گھریلو ، لڑائی جھگڑوں ، کاہو گاجڑسے خاتمہ

آج کو جو وظیفہ ہے اس پر عمل کرکے آپ اپنی ہر حاجت پوری کرسکتے ہیں۔مثلاً گھر یلو لڑائی جھگڑوں سے نجات، اچھے رشتوں کےلیے،اچھی نوکری کےلیے اور کاروبار میں برکت کےلیے غرض کسی بھی جائز مقصد کےلیے کر سکتے ہیں۔اور وقت کی کوئی بھی قید نہیں ہے۔ خواتین اپنے مخصوص ایام میں اس

وظیفے کو نہ کریں۔ مخصوص ایام کی مدت ختم ہونے کے بعد کر سکتی ہیں۔ آپ کو اس وظیفے میں ” یَااَللہُ یَا رَحْمٰنُ یَا رَ حِیْمُ” کی تسبیح پڑھنا ہے۔یعنی دس تسبیح بھی پڑھ لیں گے تو ہزار مرتبہ ہوجائے گا۔ اس وظیفے کے اول وآخر تین تین مرتبہ درودشریف ضرور پڑھیں۔ پھر وظیفہ کرنے کے بعد اپنے مقصد کےلیے دعا کریں۔انشاء اللہ اس وظیفے کی برکت سے آپ کے ہر کام میں آسانی پیدا ہوگی۔ ایک اور وظیفہ ان کےلیے ہےجن کی شادی رکی ہوئی ہو۔اگر کسی لڑکی کے نکاح کا پیغام نہ آتا ہویا لڑکے والے لڑکی کو دیکھ کر چلے جاتے ہوں۔ اور رشتہ طے نہیں پاتا ہوتو اس عمل کو فوراً آزمائیں۔یہ کئی لوگوں کا آزمایا ہوا مجرب عمل ہے۔ اگر سچے دل اور لگن سے کیا جائے توانشاءاللہ تعالیٰ کبھی ناکامی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ اس عمل کی مدت گیارہ دن ہے۔ ہر بدھ کو گیارہ ہزار مرتبہ یہ اسم الہیٰ ” یَا مَعطِیُ”پڑھنا ہے۔ اور اول وآخر گیارہ گیارہ بار درود شریف بھی پڑھیں۔ اس عمل کے دوران کھانا ، پینا اور بولنا نہیں چاہیے۔ ورنہ عمل باطل ہوجائےگا۔

روزانہ جگہ اور جائے نماز بھی ایک ہو۔ اس عمل کی بدولت انشاءاللہ نکاح کے پیغام کے علاوہ شادی کے اخراجات کا بھی بندوبست ہوجائےگا۔ یہ عمل برسوں کا آزمایا ہوا ہے۔ ایک قرآنی عمل بتاتے ہیں۔ جو رشتے اور جلدی شادی کے لیے ہے۔ یہ عمل ان لوگوں کے لیے ہے جو شادی کے طالب ہو۔یہ عمل وہ خود ہی کرلیں گے تو زیادہ ٹھیک ہے۔ ورنہ اس کے گھر میں سے کوئی بھی کر سکتا ہے۔ اگر گھر میں حلال رزق آتا ہو اور ذوق و تقویٰ بھی آتا ہو۔تو پہلے دن ہی رشتہ آجائےگا۔ انشاءاللہ اکیس دن کے اندر شادی کے معاملات طے پائیں گے۔ سب سے پہلے اول و آخر درود شریف پڑھنا ہے ان کے درمیان انیس مرتبہ “سورت الاعمران ” کی آیت ایک ، دو اور تین مسلسل اکیس روز تک پڑھنا ہے ۔آپ اس عمل کو کریں گے ۔ انشاءاللہ آپ کی رشتہ فوراً سے پہلے ہوجائےگا۔

ہمارے معاشرے میں گھریلو لڑائی جھگڑے یا خاص طور پر ساس اور بہو کی روایتی لڑائیاں ایک بہت لمبی اور افسوس ناک داستان رکھتی ہیں جن کا نہ یہ پتہ چلتا ہے کہ یہ شروع کب ہوئیں اور نہ یہ پتہ چلتا ہے کہ یہ ختم کب ہوں گی۔ اور نہ یہ پتہ چلتا ہے کہ یہ شروع کیوں ہوئیں۔ایک اہم نکتے کو ہمیں نظر انداز نہیں کرنا چاہیے کہ سب سے اہم رشتے اللہ تعالیٰ نے بالکل منفرد بنائے ہیں۔ جیسے بچوں کیلئے ماں باپ کا رشتہ اور ماں باپ کیلئے بچوں کا رشتہ، جن کے آپس کے تعلق میں ہم کسی صورت بھی کسی قسم کا ردوبدل نہیں کر سکتے۔ آپ جس کی اولاد ہیں، اس کی ہی رہیں گے دوسرے کی کسی طرح نہیں بن سکتے، چاہے آپ کا اس سے رشتہ کتنا ہی قریبی کیوں نہ ہو کیونکہ یہی چیز فطرت کے قانون کے مطابق ہے اور آپ فطرت کو کسی صورت دھوکہ نہیں دے سکتے۔اکثر خرابی یہاں پیدا ہوتی ہے کہ ہم خود تو کسی کو کچھ دینے کے اہل ہوتے نہیں لیکن دوسرے سے ہر وقت جائز و نا جائز مطالبے اور توقعات رکھتے ہیں جن کے پورا نہ ہونے کی وجہ سے لڑائی جھگڑے شروع ہو جاتے ہیں اور ان کا فوری اثر ہمارے اپنے رویوں اور بچوں کی تربیت پر آتا ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *