شعبان المعظم کے آخری دنوں میں سے کسی بھی دن میٹھی چیز پر یہ عمل کرلیں

بسم اﷲ الرحمٰن الرحیم قرآن مجید کی کنجی ہے، ہر دینی اور دُنیوی جائز کام کی کنجی ہے، جو کام اس کے بغیر کیا جائے ناقص رہتا ہے۔ بسم اﷲ میں ۱۹ حروف ہیں اور دوزخ میں عذاب کے فرشتے بھی انیس ہیں، لہذا امید ہے کہ اس کے ایک ایک حرف کی برکت سے ایک ایک فرشتے کا عذاب دُور ہوجائے۔

دوسری خوبی یہ ہے کہ دن اور رات میں چوبیس گھنٹے ہیں۔ جن میں سے پانچ گھنٹے پانچ نمازوں نے گھیر لئے اور انیس گھنٹوں کے لئے بسم اﷲ کے انیس حروف عطا فرمائے گئے، اس طرح جو شخص بسم اﷲ کا ورد کرتا رہے ان شاء اللہ اس کا ہر گھنٹہ عبادت میں شمار ہوگا اور اس کے گن اہ معاف ہوں گے۔حضرت موسیٰ ؑ سے اﷲ تعالیٰ نے فرمایا: اے موسیٰؑ شفا تو میرے نام میں سے ہے، میرے نام کے بغیر دنیا کی ہرچیز زہر قات ل ہے اور میرا نام اس کا تریاق ہے۔ حضرت موسیٰ ؑ ایک قبر کے قریب سے گزرے تو دیکھا کہ اس میت پر عذاب ہورہا ہے۔ یہ دیکھ کر آپ آگے تشریف لے گئے اور جب واپس ہوئے تو اس قبر میں نور ہی نور دیکھا اور اب وہاں رحمت الٰہی کی بارش ہورہی تھی۔ آپ بہت حیران ہوئے اور بارگاہ الٰہی میں عرض کیا کہ یہ کیا راز ہے۔ ارشاد ہوا کہ اے موسیٰؑ یہ بندہ سخت گن ہگار اور بدکار تھا، اس وجہ سے عذاب میں گرفتار تھا، لیکن آج اس کے لڑکے کو مکتب میں

بھیجا گیا اور استاد نے اسے بسم اﷲ پڑھائی۔ ہمیں حیا آئی کہ میں زمین کے اندر اس شخص کو عذاب دوں اور اس کا بچہ زمین پر میرے رحمن و رحیم ہونے کا ذکر کرے۔ اس سے معلوم ہوا کہ بچوں کی نیکی سے ماں باپ کو نجات ملتی ہے۔آپ کو ایک مختصر سا وظیفہ بتائیں گے جو کہ روزانہ کرنا ہے آپ نے اچھی طرح وضو کرکے نماز فجر کے بعد 2رکعت صلوۃ الحاجت پڑھنے کے بعد 41مرتبہ سورۃ فاتحہ اور اول وآخرتین مرتبہ درود پاک پڑھ کر میٹھی چیز پر دم کرکے گھر میں سب لوگ کھالیں ۔پھر آپ نے سجدے کی حالت میں اپنے مشکلات کے حل کیلئے دعا مانگنی ہے انشاء اللہ رب کریم آپ کی ہر دعا کو قبول فرمائے گا ۔اس قرآنی عمل کی برکت سے آپ کی تمام مشکلات ختم ہوجائیں گی ۔ حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ

ﷺ حضرت اُم سلیم ؓ کے گھر تشریف لے گئے انہوں نے رسول اللہﷺ کی خدمت میں کھجور اور گھی پیش کیا نبی کریمﷺ نے فرمایا کہ گھی اور کھجور کو برتن میں رہنے دو میں روزے سے ہوں ۔ پھر آپ گھر کے ایک کونے میں کھڑے ہوکر صرف نفل نماز ادا کی اور اُم سلیم اور گھر کے دوسرے افراد کیلئے دعا فرمائی ۔ حضرت اُم سلیم بولیں یارسول اللہﷺ آپﷺ نے صرف میرے لیے دعا کی آپﷺ نے فرمایا اور کس لیے کرتا حضرت اُم سلیم ؓ نے عرض کیا اپنے خادم انس ؓ کیلئے دعا فرمائیں چنانچہ نبی کریمﷺ نے حضرت انس ؓ کیلئے دنیا اور آخرت کی بھلائی کیلئے دعا مانگی کہ اے اللہ تعالیٰ اسے

مال اور اولاد بخش اور اسے برکت عطاء فرما ۔ حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ میں انصار میں سے زیادہ مالدار ہوں ۔ بتایا کہ حجاج کے بصرا آنے کے وقت تک میری نسل میں 120سے زیادہ بچے دفن ہوچکے ہیں بحوالہ بخاری شریف دعا کی اتنی زیادہ طاقت ہے تو اس کا آپ اندازہ بھی نہیں لگا سکتے ہیں آپ کو کوئی پریشانی ومصیبت ہے تو اس کیلئے دعا مانگیں ۔دعا ہی انسان کی تقدیر کو بدل سکتی ہے ۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *