جو شخص زبان پر قابو پا لے گا؟

جو اپنی زبان پر قابو رکھے گا اور اسے اللہ کی یاد سے تررکھے گا اس کا دین سلامت رہے گا ایک ذکر ہے زبان کا جو سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم ہے یہ آدمی چوبیس گھنٹے نہیں کرسکتا لیکن اس ذکر سے ایک اور ذکر جنم لیتا ہے جو مطلوب ِ ذکر ہے وہ ہے اللہ کی یاد ۔ذَکَرَ کا مطلب یا د کرنا ہوتا ہے اور یاد کا تعلق زبان سے

نہیں دل سے ہے پہلے دل میں یاد آتی ہے پھر زبان سے بولاجاتا ہے اب آپ سب کو گھر یاد آرہا ہے پھر وہ زبان پر آئے گا تو کیا خیال ہے یہ جو دل کی کیفیت ہے اس کو ذکر کہتے ہیں جس کو چوبیس گھنٹے یہ نصیب ہوجاتا ہے وہ چوبیس گھنٹے ذکر والا ہے اور یہی ذکر اصل ہے پہنچنے کا ذریعہ ذکر لسانی ہے کہ ہم کثرت سے قرآن کی تلاوت اور اللہ کی حمد و ثنا کو اپنی زبان پر لائی لاتے لاتے لاتے جب دل میں ہر وقت اس کی یاد بس جائے گی۔ پھر زبان سے کہے بغیر سبحان اللہ کا اجر ملے گا الحمد للہ کا اجر ملے گا اللہ اکبر کا اجر ملے گا لا الہ الا اللہ کا اجر ملے گا سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم کا اجر ملے گا وہاں تک پہنچنے کے لئے یہ الفاظ کلمات سریع السبب ہیں جو اپنی زبان کو سنبھال لے گا جو اپنی زبان کو سنھال لے گا اس کے رشتے سلامت ،اس کا گھر سلامت،اس کا دین سلامت اس کی دنیا سلامت اس کا علم سلامت اس کی ہر شے سلامت رہے گی حضرت لقمان ؑ کا فرمان ہے کہ بیٹا میں چپ رہنے پر کبھی نہیں فرمایا میں جب بھی پچھتایا اپنے بول پر پچھتایا ۔آپ سب بچوں کو میری یہ درخواست ہے من سکت سلم من سلم نجاہ جو خاموش رہا سلامتی میں رہا جو سلامتی میں رہا وہ کامیاب ہوگیا ۔

آپ نے حضرت ابو ذر غفاری سے فرمایا ابو ذر !تمہیں دو کام بتاؤ جو کرنے میں آسان ہیں اور اجر میں ان کا وزن بے شمار اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے قیامت کے دن بہت تھوڑے لوگ ہوں گے جو اس کو لے کر آئیں گے یارسول اللہ ﷺ کیا ایک زبان اور ایک اچھے اخلاق ایک چپ رہنا یعنی سکوت ۔شر میں تمہاری زبان ساقط ہوجائے ۔ابو ذر ؓ نے اس حدیث کو ایسے پکڑا کہ اس کے ظاہر کو ایسا پکڑا کہ ایک ایک مہینہ گزر جاتا تھا کسی سے بات نہیں کرتے تھے ایک ایک مہینہ۔ اتنی احتیاط فرمائی اور پھرا للہ کے نبی ﷺ نے فرمایا کہ میرے صحابہ میں چار آدمی ایسے ہیں جن سے اللہ پیارکرتا ہے تین دفعہ فرمایا اور علی ان میں سے ہے اور علی ان میں سے ہے اور علی ان میں سے ہے ۔علی ،سلمان،ابو ذر،مقداد۔ ابوذر ایسے اوپر گئے کہ اللہ تو سارے ہی صحابہ سے محبت کرتا ہے سب کے لئے جنت کا وعدہ ہے لیکن یہ چار کا خاص طور پر نام لے کر فرمایا پھر حضرت علی ؓ کا نام تین دفعہ دہرایا اہمیت بیان کرنے کے لئے ۔یہ زندگی بھر کا سبق ہے ۔یہ زندگی بھر کی نصیحت ہے کہ اپنی زبانوں پر قابو رکھنا۔شکریہ

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.