روزانہ بلا ناغہ سات دن کا وظیفہ

میں بسمہ اللہ الرحم الرحیم کا ایک بہت ہی خاص اور مجرب وظیفہ آپ کی خدمت میں لے کر حاضر ہوئی ہوں میرے وہ بہن بھائی جو اپنی ہر حاجت پورا کر نا چاہتے ہیں اور اب وہ حاجت خواہ کسی بھلا ئی کے پانے کی ہو یا برائی دور کرنے کی ہو یا کاروبار کے چلنے کی ہو تو یہ وظیفہ کر لیں تو انشاء اللہ تعالیٰ صرف سات دن یہ وظیفہ کر نا ہے

اور اس وظیفے کی برکت سے ہر حاجت اور ہر ضرورت پوری ہو جائے گی تو کثرت سے درودِ پاک پڑ ھا کریں تا کہ آپ کی مشکلات میں آ سانی پیدا ہو سکے ۔ درودِ پاک کی بے حد فضیلت ہے ایک مرتبہ حضرت محمد بن سلمان جزولی ؒ وضو کرنے کے لیے ایک کنوے پر گئے مگر اس سے پانی نکالنے کے لیے کوئی چیز پاس نہ تھی۔ اتنے میں ایک اونچے مقام سے ایک بچی نے دیکھا اور کہنے لگی یا شیخ آپ وہیں ہیں نا جن کی نیکیوں کا بڑا چرچہ ہے اس کے باوجود آپ پر یشان ہیں کہ اس کنو یں سے پانی میں کس طرح سے نکا لوں۔ پھر اس بچی نے کنو یں نے اپنے لہاب دہن اپنا تھوک ڈال دیا تھوڑی ہی دیر میں کنو یں کا پانی بڑ ھنے لگا حتیٰ کہ کناروں سے نکل کر زمین پر بہنے لگا شیخ نے وضو کیا اور اس بچی سے کہنے لگا میں تمہیں قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ تم نے یہ مرتبہ کیسے حاصل کیا تو اس بچی نے جواب دیا میں رسول کریم ﷺ پر کثرت سے درودِ پاک پڑ ھتی یہ سن کر حضرت شیخ سلمان جزولی ؒ نے قسم کھائی کہ میں دربارِ رسالت میں پیش کرنے کے لیے درودِ سلام کی کتاب ضرور لکھوں گا پھر آپ نے دلا ئل و الخیرات نامی کتاب تحریر فر مائی تو دیکھیں کہ درودو سلام کی کس قدر بر کات ہیں کس قدر فضیلتیں ہیں ۔

اگر ہم درودِ پاک کثرت سے پڑ ھتے رہیں اور اپنا وقت ضائع کر نے کی بجائے بعض لوگ ایسا کرتے ہیں کہ اپنا وقت فضول باتوں میں خوش گپیو ں میں گزارتے ہیں تو بروزِ قیامت ہمیں افسوس ہی ہوگا۔ وقت کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ اگر آپ چا ہیں تو دنیا میں رہتے ہوئے صرف ایک سیکنڈ کے اندر اندر جنت میں درخت لگو ا سکتے ہیں اور جنت میں درخت کا طریقہ نہایت ہی آ سان ہے چنا نچہ ایک حدیث کے مطا بق ان چار کلمات میں سے جو بھی کلمہ جنت میں ایک درخت لگوا دے گا اور اس کے بدلے جنت میں درخت لگا دیا جائے۔ وہ کلمات ہیں۔ سبحان اللہ الحمد اللہ لا الہ اللہ اکبر جو کوئی ان کلمات کو پڑ ھ لیتا ہے ۔ تو جنت میں اس کے لیے ایک درخت لگا دیا جاتا ہے تو جنت میں درخت لگا نا کس قدر آ سان ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.