بادشاہ نے اپنی 7 بیٹیوں کو کیا سزا دے ڈالی!

اس تحریر میں ایک بہت ہی پیاری اور سبق آموز کہانی پیش کی جارہی ہے کہتے ہیں کسی ملک میں ایک بادشاہ رہتا تھا اس کی سات بیٹیاں تھیں وہ اپنی بیٹیوں سے بہت پیار کرتا تھا اور ان کو کسی چیز کی کوئی کمی نہ ہونے دیتا تھا ایک دن وہ بادشاہ اپنی بیٹیوں کے ساتھ بیٹھا تھا تو اس نے اپنی بیٹیوں سے پوچھا آپ کس کا کھاتی ہو؟

تو سب بیٹیوں نے جواب دیا ہم تو آپ کا دیا ہوا کھاتی ہیں اور ہماری شان و شوکت آپ ہی کی وجہ سے ہے لیکن ایک بیٹی تھی اس نے کہا ابا جان میں اپنی قسمت کا کھاتی ہوں جو میرے رب نے میری قسمت میں لکھا ہے وہی کھاتی ہوں یہ بات سن کر باپ کو بہت غصہ آیا اور کہنے لگا ٹھیک ہے میں بھی دیکھتا ہوں کہ تم قسمت کا کیسے کھاتی ہو کہتے ہیں کہ ایک دن بادشاہ تخت پر بیٹھا تھا کہ ایک فقیر نے آواز لگائی تین دن سے بھوکا ہوں خدا کے نام پر کچھ کھانے کو دے دو تو بادشاہ نے اپنے مشیر کو کہا کہ اس فقیر کو میرے پاس لے آؤ فقیر کو بادشاہ کے سامنے لایا گیا تو بادشاہ نے تمام لوگوں کے سامنے یہ حکم صادر کر دیا کہ اپنی بیٹی جس نے کہا تھا کہ میں اپنی قسمت کا کھاتی ہوں اس کا ہاتھ اس فقیر کے ہاتھ میں دیتا ہو ں یہ سب دیکھ کر بادشاہ کے دربار میں بیٹھے تمام لوگ بہت پریشان ہوگئے کہ بادشاہ نے ایسا کیوں کیا بادشاہ نے اپنی بیٹی کو بلایا اور کہا کہ میں نے آپ کا رشتہ اس فقیر سے کر دیا ہے اب آپ کو جو کچھ چاہئے لے لو اور یہاں سے چلی جاؤ میں بھی دیکھتا ہوں کہ تمہاری قسمت تم کو کیا کھلاتی ہے تو بیٹی نے جواب دیا مجھے کچھ نہیں چاہئے جو میری قسمت میں ہوگا مل جائے گا لیکن بادشاہ نے ایک روٹی دی اور کہا اگر راستے میں بھوک لگ جائے تو یہ روٹی کھالینا بیٹی نے باپ کی دی ہوئی روٹی لی اور فقیر کا ہاتھ پکڑ کر دربار سے چلی گئی فقیر شہزادی کو اپنی جھونپڑی میں لے آیا اور

شہزادی سے کہا کہ میں آپ کو کیا دے سکتا ہوں میں خود بھیک مانگ کر کھاتا ہوں تو شہزادی نے کہا تم میری وجہ سے پریشان نہ ہو تم جو لے آؤ گے میں چپ چاپ کھا لوں گی تم سے کوئی شکایت نہیں کروں گی اسی طرح فقیر روز صبح جاتا اور کچھ نہ کچھ شہزادی کے لئے لے آتا شہزادی گھر میں رہتی اور اپنے اللہ پاک سے دعا کرتی کہ تونے مجھے جس امتحان میں ڈالا ہے مجھ کو اس میں ثابت قدم رکھ ایک دن فقیر اور اس کی بیوی یعنی شہزادی سور ہے تھے تو شہزادی نے اپنے شوہر کو جو کہ فقیر تھا اس سے کہا کہ کل تم کو رستے میں جو چیز ملے لیتے آنا شاید ہماری کچھ مدد ہوجائے تو شوہر نے کہا ٹھیک ہے جب شام کو فقیر گھر آرہا تھا تو راستے میں اس کو مردہ سانپ کا ڈھانچہ دکھائی دیا تو فقیر کو خیال آیا کہ بیوی نے کہا تھا کہ راستے میں جو کچھ ملے لیتے آنا تو اس نے مردہ سانپ کو اٹھایا اور اپنے ساتھ لے کر گھر آگیا جب فقیر کی بیوی نے دیکھا تو کہا یہ کیا لے کر آگئے تو فقیر نے جواب دیا کہ آپ نے ہی تو کہا تھا کہ جو کچھ رستے میں ملے لیتے آنا مجھے تو یہی ملا اور میں اسی کو لے آیا تو اس کی بیوی نے کہا چلو ٹھیک ہے اس کو جھونپڑی کی چھت پر پھینک دو تو فقیر نے اس کو چھت پر پھینک دیا کچھ دن گزرنے کے بعد ایک روز زور کی بارش آئی اور جھونپڑی کی چھت ٹپکنے لگی صبح ہوئی تو شہزادی جھونپڑی کی چھت پر گئی تو کیادیکھتی ہے کہ مردہ سانپ کا ڈھانچہ غائب ہو گیا اور اس کی جگہ ہیروں کا بہت قیمتی ہار پڑا تھا ہار اٹھا کر شہزادی نیچے آگئی وہ بہت خوش تھی اس نے اپنے شوہر کو بتایا کہ یہ دیکھو خدا نے ہماری

