سورت فلق اور الناس کا پاور فل وظیفہ

قرآن کریم کی یہ آخری دو سورتیں معوّذتین کہلاتی ہیں۔ ان دونوں سورتوں کے مکی یا مدنی ہونے میں مفسرین کا اختلاف ہے، لیکن جمہور مفسرین کی رائے ہے کہ یہ دونوں سورتیں مدنی ہیں اور یہ دونوں سورتیں اُس وقت نازل ہوئی تھیں جب ایک یہودی ’’لبید بن اعصم‘‘ نے نبی اکرم ﷺ پر جادو کرنے کی

کوشش کی تھی۔ اور اس کے کچھ اثرات آپ ﷺ پر ظاہر بھی ہوئے تھے۔ احادیث سے ثابت ہے کہ ان سورتوں کی تلاوت اور اُن سے دم کرنا جادو کے اثرات دور کرنے اور دیگر دنیاوی آفات سے بچنے کے لئے بہترین عمل ہے۔ حضور اکرم ﷺان دونوں سورتوں کی تلاوت کرکے اپنے مبارک ہاتھوں پر دم کرتے اور پھر ان ہاتھوں کو پورے جسم پر پھیر لیتے تھے۔ آپ ﷺ صحابۂ کرام کو بھی ان سورتوں کو مختلف اوقات میں پڑھنے کی تعلیم دیتے تھے ۔ غرضیکہ ان دونوں سورتوں کو جادو، نظر بد اور جسمانی وروحانی آفات کے دور کرنے میں بڑی تاثیر ہے، اور ہر شخص ان کے منافع اور برکات کو حاصل کرنے کا محتاج ہے۔ الفاظ کی تحقیق: قُلْ ’’کہو‘‘ اس ارشاد کے اولین مخاطب تو حضور اکرم ﷺ ہیں، مگر قیامت تک آنے والے تمام انس وجن بھی اس کے مخاطب ہیں۔ اَعُوْذُ ’’میں پناہ مانگتا ہوں‘‘۔ پناہ مانگنے سے مراد کسی چیز سے خوف محسوس کرکے اپنے آپ کو اس سے بچانے کے لئے کسی دوسرے کی حفاظت میں جانا۔ مؤمن ایسی تمام آفات جن کو دور کرنے پر وہ خود اپنے آپ کو قادر نہیں سمجھتا، صرف اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتا ہے اور اسی کی پناہ مانگتا ہے۔ فَلَق کے لفظی معنی پھٹنے کے ہیں، یہاں صبح کا نمودار ہونا مراد ہے۔ رَبِّ الْفَلَقِ سے اللہ جل جلالہ مراد ہیں۔ مِنْ شَرِّ

مَا خَلَقَ میں ساری مخلوق داخل ہے، یعنی میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں ساری مخلوق کے شر سے۔ یہاں تین چیزوں کے شر سے خاص طور پر پنا ہ مانگی گئی ہے: اور اندھیری رات کے شر سے جب وہ پھیل جائے، اور انُ جانوں کے شر سے جو (گنڈے کی) گرہوں میں پھونک مارتی ہیں، اور حسد کرنے والے کے شر سے جب وہ حسد کرے۔ اندھیری رات کے شر سے خاص طور پر اس لئے پناہ مانگی گئی ہے کہ عام طور پر جادوگروں کی کاروائیاں رات کے اندھیروں میں ہوا کرتی ہیں۔ ’’نفّٰثٰت‘‘ میں مردو عورت دونوں داخل ہیں، جادوگر مرد ہوں یا عورت، دھاگے کے گنڈے بناکر اس میں گرہیں لگاتے جاتے ہیں، اور ان پر کچھ پڑھ پڑھ کر پھونکتے رہتے ہیں، اُن کے شر سے پناہ مانگی گئی ہے۔ نبی اکرم ﷺ پر جادو رات میں کیا گیا تھا، گرہیں باندھ کر کیا گیا تھا اور آپ سے حسد کی بنیاد پر کیا گیا تھا، اس لئے ان تین چیزوں سے خاص طور پر پناہ مانگی گئی۔ ’’حسد‘‘ کے معنی ہیں کسی کی نعمت وراحت کو دیکھ کر جلنا اور یہ چاہنا کہ اس سے یہ نعمت ختم ہوجائے چاہے اس کو بھی حاصل نہ ہو۔ حسد حرام اور گناہ کبیرہ ہے۔سورہ فلق میں

اللہ کی ایک صفت رب الفلق ذکر کرکے تین چیزوں سے پناہ مانگی گئی تھی۔ سورۃ الناس میں اللہ تعالیٰ کی تین صفات (رَبِّ النَّاسِ، مَلِکِ النَّاسِ اور اِلٰہِ النَّاسِ) ذکر کرکے ایک چیز سے پناہ مانگی گئی ہے اور وہ ہے شیطان کے وسوسہ ڈالنے سے۔ ’’وَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ‘‘ وسواس کے معنی بار بار وسوسہ ڈالنے کے ہیں، اور خناس کے معنی ظاہر ہونے کے بعد چھپنے، یا آنے کے بعد پیچھے ہٹ جانے کے ہیں۔ یعنی وہ بار بار وسوسہ اندازی کی کوشش کرتا ہے، ایک بار ناکامی پر دوبارہ، سہ بارہ اور بار بار آتا رہتا ہے۔ کیا شیطان کوئی مستقل مخلوق ہے؟ انسان، جنات اور فرشتوں کی طرح شیطان کوئی مستقل مخلوق نہیں ہے بلکہ شیطان انسانوں اور جنات میں سے اللہ کے نافرمان بندے ہوتے ہیں، جو خود گمراہ ہونے کے ساتھ دوسروں کو بھی گمراہ کرتے ہیں۔ شیطانوں کا سردار ’’ابلیس‘‘ جن میں سے ہے، جیساکہ فرمان الہٰی ہے: اِلَّا اِبْلِيْسَ کَانَ مِنَ الْجِنِّ (سورۃ الکہف ۵۰)۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: اور (جس

طرح یہ لوگ ہمارے نبی سے دشمنی کررہے ہیں) اسی طرح ہم نے ہر (پچھلے) نبی کے لئے کوئی نہ کوئی دشمن پیدا کیا تھا، یعنی انسانوں اور جنات میں سے شیطان قسم کے لوگ، جو دوھوکا دینے کی خاطر ایک دوسرے کو بڑی چکنی چپڑی باتیں سکھاتے رہتے تھے۔ اور اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو وہ ایسا نہ کرسکتے۔ لہٰذا ان کو اپنی افترا پردازیوں میں پڑا رہنے دو۔ (سورۃ الانعام ۱۱۲) شیطان جو جنات میں سے ہوتے ہیں، وہ نظر نہیں آتے اور دلوں میں وسوسہ ڈالتے ہیں، لیکن انسانوں میں سے جو شیطان ہوتے ہیں وہ نظر آتے ہیں، اور ان کی باتیں ایسی ہوتی ہیں کہ انہیں سن کر انسان کے دل میں طرح طرح کے برے خیالات اور وسوسے آجاتے ہیں۔ اس لئے اس سورت میں دونوں قسم کے وسوسہ ڈالنے والوں سے پناہ مانگی گئی ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *