رمضان سے پہلے جو بندہ یہ کام نہیں کرتا وہ اپنی قسمت پر خود روتا ہے

ماہ رمضان قریب آ چکا ہے خوش نصیب ہو گا وہ جسے ایک بار پھر رمضان المبارک کی مبارک ساعتیں میسر آئیں گی اور انتہائی بد نصیب ہو گا وہ جسے یہ ماہ مبارک ملے اور وہ اس سے فائدہ نہیں اٹھا سکے رمضان المبارک سے بھر پور فائدہ اٹھانے کے لئے ضروری ہے کہ پہلے سے ہی اس کی تیاری کی

جائے حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم رمضان کے بعد سب سے زیادہ روزے ماہ شعبان میں رکھتے تھے اس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ شعبان کا مہینہ جو رمضان المبارک سے بالکل متصل ہے تیاری کے لئے موزوں مہینہ ہے ۔یہ حقیقت ہے کہ انسان کسی بھی مشق سے بغیر منصوبہ بندی اور ذہنی تیاری کے فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔ انسان کی اسی نفسیات کو مدنظر رکھتے ہوئے اﷲ کے رسول اکرم ﷺ نے بھی شعبان کے آخری روز ایک بلیغ خطبہ ارشاد فرمایا تھا، جس میں رمضان کے فضائل کے ساتھ اس کی خصوصیات کا بھی ذکر فرمایا اور اس میں زیادہ سے زیادہ نیکیاں کمانے کی تلقین بھی کی۔حضرت سلمان فارسیؓ بیان کرتے ہیں کہ ماہِ شعبان کے آخری دن رسول اﷲ ﷺ نے ہمیں ایک اہم خطبہ دیا اور اس میں آپؐ نے فرمایا: اے لوگو! تم پر ایک عظمت اور برکت والا مہینہ سایہ فگن ہو رہا ہے جس کی ایک رات (شب قدر) ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ سورۃ البقرۃ میں بھی اس مہینے کے روزے کی فرضیت کا اعلان کیا گیا ہے: تو جو کوئی بھی تم میں سے اس مہینے کو پائے اس پر لازم ہے کہ روزہ رکھے۔اس مہینے میں روزہ رکھنا تو

فرض ہے جب کہ رات کا قیام نفل ہونے کے باوجود بہت ہی اجر و ثواب کا باعث ہے۔ قیام اللیل کا اطلاق سورۃ المزمّل کی آیات کی روشنی میں کم سے کم ایک تہائی رات پر ہوتا ہے لیکن خلفائے راشدین کے دور سے ہی اس کا کم سے کم نصاب اُمت کے اندر رواج پاگیا ہے اور وہ ہے نظامِ تراویح۔ یہ قیام اللیل بہت اجر و فضیلت کا باعث ہے۔حضور اکرم ﷺ نے فرمایا: جو شخص اس مہینے میں اﷲ کی رضا اور اس کا قرب حاصل کرنے کے لیے کوئی غیر فرض عبادت (یعنی سنّت یا نفل) ادا کرے گا تو اس کو دوسرے زمانے کے فرضوں کے برابر اس کا ثواب ملے گا اور اس مہینے میں فرض ادا کرنے کا ثواب دوسرے زمانے کے ستّر فرضوں کے برابر ملے گا۔ انسان جو بھی نیکی کرے وہ خالصتاً اﷲ کی رضا کے لیے ہونی چاہیے اس لیے کہ اگر نیّت ریا کاری اور شہرت کی ہو تو وہ نیکی برباد ہوجائے گی۔ اس ماہ میں خلوصِ نیّت سے ادا کیے گئے نفل کا ثواب فرض کے برابر اور ایک فرض کا ثواب ستّر فرضوں کے برابر ہو جاتا ہے۔ اسی لیے اس ماہ کو نیکیوں کا موسم بہار کہا جاتا ہے۔اس ماہ کی خصوصیات کا ذکر کرتے ہوئے رسول اکرمؐ نے فرمایا: یہ صبر کا مہینہ ہے اور صبر کا بدلہ جنّت ہے۔ یہ مہینہ واقعی صبر کا ہے اس لیے کہ اس میں جائز، حلال اور طیّب چیزوں

سے بھی انسان صبح صادق سے غروبِ آفتاب تک رُکتا ہے۔ یہ رکنا دراصل صبر اور تقویٰ کی تربیت ہے۔ انسان کی نفسانی خواہشات میں حدود کو پھلانگنے کا رجحان پایا جاتا ہے جب کہ تقویٰ یہ ہے کہ انسان سارا سال اپنے آپ کو حرام سے روکے رکھے گناہ سے باز آجائے اور منکرات سے اجتناب کرے، اسی کا نام صبر ہے۔ہم سمجھتے ہیں کہ کسی تکلیف یا مصیبت کو خندہ پیشانی سے برداشت کرلینا ہی صبر ہے جب کہ حقیقت میں صبر کا مفہوم بہت جامع اور ہمہ گیر ہے۔ چناں چہ امام راغب اصفہانیؒ نے صبر کے تین درجے مقرر کیے ہیں (1) گناہوں سے اپنے آپ کو روکنا (2) اطاعت، بندگی اور دینی فرائض کی ادائی پر کاربند ہونا (3) مشکلات اور سختیوں میں صبر کرنا۔ خاص طور پر اقامت دین کی جدوجہد کے مراحل میں آنے والی سختیوں کو جھیلنا برداشت کرنا اور پھر استقامت کا مظاہرہ کرنا۔ اس اعتبار سے گویا پورا دین صبر کی تشریح میں شامل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید میں کئی مقامات پر صبر کو جنّت کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے ۔اس مبارک مہینے کی دوسری خصوصیت یہ ہے

کہ یہ ہم دردی اور غم خواری کا مہینہ ہے۔ اس ماہ میں غم گساری اور ہم دردی کے احساسات انسان میں پیدا ہوتے ہیں۔ غالباً اس کا سبب یہ ہے کہ خوش حال اور کھاتے پیتے گھرانے کے لوگ جب روزہ رکھتے ہیں تو انہیں کم از کم ان لوگوں کا احساس ضرور ہوتا ہے جو فاقوں میں زندگی گزارتے ہیں۔اس ماہ کی تیسری خصوصیت یہ ہے کہ اور یہی وہ مہینہ ہے جس میں مومن بندوں کے رزق میں اضافہ کیا جاتا ہے۔ عام طور پر روزہ رکھنے سے کچھ لوگ اس لیے بھی کتراتے ہیں کہ سارا دن مشقت نہیں ہوسکے گی تو ہماری کارکردگی پر فرق پڑے گا اور اس طرح ہماری کمائی میں کمی آسکتی ہے۔ اس اندیشے کا ازالہ کردیا کہ ہرگز ایسا نہیں ہے۔ بندۂ مومن کو یقین ہونا چاہیے کہ روزے کی وجہ سے اس کے رزق میں کوئی کمی نہیں آئے گی، چاہے کارکردگی عام دنوں سے کم ہوجائے۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *