رات سونے سے پہلے صرف10بار استغفراللہ پڑھنے کے سچے معجزات

آج ہم آپ کو بتائیں گے کہ استغفار کی فضیلت کیا ہے استغفار سے کیا فوائد حاصل ہوتے ہیں۔ یہ قرآن وسنت کی روشنی میں بتائیں گے ۔ یہ باتیں قصے یا کہانیاں نہیں جن کو گھڑا گیا ہے ۔ یہ رب کے قرآن رسول اللہ ﷺ کے فرمان سے ہوتی ہیں۔ ہمیں یقین ہے کہ آپ کو ہماری باتیں اچھی لگی ہوں گے ۔قرآن پاک

سے بتائیں گے کہ استغفار کا اللہ تعالیٰ نے کہاں کہاں ذکر کیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ گناہ کا بخشنے والا اور توبہ کا قبول کرنے والا سخت عذاب والا ،انعام وقدرت والا ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں اسی کی طرف واپس لوٹنا ہے دوسری جگہ فرمایا جس کا ترجمہ ہے اے نبیﷺ تو صبر کر اللہ کا وعدہ بلاشک وشبہ سچا ہی ہے تو اپنے گناہ کی معافی مانگتا رہ۔اور صبح شام اپنے پروردگار کی تسبیح اور حمد بیان کرتا رہ۔ایک اور جگہ فرمایا اور اللہ تعالیٰ سے بخشش مانگو بے شک اللہ تعالیٰ بخش کرنے والا مہربانی کرنے والا ہے ایک اور جگہ فرمایا جس کا ترجمہ ہے :تو اپنے رب کی تسبیح کرنے لگ حمد کے ساتھ اور اس سے مغفرت کی دعا مانگ بے شک وہ بڑا ہی توبہ قبول کرنے والا ہے ۔ ایک اور جگہ ارشاد ہے اے میرے رب مجھے معاف فرما اور مجھ پر رجوع فرما بے شک تو بہت رجوع فرمانے والا بخشنے والا ہے ایک اورمقام پر ارشاد باری تعالیٰ ہے جس کا ترجمہ ہے اور وہ لوگ

جب کسی برائی کا ارتکاب کرلیتے ہیں یا اپنی جانوں پر ظلم کر بیٹھتے ہیں تو اللہ تعالیٰ کو یاد کرتے ہیں ایک اورجگہ ارشاد باری تعالیٰ جس کا ترجمہ ہے اور اللہ تعالیٰ اپنی موجودگی میں ان کو عذاب دینے والا نہیں ہےاور اسی طرح اللہ ان کو عذاب نہیں دے جبکہ وہ بخشش مانگنے والے ہوں۔ جو شخص کسی برائی کا ارتکاب کرے یا اپنے نفس پر ظلم کرے وہ پھر اللہ سے بخشش طلب کرے تو وہ اللہ کو بہت بخشنے والا نہایت مہربان پائے گا۔ایک اور مقام پر ارشاد ہے جس کا رجمہ ہے پھر تم بھی وہیں سے واپس آجائو جہاں سے لوگ واپس آتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے بخشش مانگو بے شک اللہ تعالیٰ بخشنے والا نہایت رحم کرنے والا ہے۔بخاری شریف کی روایت ہے حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں سورۃ نصر کے نزول کے بعد نبی کریمﷺ اپنی ہر نماز میں سبحانک الھم وبحمدک پڑھا کرتے تھے اور قرآن پر عمل کرتے اپنے رکوع وسجود میں کثرت سے سبحانک الھم وبحمدک پڑھا کرتے تھے ۔ آپﷺ ایک ایک مجلس

میں سو سو مرتبہ اللہ تعالیٰ سے استغفار کرتے تھے ۔ باوجود اس بات کے اللہ تعالیٰ نے انکے اگلے پچھلے تمام گناہوں سے معاف فرما دیا تھا ۔انبیاء ویسے بھی خطاؤں سے معصوم ہوتے ہیں لیکن اس کے باوجود اللہ تعالیٰ سے استغفار تمام انبیاء کی سنت ہےحضرت عبداللہ بن عمر ؓ فرماتے ہیں میں نے نبی کریمﷺ کو ایک ہی مجلس میں سو مرتبہ استغفراللہ کہتے ہوئے سنا حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ قرات کے درمیان کچھ دیر کیلئے خاموش رہتے تھے ۔ میں نے کہا یا رسول اللہﷺ میرے ماں باپ آپ پر قربان تکبیر اور قرات کے درمیان آپ کیا پڑھتے ہیں تو نبی کریمﷺ نے فرمایا میں اس وقت بھی دعائے استغفار پڑھتا ہوں۔ بخاری شریف کی روایت حضرت علی ؓ فرماتے نبی اکرمﷺآخری تشہد اور سلام کے درمیان یہ دعائے استغفار پڑھا کرتے تھے۔ جو شخص یقین کامل کیساتھ صبح کی نماز کے سید الاستغفار پڑھے گا اسی دن شام سے پہلے مر گیا تو سیدھا جنت میں جائیگا۔مغرب کی نماز کے

بعد سید الاستغفار پڑھے گا اگر اسی رات صبح سے پہلے پہلے مرگیا تو سیدھا جنت میں جائیگا ۔ سیدالاستغفار یہ ہے اے اللہ تو ہی میرا رب ہے تیرے علاوہ کوئی عبادت کے لائق نہیں تونے مجھے پیداکیا اور میں تیرا بندہ ہوں اور تیرے عہد اور وعدے پر قائم ہوں جس قدر طاقت رکھتا ہوں میں نے جو کچھ کیا اس کے شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں اپنے آپ پر تیری نعمت کا اقرار کرتا ہوں اور اپنے گناہوں کا اعتراف کرتا ہوں بس مجھے بخش دے کیونکہ تیرے علاوہ کوئی گناہوں کو نہیں بخش سکتا۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *