رمضان المبارک 2021 سے پہلے ہر مرد اور عورت یہ تین کام ضرور کریں

اسلامی مہینہ ہمارے لیے بہت ہی اہمیت کا حامل ہے۔ لیکن کچھ ماہ بہت خاص اہمیت رکھتے ہیں اس سے اگلا جو مہینہ ہے رمضان المبارک کا اس میں ہمارے لیے اور آسانیاں ہونگی۔ہمارے پیارے نبی ﷺ رمضان سے پہلے تین کام کیا کیا کرتے تھے وہ تین کام کونسے ہیں آپ ﷺ نے رمضان کے استقبال کے لیے

بہت زبردست تیاری کی۔اور یہ بتانے کے لیے کہ یہ کوئی معمولی مہمان نہیں ہے۔ ممکن ہے کے ہم رمضان کے لیے جنڈیاں لگانا شروع کردیں۔لیکن ہمارے پیارے نبی ﷺ کس طرح احترام کرتے تھے۔ یہ جاننے کے لیے اس اردو کے نیچے آپ ﷺ کونسے ایسے تین کام کرتے تھے اور شبان کے مہینے میں کرنے ہیں۔ پہلا کام نفلی روزے رکھنے ہیں دوسرا کام رات کو تہجد کی ہمت کرنی ہے اور نمبر تین گناہوں سے بچنا ہے۔رمضان خالقِ کائنات کی بیش از بیش رحمتوں اور برکتوں کا مہینہ ہے۔ سال بھر غفلت میں بسر کرنے والے ہم جیسے مسلمانوں کے لیے یہ مہینہ بہت بڑی نعمت ہے۔. اس میں بندوں کا ربّ سے تعلق پھر جڑ جاتا ہے۔ ایمان پھر تازہ ہوجاتا ہے۔ روحانی بیٹریاں چارج ہوجاتی ہیں۔اُمّ المومنین حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں: رمضان میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے معمولات میں روزوں کے علاوہ دو باتوں کا مزید اضافہ ہوجاتا تھا: ایک یہ کہ قرآن کریم کی تلاوت کی مقدار بڑھ جاتی تھی۔ حضرت

جبرائیلؑ روزانہ آ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس وقت تک نازل شدہ قرآن کا دور کیا کرتے تھے۔ دوسرا یہ کہ اس کے ساتھ سخاوت بھی بڑھ جایا کرتی تھی جس کایہ عالم ہوتا تھا جیسے تیزہوا چل پڑے۔روزہ کھانے پینے اور دیگر خواہشات پر قابوپانے کا ذریعہ ہے۔یہ انسان میں ایسا ملکہ پیدا کرتا ہے کہ وہ تھوڑی سی ہمت سے کام لے کر پور اسال اپنے نفس کو ان گناہوں سے بھی باز رکھ سکتا ہے جو دن رات ہر وقت حرام ہیں۔ اسی لیے ارشادِ باری ہے کہ روزے تم پر اس لیے فرض کیے گئے ہیں تاکہ تم متقی بن جاؤ۔صوفیائے کرام روزے کے 3 درجات بیان کرتے ہیں: روزے کی پابندی قبول کرکے کھانے پینے اور دیگر خواہشات پوری کرنے سے خود کو روکنا، مگر دیگر جائز و ناجائز کاموں کی تمیز نہ کرنا۔ یہ اصطلاحی روزہ ضرور ہے جس سے فرض ذمہ سے ساقط ہوجاتا ہے، لیکن روزے کا مقصد پورا نہیں ہوتا۔ روزہ کی حالت میں زبان، کان،آنکھ، ہاتھ اور پائوں وغیرہ سے کوئی بھی

گناہ نہ ہونے دینا۔ اسی سے قرآن کے مقصدِصوم کی تکمیل ہوتی ہے۔دل اور دماغ کا بھی روزہ ہوکہ اللہ تعالیٰ، آخرت اور قبر و حشر کے سوا کسی چیز کا خیال بھی نہ آنے پائے۔ یہ روزہ اللہ کے مقرب بندوں کو ہی نصیب ہوتا ہے۔روزہ کا مقصد نفس کی اصلاح ہے۔ اسی لیے روزے کو گناہوں سے بچنے کے لیے ڈھال کہا گیا ہے۔ روزہ دار کو لڑنے جھگڑے، غصہ کرنے، بدزبانی اور جھوٹ سے منع فرمایا گیا ہے۔ فرمانِ نبوی ہے: اگر تم میں سے کسی کا روزہ ہو تو وہ اپنی زبان سے کوئی فحش بات نہ کہے اور جاہلوں جیسا کوئی کام نہ کرے۔اگر اس سے کوئی لڑے یا گالی دے تو کہہ دے کہ میں روزے سے ہوں۔ ایک اور حدیث میں ہے: جب ایک آدمی روزہ رکھنے کے باوجود جھوٹ بولتا ہے اور دھوکہ فریب سے باز نہیں آتا تو خدا کوکوئی ضرورت نہیں کہ وہ بھوکا پیاسا رہے۔ اگر شرائط و آدب کالحاظ رکھاجائے تو روزے سے نہ صرف انفرادی طورپر محنت، ضبط وتحمل، بردباری اوررحم کی صفات پیدا ہوتی ہیں، بلکہ پورے معاشرے میں احتساب کا ماحول پیدا ہوجاتا ہے۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.