ایک پتھر کا بعثت سے قبل حضور اکرم ﷺ کو سلام کرنا

حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرمﷺ نے فر مایا میں مکہ میں اس پتھر کو جانتا ہوں جو اعلان نبوت سے پہلے بعثت کی راتوں مجھ کو سلام کیا کر تا تھا اور میں اس پتھر کو اب بھی پہچانتا ہوں۔ اس حدیث مبارک کی روشنی میں بے شمار مصنفین نے لکھا ہے کہ یہ پتھر حجرا سودا ہے۔

مزید اس پتھر کے مقام کا مطالعہ کریں جس کو عزت صرف اس لیے مل رہی ہے کہ اس نے عشق مصطفیٰ اختیار کیا ہے اور اس کا مقام کتنا بلندوعظیم ہوا اس لیے مندرجہ ذیل ارشاد مبارک پیش خدمت ہے۔ ابن عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔ کہ حجر ا سود دنیا میں اللہ کا ہاتھ ہے جس کے ساتھ وہ اپنے بندوں سے اس طرح مصافحہ کرتا ہے جیسے کوئی اپنے بھائی سے ، نبی کریم ﷺ نے خانہ کعبہ کا طواف کرتے وقت اس پتھر کو بوسہ عنایت فرمایا۔ تاجدار مدینہ اس پر دست مبارک رکھ کر اپنے چہرہ مبارک پرلگاتے ، جب آپ کسی سواری پر ہوتے تو عصا مبارک حجر اسود پر لگاتے اور بعد میں عصا مبارک کو بوسہ دیتے تھے۔ جب حضور پاک ﷺ اس پتھر کو بوسہ دیتے تو تمام صحابہ کرام نے جو بھی حجرا سود کو پاتے اس کا بوسہ لیتے یااشارہ کرکے سنت رسول پوری کرتے۔

حضرت سوید بن غفلتہ سے روایت ہے “رأیت عمر قبل الحکر والتز مہ و قال رأیت رسول اللہ بک حفیا”میں نے حضرت عمر کو دیکھا انہوں نے حجرا سود کو بوسہ دیا اور اس کے ساتھ لپٹے اور زور سے فرمایا میں نے دیکھا ہے کہ رسول پاکﷺ تجھے بہت چا ہتے تھے ۔ حضرت عبداللہ بن عمر سے روایت ہے کہ حضور پاک ﷺ نے فر مایا قیامت کے دن حجر ا سود اسی حالت میں آئے گا کہ و ہ جبل ِ ابی قبیس نامی پہاڑ سے بڑا ہوگا اس کی ایک زبان اور دو ہونٹ ہوں گے جس نے خلوص نیت سے بوسہ دیا ہوگا اس کی طرف سے کلام کرے گا یہ اللہ کا دایاں ہاتھ ہے جس کے ساتھ وہ اپنی مخلوق سے مصافحہ فرماتا ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *