اگر ہاتھوں کو ملانے سے ب کا نشان بنتا ہے تو ساری زندگی پچھتانے سے بہتر ہے ؟

اس تحریر میں آپ کے ہاتھوں کی جو لکیریں ہے ان کے عمل کی آپ کی زندگی پر کیا تاثر ہے اس پر بات کریں گے اس کے کیا فائدے ہیں اور کیانقصان ہیں اور ہوتا کیا ہے ان لکیروں میں۔مسلمان ہونے کے ناطے ہم ان چیزوں پر بہت زیادہ یقین نہیں کرتے آپ اس کا نالج ضرور رکھئے لیکن اس کو یہ

نہ سمجھئے کہ حرف آخر ہے کیونکہ ہوتا وہی ہے جو اللہ کی ذات چاہتی ہے کیونکہ آخر کار ہر چیز میرے مولا کے دست قدرت میں ہے ۔اگر آپ کے ہاتھ دونوں ملنے سے آپ کے سب سے اوپر والی لیئر انگلیوں کی قریب ترین جو سب پہلی بڑی موٹی گاڑھی لکیر ہے اگر یہ دونوں ہاتھوں کی لکیریں ملنے سے ب نما شیپ بنتی ہے تو اس کا کیا مطلب ہے اگر آپ کا ب بنتا ہے تو سب سے پہلا فائدہ یہ ہے کہ وہ لوگ جن کا ب بنتا ہے ان لوگوں کو اپنی زندگی میں فیصلے کرنے کی جرات ہوتی ہے ہمت ہوتی ہے اور وہ کسی پر انحصار نہیں کرتے دوسرا اور ا بنیادی فائدہ یہ ہے کہ جن لوگوں کے ہاتھوں کی ب بنتی ہے ان لوگوں کو زیادہ معاشی استحکام کا سامنا ہوتا ہے معاشی استحکام کا سامنے کا مطلب یہ ہے کہ ان کی جیب ہمیشہ گرم رہتی ہے

اور تیسرا اور اہم فائدہ یہ ہے کہ ان لوگوں کو کبھی زندگی میں کسی مقام پر کسی کے سہارے کی ضرورت نہیں پڑتی سوائے اللہ تبار ک وتعالیٰ کے اور دعا یہ کرنی چاہئے کہ انسان کو سہارا بھی صرف اللہ کی ہی ذات کا درکار ہو کسی نے کیا خوب کہا ہے سہارے ڈھونڈے والے سہارے مار دیتے ہیں۔ لہٰذا سہاروں سے بچنے کے لئے بہترین طریقہ یہ ہے کہ آپ اللہ تبارک وتعالی کی ذات سے دعا کیجئے کہ آپ کی زندگی میں کبھی بھی کسی بھی قسم کی محتاجی نہ آئے ۔آپ کے ہاتھوں کی جو ب ہے اس کو بننے کا چوتھا فائدہ یہ ہے کہ وہ لوگ جن کے ہاتھوں کی ب بنتی ہے وہ لوگ بہت ہی زیادہ ذہین ہوتے ہیں اور ان لوگوں کوزندگی میں کبھی بھی کسی بھی قسم کی مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑتا اور اس لئے نہیں کرنا پڑتا کیونکہ وہ کسی

کے اوپر انحصار نہیں کرتے اور انہیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے کس جگہ پر کیا کرنا ہے کیا ایکٹیویٹی کیا افیکٹ کرنے ہیں مختلف چیزوں کے حوالے سے اور اسی لئے وہ کسی پر انحصار نہیں کرتے اور یہی ان کی کامیابی کا راز بھی ہوتا ہے اللہ کی ذات آپ کی اور ہماری حامی و ناصر ہو۔شکریہ

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *