کن حاملہ عورتوں کی گھر بچہ پیدا ہو نا سو فیصد بیٹا ہی ہوتا ہے۔ آپ ﷺ کے فرمان کے مطا بق جا نیں۔

لڑکا ہو یا لڑکی یہ بات ہمیشہ پورے خاندان والے پوچھ رہے ہوتے ہیں جو جوڑا امید سے ہو تا ہے یعنی جو خاتون امید سے ہوتی ہے اس سے پورے خاندان والے پوچھ رہے ہو تے ہیں کہ لڑکا ہے یا لڑکی ہے آپ کےہاں لڑکا ہونے والا ہے یا لڑکی ہونے والی ہے تو اکثر ٹیسٹ کروائے جا تے ہیں الٹراساونڈ کروا یا جا تا ہے

جس سے یہ پتہ چلتا ہے ۔ لیکن آج میں آپ کے ساتھ کچھ ایسے طریقے شئیر کر وں گا جن طریقوں کے ذریعے آپ پتہ چلا سکتے ہیں کہ آیا لڑکی ہے یا لڑکا ہونے والا ہے اور یہ ایسی بنیادی اور سائنسی اسلامی پوائنٹ آف ویو سے یہ ٹرکس ہیں جن کے ذریعے پتہ لگوا سکتے ہیں۔ کہ لڑکی پیدا ہونے والی ہے یا لڑکا۔ تحقیق سے یہ ثابت بھی کروں گا کہ کس طرح سے پتہ چلے گا اس سے پہلے کہ میں آگے بڑھوں آپ سے گزارش ہے کہ میری ان باتوں کو بہت ہی زیادہ غور سے سنیے گا کیونکہ ان باتوں میں آپ کے لیے بہت ہی زیادہ انفارمیشن اور فائدہ مند باتیں موجود ہیں۔ چین میں ہونے والی ایک نئی تحقیق ہے کہ وہ ایک بڑا دلچسپ قسم کا سروے وہاں پر کیا گیا ہے جس کے نتائج جن کے مطابق بالکل ابتدائی مرحلے میں اور حمل ٹھہرنے

سے پہلےہی خاتون لڑکے کو یا لڑکی کو جنم دینے والی ہے۔ یا پھر کسی لڑکی کو۔ ماہرین کے مطا بق اگر نتائج دوسرے کسی نوعیت کے مطابق درست ہو ئے تو یہ ایک حیرت انگیز دریافت ہو گی حال ہی میں چین میں کیے گئے ایک مطالعاتی سروے کے مطا بق معلوم ہوا ہے کہ ماں کا اوسط بلڈ پریشر بچے کی جنس کا پتہ دے سکتا ہے تا ہم بعض سائنس دانوں کی تحقیق ہے کہ ماں کی بہترین غذا بچے کی غذا کی وجہ بنتی ہے اگر غذا کو کم توانائی میں لیا جا ئے تو لڑکی کی پیدائش کی وجہ بنتی ہے ۔ لیکن اس مفروضے کی صداقت کے لیے بھی طویل مطالعہ درکار ہے۔ قرآن میں بیٹوں اور بیٹیوں کی پیدائش ہمارے اللہ کا فرمان ہے۔ کہ میں جسے چاہتا ہوں بیٹے عطا کر تا ہوں اور جسے چاہتا ہوں بیٹیاں عطا کر تا ہوں اور اس کے ساتھ ساتھ جسے

چا ہتا ہوں دونو ں ہی عطا کر تا ہوں اور جسے چا ہتا ہوں بانج کر دیتا ہوں۔ میڈیکل سائنس نے تو اس پر زیادہ تفصیل بیان کر رکھی ہے بچوں کی جنس پر کر و مو سو مز کی ااہمیت رکھتے ہیں اور اس پر کسی کو قدرت نہیں ہے حالانکہ یہی نظریہ چودہ سو سال رسول ِ کریم ﷺ نے کھول کر بیان کر دیا تھا کہ سائنسی تحقیق سے بہت پہلے کا ہے جب بچوں کی جسمانی جو پریکٹیسز ہیں جو کر و مو سو مز ہیں لیبارٹری میں نہیں ہو تی تھی تو یہ علم اللہ نے اپنے نبی ﷺ کو عطا کیا تھا۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *