عورتوں کو توحیض ہو تا ہے تو عورتیں کس طرح کسی روزے کے کفارے میں مسلسل روزے رکھے؟

آج ایک سوال آیا سوال یہ ہے کہ میں نے ایک روزہ رکھ کر توڑ دیا تھا جس کا کفارہ مجھ پر مسلسل ساٹھ روزے رکھنا ہے آپ سے مجھے یہ معلوم کر نا ہے کہ میں یہ روزے کس طرح رکھوں کیونکہ بیچ میں روزے ٹوٹنے کا خدشہ ہے۔ چلتے ہیں اس سوال کے جواب کی جانب اس سوال کا جواب یہ ہے کہ اگر

روزہ رمضان کا توڑا تھا تو ساٹھ روزے مسلسل رکھنا ضروری ہے اگر درمیان میں ایک بھی ناغہ ہو گیا تو دوبارہ سے نئے سرے سے شروع کر یں یہاں تک کہ ساٹھ روزے پورے ہو جا ئیں اور روزہ قضا ء کا بھی رکھیں ایام درمیان میں آ جا ئیں تو مجبوری ہے ۔ یہ مسئلہ تو رمضان کا روزہ توڑنے کا ہے اور اگر عام روزوں میں سے کسی روزے کو توڑ دیا ہو تو ایک روزہ رکھ لینا کافی ہو گا۔ اسی طرح ایک اور سوال آ یا سوال یہ ہے کہ اگر جان بوجھ کر روزہ جا ئے تو اس کا کفارہ کس طرح ادا کیا جا ئے گا؟ چلتے ہیں اس سوال کے جواب کی جا نب اس سوال کا جواب یہ ہے کہ اگر کوئی شخص کمزور ہو اور بھوک پیاس کی وجہ سے زندگی کا خطرہ لاحق ہو جا ئے تو روزہ کھول دینا جا ئز ہے اور اگر ایسی حالت نہیں تھی اور

روزہ توڑ دیا تو اس کے ذمہ قضا ء اور کفارہ دونوں لازم ہیں کفارہ یہ ہے۔ کہ دو مہینے کے روزے پہ در پہ رکھیں اور اگر اس کی طاقت نہ ہو تو ساٹھ مسکینوں کو دو وقت کا کھانا کھلائے اللہ پاک ہم سب کو دین کی سمجھ عطا فر ما ئے اور اس کے مطا بق زندگی بسر کرنے کی توفیق عطا فر ما ئے۔ روزہ معاف نہیں ہے، البتہ روزہ رکھنا ممنوع ہے، حیض کی وجہ سے جو روزے چھوٹ جائیں بعد رمضان المبارک چھوٹے ہوئے روزوں کی قضا واجب ہے۔ کہنے کا میرا مقصد یہ ہے کہ ہمارا جو مذہب ہے وہ بہت ہی پاک ہے اگر ہم اپنے مذہب پر عمل کرے اپنی زندگیاں گزارتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے۔ کہ ہم اپنی زندگیاں آسان کر رہے ہیں اگر ہم اپنی زندگیاں آسان نہیں کر نا چاہتے تو ہمیں چاہیے کہ ہم اسلام کے مطا بق زندگی نہ گزاریں۔

یہ تمام باتیں میرا یہاں پر کہنے کا مقصد صرف اتنا ہی ہے کہ ہماری زندگی جو ہے وہ اسلام کے مطا بق ہی ہو نی چاہیے کیونکہ ہماری زندگی کا ہر کوئی مسئلہ جو ہے وہ اسلام سے ہی مل سکتا ہے۔ اسلام سے ہی ہمارے ہر مسئلے کا حل مل سکتا ہے۔ اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم اسلام پر عمل کر یں اور چھوٹی چھوٹی جو پیچیدگیاں ہیں ان کو مدِ نظر رکھتے ہو ئے اسلام سے مدد حاصل کر ے ۔ تا کہ ہماری زندگی کا جو بھی مسئلہ ہے وہ حل ہو سکے۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *