یہ وظیفہ رات کو سونے سے پہلے کرلیں اللہ کی قدرت کے نظارے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں

یہ وظیفہ اسمائے حسنی میں سے ایک اسم کا وظیفہ ہے اور وہ ہے العلیم کا وظیفہ اس کا معنی ہے سب کچھ جاننے والا یعنی وہ ذات جو سب کچھ جانتی ہے اس کو علیم کہتے ہیں اور بے شک میرے اللہ کی ذات علیم ہے اور یہ جو علیم کا لفظ ہے یہ قرآن پاک میں ایک سو ستاون بار آیا ہے اور العلیم کا لفظ تیرہ مرتبہ

قرآن مجید میں آیا ہے اس کی فضیلت اور اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگا لیں کہ یہ قرآن پاک میں ایک سو ستاون دفعہ آیا ہےکیونکہ یہ اللہ کے علم کو ظاہر کرتا ہے اور علیم وہ ذات ہوتی ہے جو ہر چیز کے ظاہر و باطن کو اور یہاں تک کہ اس چیز کے وجود سے پہلے اور بعد کے حالات سے بھی واقف ہو یہاں تک کہ کسی بھی ذات کے اندر جو نظریات ہوں جو چاہے قلب کے اندر ہی چھپے ہوئے ہوں یا اس میں پہلے تھے یا بعد میں سارے کے سارے احوال سے واقف ہے اس کو علیم کہتے ہیںاور میرے اللہ کے علم سے اس پوری کائنات کی کوئی بھی چیز باہر نہیں ہے پوری کائنات کے ذرے ذرے پر میرے اللہ کا علم حاوی ہے تو یہ علیم ذات ہےاور علیم بہت بابرکت نام ہے اور خاص طور پر اللہ تبارک وتعالیٰ کے نام کا مظہر ہے اس لئے اس کے فضائل و فوائد میں لکھا ہے کہ اگر کوئی شخص یہ چاہتا ہو کہ وہ علم و معرفت کے دروازے اس پر کھل جائیں تو وہ کثرت کے ساتھ یاعلیم کا

ورد کرے تو اللہ تبارک وتعالیٰ اس کے دل کے دروازے علم کے لئے کھول دے گا۔یہ اتنا زبردست نام ہے اللہ جل شانہ کا کہ جو بندہ پڑھے گا تو اللہ تعالیٰ اس کو ایسا ایسا علم عطا کرے گا کہ اس کی اپنی سوچ میں بھی نہیں ہوگاکیونکہ ہر چیز کا علم میرے اللہ کو ہے اور وہ جس کو چاہے جو چاہے عطا کر دے حضرت بایزید بسطامی ؒ کا نام تو سنا ہی ہوگا تو ان کا ایک واقعہ بھی ہے اس حوالے سے جس سے آپ کو علم کی اہمیت اور اس کی افادیت کا پتہ چلے اور یہ علم کی برکت ہی ہے کہ حضرت بایزید بسطامی ؒ کا نام آج بھی ہمارے دلوں کے اندر زندہ ہے یہ اللہ کے ولی گزرے ہیں وہ فرماتے ہیں کہ ایک دن میں مراقبے میں اپنی خلوقت و راحت سے لذت حاصل کر رہا تھااپنے ذکر سے انسیت حاصل کررہا تھا اچانک آواز آئی اے ابو

یزید سامان جاؤ اور وہاں کی راہبوں کے ساتھ ان کی عید و قربانی میں شریک ہو ہمیں وہاں ایک اہم معاملہ درپیش ہیں وہ فرماتے ہیں کہ میں نے اس آواز کو وسوسہ خیال کر کے اللہ سے پناہ چاہی اور میں نے جی میں کہا کہ میں اس وسوسے کو خاطر میں نہیں لاتا اور جب رات ہوئی تو پھر نیند میں دیکھ کہ دیر سامان جاؤ میں بیدار ہو ا تو بے قرار ہو کر لرزنے کانپنے لگامجھ پر اس کا اتنا اثر تھا کہ مفلوج آدمی سنے تو کھڑا ہوجائے اور مجھے دوران مراقبہ کہا گیا کہ تم ہمارے نزدیک اولیائے اخیار میں سے ہو اور نیک لوگوں کے ہاں تمہارا نام درج ہے تم کچھ محسوس نہ کرو اور راہبوں کا لباس بدل لو اور ہماری خاطر زنار باندھ لو ۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمی

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *