صرف 5روپے کے سکے کا وظیفہ یہ عمل جس نے کرلیا اتنی دولت آئیگی

امام بغوی ؒ (شرح السنہ) میں روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابو سعید خدری ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا:”اللہ کے نبی موسیٰ ؑ نے اللہ تعالیٰ کے حضور میں عرض کیا کہ اے میرے رب مجھ کو کوئی کلمہ تعلیم فرما، جس کے ذریعے مَیں ترا ذکر کروں تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے موسیٰ لا الہ الا اللہ کہا کرو۔

انہوں نے عرض کیا کہ اے میرے رب! یہی کلمہ تو تیرے سارے ہی بندے کہتے ہیں،مَیں تو وہ کلمہ چاہتا ہوں جو آپ خصوصیت سے مجھے ہی بتائیں؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:کہ اے موسی ؑ اگر ساتوں آسمان اور میرے سوا وہ سب کائنات جس سے زمین کی آبادی ہے اور ساتوں زمینیں ایک پلڑے میں رکھی جائیں اورلا الہ الا اللہ دوسرے پلڑے میں،لا الہ الا اللہ کا وزن ان سب سے زیادہ ہو گا۔ حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ آنحضرتﷺ ہر لحظہ اور لمحہ اللہ کی یاد میں مصروف رہتے تھے۔ ابن ماجہ میں لکھا ہے کہ حضرت ربیعہ بن کعب اسلمی ؓ رات کو آپ کے آستانہ اقدس پر پہرہ دیتے تھے۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ آپ کی تسبیح اور تہلیل کی آواز سنتے سنتے میں تھک جاتا تھا اور مجھے نیند آ جاتی تھی۔ بقول علامہ شبلی نعمانی ؒ اور علامہ سید سلیمان ندوی ؒاُٹھتے بیٹھتے، چلتے پھرتے، کھاتے پیتے۔ سوتے، جاگتے، وضو کرتے، نئے کپڑے پہنتے، سوار ہوتے، سفر میں جاتے، واپس آتے، گھر میں داخل ہوتے،

مسجد میں قدم رکھتے، غرض ہر حالت میں دل و جان ذکر الٰہی میں مصروف رہتے۔آپ سواری پر بیٹھے بیٹھے نفل ادا فرماتے۔ سواری کا جانور جدھر چل رہا ہے آپ ادھر ہی چہرہ مبارک نماز کی نیت فرما لیتے۔ اس کی پرواہ نہیں فرماتے تھے کہ قبلہ کی طرف رُخ ِ مبارک ہے یا نہیں۔ آپ میدانِ جنگ میں بھی یاد الٰہی سے غافل نہیں تھے۔ بدر کے غزوہ میں خشوع و خضوع سے دونوں ہاتھ پھیلا کر بارگاہِ ایزدی میں دُعا کر رہے تھے۔ اس بے خودی کے عالم میں ردائے مبارک کندھے سے گر پڑی اور حضور کو خبر تک نہیں۔ حضرت علی ؓ تین بار میدان جنگ میں حاضر ہوتے ہیں اور ہربار یہ دیکھتے ہیں کہ پیشانی مبارک زمین پر ہے۔دور حاضر کی بے سکونی اور ذکر الٰہی: دورِ حاضر میں بے سکونی کی کیفیت ذکر الٰہی سے بہتر بنائی جا

سکتی ہے۔ اہل مغرب کے ہاں خود کشیاں روحانیت سے فرار کی وجہ سے ہیں۔ پاکستانی معاشرے میں بھی بے سکونی یاد الٰہی سے غفلت کی و جہ سے ہے۔ نت نئی جسمانی اور نفسیاتی بیماریاں یادِ الٰہی سے غفلت کی وجہ سے ہیں۔ بلا شبہ ذکر الٰہی سے غفلت کی وجہ سے ہیں۔ بلاشبہ ذکر الٰہی دلوں کو سکون بخشتا ہے۔آج کا وظیفہ آپ نے اپنی تنخواہ میں صرف پانچ روپے انشاء اللہ پڑھ کر جو حاجت ہے اس کو تصور میں رکھ کر ایک سائیڈ پررمضان آنے تک رکھتے رہنا ہے اور جب رمضان آجائے تو کسی حاجت مند کو یہ پیسے دے دینے ہیں انشاء اللہ آپ کے اس عمل کیوجہ سے آپ کی جو حاجت ہوگی وہ پوری ہوجائیگی ۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *