سرتت نبوی صلی اللہ علہی وسلم کا خوبصورت واقعہ

جب ایک صحابی مسجد میں آ ئے ۔ ایک صحابی مسجد میں آ ئے۔ دور کے رہنے والے ۔ دیہات کے رہنے والے۔ جناب نبی کریم کی خدمت میں آ ئے اور انہوں نے جو جو سوالات کیے ۔ ہمارے نبی کریم نے جوابات دیے۔ لیکن کافی دیر ہو گئی ۔ ہمارے آ قا نبی اکرم بڑے پیار کے ساتھ مہمان کو پو چھا کھا نا کھا ؤ گے ؟

بڑے پیار سے مہمان کو پو چھا کہ کھا نا کھا ؤ گے نا ۔ تو وہ دیہاتی تھے۔ ان کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ کہا آللہ کے رسول اگر کھلا دو تو آپ کا احسان ہے باقی دو دن گزر چکے ہیں مجھے کھا نے کو کچھ نہیں ملا۔ دو دن گزر چکے ہیں مگر مجھے کھانے کو کچھ نہیں ملا لیکن اگر آپ کھلا دیں تو آپ کا احسان ہے۔ ہمارے آقا محمد رسول اللہ صلی اللہ وسلم جب یہ سنا تو آپ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے تو وہ کہنے لگے ۔ آپ کیوں روتے ہیں۔ میرے پیارے نبی۔ تو میرے پیارے نبی صل اللہ وسلم نے فر ما یا۔ ارے میرے امتی صبر کر لے ۔ تو دو دن کا بھو کا ہے۔ میں تین دن کا بھو کا ہوں ، مجھے بھی کھانے کو کچھ نہیں ملا۔وہ صحابی تڑپ گئے۔ کہا اللہ کے رسول میں نے تو سوچا تھا کہ آپ کے ہاں کچھ تو کھا نا مل جائے گا۔آقا نے فر ما یا کہ فکر نہ کرو۔ میں تو اور بھی صبر کر لوں گا ۔ آپ نے ایک صحابی کو بلا یا۔ ایک روایت کے مطابق ان صحابی کا نام حضرت صابر یا حضرت طلحہ نام تھا۔ حضور نے انہیں فر ما یا ۔ یہ میرا مہمان ہے ۔ تمہارے گھر میں کچھ بھی کھانے کو ہے تو میرے مہمان کو کھا نا کھلا دینا ۔تا کہ قیامت میں مجھے یہ نہ کہنا پڑے کہ کوئی مہمان میرے دروازے سے بھو کا چلا گیا ۔ اب میرے دوستو۔ وہ صحابی جن کا ایک روایت میں کہنا ہے ۔

حضرت ثابت جو بھی صحابی وہ فوراًاپنے گھر لے کر گئے اور پوچھا کہ گھر میں کھانے کو کچھ ہے ۔ بیوی نے کہا گھر میں کھانے کو تو ہے لیکن گھر میں تین بچے ہیں اور تینوں بچے بھو کے ہیں۔کھا نا اتنا ہی ہے کہ بچوں کا پیٹ ہی بھرے گا ۔ مجھے بھی بھو کا رہنا ہے اور آپ کو بھی بھو کا رہنا ہے۔ ہم اتنا ہی کھا ئیں گے کہ ہمارےبچوں کا پیٹ بھر جائے گا۔ وہ صحابی کیا کہتے ہیں۔ وہ صحابی اپنی بیوی سے کہتے ہیں پیارے محبت کے ساتھ بچوں کو سلا دینا۔ ارے کوئی بھی کہانی قصہ سنا کر بچوں کو سلا دیں اور جب بچے سو جائیں تو پھر میں مہمان کو لے کر اندر آؤں گا۔ چنانچہ وہ کیسی نیک بیوی تھی کہ بچوں کو سلا دیا اور کہا کہ بچے سو گئے ہیں۔

اور وہ با لکل نیند میں چلے گئے ہیں تو وہ فوراً باہر آ ئے اور اپنے مہمان کو اندر لے کر آ ئے اور اب وہ لانے والے یا تو حضرت طلحہٰ ہونگے یا تو حضرت ثابت رضی اللہ عنہ ہو نگے۔ اب وہ بیٹھک میں لے گئے ۔ اب کھا نا صرف تین بچوں کا تھا اور تینوں بچے سو گئے ہیں۔بیوی سے کہا کہ جب کھانا رکھنا تو چراغ جلا دینا اور جب دسترخوان لگ جائے تو چراغ بجھا دینا ۔ اس سے مہمان کو لگے گا کہ ہم بھی کھا نا کھا رہے ہیں مگر نہ میں کھا نا کھاؤں گا اور نہ تم کھا نا کھا نا۔ تا کہ آج رات جس مہمان کی مہمانی ہو گی۔ وہ نبی کے مہمان کی مہمانی ہو گی۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *