امام بخاری اور مسلم میں روایت کیا ہے تو دوستو ان روایات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ نبی ﷺ ان نمازوں میں بلند آواز سے تلاوت کرتے تھے اور آپ ﷺ کے ساتھ شریک افراد آپ ﷺ کی تلاوت سنتے بھی تھے جب کہ ظہر اور عصر کی نماز میں تلاوت آہستہ آواز میں کرنے کے

بارے میں روایات ملتی ہیں ۔صحیح بخاری میں ہے خباب ؓ سے ایک سائل نے سوال کیا کیا رسول اللہ ﷺ ظہر اور عصر کی نماز میں تلاوت کرتے تھے؟اس کے جواب میں خباب ؓ نے فرمایا ہاں تلاوت کرتے تھے اس پر ان کے شاگردوں نے کہا آپ کو اس کا کیسے علم ہوتا تھا تو آپ نے کہا آپ کی داڑھی کی حرکت سے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جوہری نماز وں میں بلند آواز سے تلاوت اور سریح نمازوں میں آہستہ آہستہ میں تلاوت نبیﷺ کی سنت سے ثابت ہے اور مسلمانوں کے ان احکامات پر اجماع بھی ہے حضرت ابو حریرہ ؓ کہتے ہیں کہ ہر نماز میں تلاوت ضرور کی جاتی ہے تاہم جس نماز میں ہمیں رسول اللہ ﷺ نے تلاوت سنائی ہم تمہیں بھی اس نماز میں سناتے ہیں اور جس نماز میں آپ ﷺ نے آہستہ تلاوت کی تو ہم بھی آہستہ تلاوت کرتے ہیں اس حدیث کو امام بخاری اور مسلم میں روایت کیا ہے ۔امام نووی ؒ کہتے ہیں نماز فجر مغرب عشاء اور جمعہ کی ابتدائی دو نوں رکٰوۃ میں باآواز بلند تلاوت جبکہ ظہر عصر مغرب کی تیسری اور عشاء کی تیسری اور چوتھی رکعت میں آہستہ تلاوت کرنا سنت ہے اس پر تمام مسلمانوں کا اجما ع بھی ہے نیز اس پر صحیح احادیث بھی وافر مقدار میں موجود ہیں تو دوستو معلوم ہوا کہ جیسے پیارے آقاﷺ نے نمازوں کو ادا کرنے کا حکم دیا ویسے ہی ان کو بغیر کسی تبدیلی اور شق وشبہ کے ادا کرنا چاہیے ہمیں اس کی حکمت ومصلحت سمجھ میں آئے یا نہ آئے جوہری اور سریح نمازوں کو ادا کرنے کا حکم

ہے اس لیے بغیر کسی شک وشبہ کے ان پر عمل کیا جائے جیسا ہمیں حکم ملا ہے البتہ انکے دلائل میں چند اشعاریں بھی ملتی ہیں کہ کس وجہ سے دو نمازوں میں تلاوت آہستہ کی جاتی ہے اور تین نمازوں میں آواز کیساتھ آئیے آپ کو اس بارے میں بتاتے ہیں اس کی جو مصلحت اور حکمت بیان کی گئی ہے کہ وہ یہ کہ قرآن میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ترجمہ آیت”اور نہ اپنی نماز میں قراء ت بلند آواز سے کریں اور نہ بلکل آہستہ پڑھیں اور دونوں کے درمیان معتدل راستہ اختیار فرمائیں یعنی ہمیں درمیانی راستہ اپنانے کا حکم دیا گیا کیونکہ شروع میں مسلمان نماز پڑھتے تو ساری نمازوں میں اونچی آواز سے قراءت کرتے تھے اور کفار کو یہ پسند نہ تھا لہذا وہ مسلمانوں کے قریب آکر شوروغل کرتے تھے سیٹیاں بجاتے اور مسلمانوں کو نماز ادا کرنے نہیں دیتے تھے اللہ اور حضورﷺ کی شان میں نازیبا کلمات کہتے تھے گستاخی کرتے اور توہین کرتے تھے اس لیے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو حکم دیا کہ نہ تو اتنی اونچی آواز میں پڑھو کہ کفار سن کر بے ادبی وگستاخی کریں اور نہ اتنا آہستہ پڑھو کہ تم خود بھی نہ سن سکو لہذا درمیانی آواز میں قراءت

کرلیا کرو تیسری بات یہ کہ فجر اور عشاء کے وقت کفار سوئے ہوتے تھے اور مغرب کے وقت کھانے پینے مشغول ہوتے تھے اس لیے ان تین اوقات میں حکم دیا کہ جوہری نماز ادا کی جائے کیونکہ کفار ان اوقات میں کھانے پینے اور سونے میں مشغول ہوتے ہیں مسلمانوں کو تنگ نہیں کرسکتے لہذا جوہری نماز کا حکم دیا گیا ۔ظہر عصر کے وقت کفار دن بھر گھومتے رہتے تھے اس لیے ان نمازوں میں آہستہ آواز سے پڑھنے کا حکم دیا گیا تاکہ کفار مسلمانوں کو تنگ نہ کر سکیں اور قراء ت کی آواز سن کر شوروغل نہ کرسکیں۔ شکریہ

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *