خاوند کی حرام کاری سے نجات کا مجرب وظیفہ

آج کا وظیفہ ایسی خواتین کے لیے پیش کیا جا رہا ہے جو اپنے شو ہروں کی حرام کاری کی وجہ سے بہت ہی زیادہ پریشان ہیں اور وہ چاہتی ہیں کہ ان کے شوہر اس حرام کاری کے کام سے باہر نکل آ ئیں اس حرام کار ی کے کام سے نجات حاصل کر لیں تا کہ ان کی زندگیوں میں بھی سکون پیدا ہو جائے۔

جیسا کہ ہر عورت کی یہی چاہت ہوتی ہے کہ اس کا مرد صرف اور صرف ا س کو ہی چاہے اور کسی کو نہ چاہے اور اگر ایسا ویسا کچھ ہو جائے ایسا ویسا کچھ ہو جا نے سے مراد یہ ہے کہ اگر مرد کسی ایسی محفل کا حصہ بن جا تا ہے کسی ایسے دوستوں کی محفل کا حصہ بن جا تا ہے جو فحاش ہوتے ہیں اور اس کے شوہر کو غلط تجویزیں دیتے ہیں تو وہ بہت ہی زیادہ پریشان ہو جاتی ہیں۔ اور اس حوالے سے بہت سے سنگین نتائج بھی سامنے آئے ہیں کہ شوہروں کی اس حرام کاری کی و جہ سے کئی عورتیں خود کشیاں بھی کر لیتی ہیں کیو نکہ ان کی زندگی میں سکون ہی نہیں ہوتا ان کی زندگی میں سکون نام کی کوئی شیے ہی نہیں ہوتی۔ تو آج کا وظیفہ انہی عورتوں کے لیے ہی ہے جن کی زندگی ان کے شوہروں کی حرام کاری کی وجہ سے خراب ہوئی ہوئی ہے اور وہ چاہتی ہیں کہ ان کی زندگی میں سکون پیدا ہو جائے۔ ان خواتین کے لیے خاص طور پر دیا جا رہا ہے جو اپنے خاوند کی وجہ سے پریشان ہیں کہ وہ حرام کاری سے نجات چاہتی ہیں۔

کہ ان کا خاوند جو ہے اس قسم کے کام چھوڑ دیں جو غلط ہے نا جائز ہیں اور ہمارا اسلام بھی ان کاموں سے منع فر ما تا ہے کہ ان کاموں کی طرف مت متوجہ ہوں ورنہ بربادی مقدر میں لکھ دی جاتی ہے۔ جیسا کہ ہم سب ہی جانتے ہیں کہ آج کل کے اس فحاش معاشرے کی حقیقت تو ہم سب کے سامنے ہی عیاں ہے کہ ہر کوئی عیاشی کے چکروں میں پھر رہا ہے اور ہمارے معاشرے کی بد قسمتی یہی ہے کہ ہماری عورتیں بھی فحاش ہو چکی ہیں جبکہ اسلام نے فحاشی سے منع فر ما یا تھا مگر آج کل کے معاشرے کی حقیقت تو آپ سب کے سامنے ہی ہے کہ کیسے فحاشی عام ہو چکی ہے۔

جو عورتیں چاہتی ہیں کہ ان کے خاوند حرام کاری سے باز آ جائیں او ر صرف اور صرف ان پر ہی متوجہ ہو کر رہیں تو ان کو یہ وظیفہ کچھ اس طرح سے کر نا ہو گا کہ گیاراں دن تک اکتالیس مرتبہ سورۃ الما ئدہ کی آیت نمبر سو کسی کھانے کی چیز پر پڑھ کر دم کر کے کھلا ئیں۔ انشاء اللہ اس عمل سے اس وظیفے کی برکت سے شوہر حرام کاری سے باز آ جائے گا۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *