موت کی شروعات قدموں سے کیوں ہوتی ہے۔

امام علی علیہ السلام کی خدمت میں ایک شخص آکر عرض کرنے لگا یا علی انسان کی روح نکلنے کا اختتام آنکھوں پر کیوں ہوتا ہے بس جیسے ہی یہ پوچھا گیا تو امام علی ؓ نے فرمایا اے شخص یادرکھنا اللہ نے انسان کی روح نکالتے وقت شروعات قدموں سے اس لئے کی تا کہ مرنے والے انسان کو زندہ انسان دیکھ لیں

کہ موت کے وقت وہ کہیں بھی بھاگ نہیں سکتا اور روح نکلنے کا اختتام آنکھوں پر اس لئے کیا تا کہ مرنے والا انسان اپنے حقیر جسم کی بے بسی دیکھ لے کہ آج یہ وہی جسم ہے جو اس کے اشاروں پر چلتا تھا اور اسی جسم کی خواہشات تلے وہ اللہ کی نافرمانی کیا کرتا تھا لیکن افسوس آج یہی جسم بے جان و بے بس پڑا ہے یاد رکھنا میں نے اللہ کے رسول ﷺ سے سنا کہ جو انسان اپنے وجود سے انسانوں کی مدد کرتا ہے۔ اللہ اس کی موت آسان کرتا ہے اور جو انسان اپنے وجود سے اللہ کی مخلوق پر ظلم کرتا ہے اللہ اس کی موت کو سخت کردیتا ہے ۔اسلام ایک بہترین مذہب ہے۔ اس میں تکلیف دینے کسی کو اور خود کو دوںوں ہی کی سزا ہے۔ انسانی جسم سے روح کس رفتار سے قبض ہوتی ہے یا موت کتنی تیزی کے ساتھ انسانی جسم

میں سرایت کرتی ہے؟ اس بات کو تلاش کرنے کے لیے امریکا کے ماہرین نےتحقیق کی۔ طبی ماہرین اور محققین نے مختلف تحقیقات کر کے نتائج اخذ کرنے کی کوشش بھی کی اسی طرح امریکا کے ماہرین نے ایک اور مطالعاتی تجزیہ کیاجس میں روح قبض ہونے کی رفتار کو دیکھا گیا۔ امریکا کی سٹینفرڈ یونیورسٹی کے ماہرین نے دعویٰ کیا ہے کہ موت کے کچھ عرصے بعد تک انسان کے بال اور ناخن بڑھے رہتے ہیں جس کی اہم وجہ یہ ہے۔ کہ جسم کے تمام خلیات بیک وقت مردار نہیں ہوتے بلکہ موت انسانی جسم میں آہستہ آہستہ سفر طے کرتی ہے۔ماہرین نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ انسانی جسم میں موت کے پھیلاؤ کی رفتار ریکارڈ کرنے اور اس کا مشاہدہ کرنے میں بھی کامیاب ہوگئے۔ محققین کا کہنا ہے کہ موت تقریباً دو میٹر فی گھنٹے کی رفتار سے انسانی جسم میں سفر کرتی ہے۔تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ ہمارے جسم کے خلیات (سیلز) کے درمیان ایک سینٹی میٹر کا فاصلہ ہے۔ انسان کو

مکمل مرنے میں تقریباً پانچ گھنٹے کا وقت درکار ہوتا ہے۔امریکی جریدے سائنس اینڈ ہیلتھ میں شائع ہونے والی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ روح قبض ہونے کی رفتار کو کمپیوٹیشنل ماڈل کے ذریعے ریکارڈ کیا گیا۔ یہ انتہائی پیچیدہ عمل تھا جس میں کئی بار ناکامی کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ماہرین کے مطابق انسانی جسم کے خلیات میں موت کے سفر کو شعبہ طب کی زبان میں ایپوپٹوسس کہتے ہیں۔ جس کا عملی مشاہدہ پہلی بار جدید لیب میں کیا گیا۔یاد رہے کہ گزشتہ برس دسمبر میں ماہرین نے موت کے بعد انسانی دماغ کے کام کرنے کے حوالے سے تحقیق کی تھی جس کی بنیاد پر ماہرین نے دعویٰ کیا تھا کہانسان کو اپنی موت کا خود بھی احساس ہوتا ہے کیونکہ اس وقت دماغ کام کررہا ہوتا ہے۔ ماہرین نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ طویل عرصے بعد از موت کے حوالے سے جاری تحقیق کے حتمی نتیجے پر پہنچ چکے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.