سن لی ہے ہم بہت امیر ہوگئے ہیں اس طرح انہوں نے وہ قیمتی ہار بیچ کر بہت بڑا محل بنوایا اور وہاں رہنے والوں کے لئے اچھے مکان بنوائے اسی طرح وہ فقیر بادشاہ بن گیا وہ ہر روز اپنے گاؤں کا چکر لگاتا اور دیکھتا کہ کوئی پریشانی میں تو نہیں ہے تمام لوگ اپنے بادشاہ سے بہت خوش تھے کہتے ہیں کہ اسی دن ایک بادشاہ جس نے اپنی بیٹی فقیر کو دی تھی اس کے گھوڑے کستوری سے لدے آئے تو فقیر بادشاہ نے پوچھا یہ مال کس کا ہے تو ایک آدمی نے جواب دیا کہ فلاں بادشاہ کا ہے تو اس نے اپنی بیوی کو بتایا کہ آپ کے والد بادشاہ کا مال آیا ہے تو شہزادی نے کہا کہ مال کو گھوڑوں کے ساتھ خرید لو تو فقیر بادشاہ نے ایسا ہی کیا جب بادشاہ کے آدمیوں نے بادشاہ کو ساری کہانی سنائی تو بادشاہ نے کہا چلو اس بادشاہ کو مل کر آتے ہیں جس نے میری کستوری گھوڑوں کے ساتھ خریدی ہے اگلے دن بادشاہ اپنے خاص وزیروں کے ساتھ فقیر بادشاہ کے دربار میں حاضر ہوا جب فقیر بادشاہ نے اس کو دیکھا تو ادب سے کھڑا ہوگیا اورخوب خدمت کی بادشاہ کی بیٹی کو بھی پتہ چل گیاکہ میرا باپ آیا ہوا ہے اس نے اپنے شوہر کو کہا کہ ان کا کھانا اندر لگوائے اس نے اندر لگوادیا جب شاہی کھانا لگ گیا تو فقیر بادشاہ نے کہا کہ بادشاہ سلامت آج آپ کھانا ہمارے ساتھ میرے کمرے میں کھائیں گے تو بادشاہ بہت حیران ہوا اور کہا ٹھیک ہے جب بادشاہ اور فقیر بادشاہ کھانے کی میز پر بیٹھے تھے تو نقاب میں شہزادی بھی آگئی اس

نے اپنے باپ سے کہا بادشاہ سلامت کھانے میں کوئی کمی تو نہیں ہے تو بادشاہ نے جواب دیا بالکل بھی نہیں ہے ایسا کھانا تو میں نے اپنی بادشاہی میں بھی نہیں کھایا تو شہزادی نے نقاب اتارتے ہوئے کہا ابو جی یہ سب قسمت کا کھیل ہے بادشاہ اپنی بیٹی کو دیکھ کر بہت حیران ہوا کہ یہ سب کیسے ہوا تو بیٹی نے کہا ابو جی یہ سب قسمت کی بات ہے میں نے آپ کو کہا تھا ناں کہ میں اپنی قسمت کا کھاتی ہوں اور مجھے اپنے اللہ پر پورا بھروسہ ہے کہ وہ اپنے بندوں کا خالق و مالک ہے اور وہ اپنے بندوں کی دعائیں سنتا ہے اسی لئے میں نے ایسا کہا تھا لیکن آپ کو بہت غصہ آیا تھا لیکن دیکھ لیجئے آج آپ خود بتائیے کہ میں آپ کا کھاتی ہوں یا اپنی قسمت کا تو بادشاہ نے کہا بیٹی مجھے معاف کردو میں غلط تھا اور تم ٹھیک قارئین ہمیں اس کہانی سے یہ سبق ملتا ہے کہ ہمین اللہ کے فیصلوں پر راضی رہنا چاہئے اور اللہ پر بھروسہ اور یقین کے ساتھ اللہ سے مانگتے رہنا چاہئے وہ ایک نہ ایک دن اپنے بندے کی ضرور سن لیتا ہے ۔امید ہے آپ کو یہ کہانی پسند آئی ہوگی۔شکریہ

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *