نفرت محبت میں تبدیل ہوجائے گی۔

اگر آپ کے گھر میں جگڑے ہورہے ہیں گھر میں دن بدن اختلافات ہورہے ہیں ایک دوسرے میں نفرت پیدا ہورہی ہے محبت پیدا نہیں ہو رہی تو اس عمل کو اللہ کی ذات پر کام یقین رکھتے ہوئے اس عمل کو کر لیں۔عمل اور ضروری ہدایات:یہ وظیفہ آپ نے نمازِ فجر کے بعد کرنا ہے سورہ فلق اور سورۃ الناس کو 21 مرتبہ پڑھ کر 3 مرتبہ درود پاک پڑھنا ہے ۔

اور تین کھجوروں پر دم کر کے ان کو کھا لینا ہے۔آخر میں اللہ پاک سے دعا مانگنی ہے اس عمل کو 21 روز تک کرنا ہے۔ انشاء اس وظیفے کی برکت سے اور اللہ کے حکم سے آپ کے گھر میں نفرتین محبتوں میں تبدیل ہوجائیں گی۔ہر کوئی فرد ایک دوسرے سے محبت کرنے لگے گا۔اس عمل کو خود بھی کریں اور دوسروں کو بھی اس کے بارے میں آگاہ فرمائیں ۔ اس وظیفہ کی اجازت کے لئے آپ نے اللہ سے سچے دل سے معافی مانگنی ہے ۔
اور تمام گناہوں سے تو بہ کرنی ہے۔ وظیفہ کرنے سے پہلے کچھ صدقہ و خیرات کرلیا کریں ۔حضرت عُقبه بن عامر الجُهَنِي رضی الله عنہ سے روایت ہے فرمایا کہ مجهے رسول الله صلى الله عليه وسلم نے حکم دیا کہ میں ہرنماز کے بعد مُعَوِّذات پڑها کروں ۔حضرت عقبه بن عامر سے روایت ہے کہ رسول الله صلى الله عليه وسلم نے صبح کی نماز میں ” قل أعوذ برب الفلق ” اور ” قل أعوذ برب الناس ” پڑہیں . صحيح ابن خزيمه کی ایک روایت میں ہے کہ آپ صلى الله عليه وسلم نے حالت سفر میں صبح کی نماز میں ” قل أعوذ برب الفلق ” اور ” قل أعوذ برب الناس ” پڑہیں ۔حضرت علی رضی اللہ عنہ

بیان کرتے ہیں کہ ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز ادا فرما رہے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ ( مبارک) زمین پر رکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بِچھو نے ڈس لیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے اپنے نعلین (مبارک ) سے ماردیا . پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا کہ : بچھو پر اللہ تعالی کی لعنت ہو کہ وہ نمازی ، غیر نمازی یا نبی اور غیر نبی کسی کو بھی نہیں چهوڑتا . پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی اور نمک منگوایا ، ان کو ایک برتن میں مِلایا ، اور پھر اس کو اپنی اس انگلی پر بہانا شروع کر دیا جہاں سے بچھو نے ڈسا تھا اور اس پر ( اپنا ہاتھ مبارک) پھیرنے لگے اور (اس انگلی مبارک پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ) مُعوذتین پڑھ کر دم فرمانے لگے ۔حضرت عَبد الله بن خُبَيب رَضِيَ الله عَنه سے روایت ہے فرمایا کہ : ہم شدید بارش اور سخت اندھیری رات میں رسول الله صلى الله عليه وسلم کو تلاش کرنے کے لے نکلے تاکہ آپ ہمیں نماز پڑهائیں ، فرمایا کہ میں نے آپ صلى الله عليه وسلم کو پالیا ، تو آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا پڑھ : تو میں نے کچھ

بهی نہیں کہا ، پهرفرمایا پڑهہ : تو میں نے کچھ بهی نہیں کہا ، فرمایا پڑھ : تو میں نے کہا کیا پڑهوں ، تو فرمایا جب تو صبح کرے اور شام کرے تو تین مرتبہ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ اور مُعَوِّذَتَيْن پڑهو یہ تیرے لیے ہرچیز سے کافی ہوجائے گا علامہ طیبی فرماتے ہیں : یعنی تجھ سے ہر برائی دور کرے گی یعنی اول سے آخر تک برائی کے جتنے مراتب ہیں سب تم سے دور کرے گی ۔ حضرت ابي سعيد خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے فرمایا کہ رسول الله صلى الله عليه وسلم جنات اور انسانوں کی نظرسے پناه مانگتے تهے ، ( یعنی أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الْجَانِّ وَعَيْنِ الْإِنْسَانِ پڑهتے تهے ) جب معوذتین نازل ہوئیں تو ان کولے لیا ، اور ان کے ماسوا کو چهوڑدیا ۔ان دو سورتوں کا شان نزول مفسرين كرام نے یہ بیان کیا ہے کہ ایک یہودی جس کا نام لبید ابن اعصم تها اس نے آپ صلی الله علیہ وسلم پربہت سخت جادو کیا تها ، اور اس جادو کی وجہ سے آپ صلی الله علیہ وسلم کو جسمانی طور پر بہت اذیت پہنچی تهی ، لہذا اس جادو کا اثر زائل کرنے کے لیے یہ دو سورتیں نازل ہوئیں ، آپ صلی الله علیہ وسلم ایک ایک آیت پڑهتے اور جادو کی گرہیں

کهلتی جاتی لہذا جادو کے اثرات کوختم کرنے کے لیے ان دو سورتوں کا ورد مُجرب اور سریع التاثیرہے کیونکہ ان کا نزول ہی جادو کے اثرات خبیثہ کو زائل کرنے کے لیے ہوا ، اور ان دو سورتوں میں جادو و شیاطین اورتمام مخلوقات کے ایذاء وشرور سے اور دیگرتمام تمام شرور و آفات و مکروہات سے انتهائی جامع اور مکمل پناه و حفاظت موجود ہے ۔ حضرت حسن بصری، عکرمہ، عطاء اور جابر بن زید کہتے ہیں کہ یہ سورتیں مکی ہیں۔ حضرت عبد اللہ بن عباس ما سے بھی ایک روایت یہی ہے۔ مگر ان سے دوسری روایت یہ ہے کہ یہ مدنی ہیں اور یہی قول حضرت عبد اللہ بن زبیر ما اور قتادہ کا بھی ہے۔ اس دوسرے قول کو جو روایات تقویت پہنچاتی ہیں ان میں سے ایک مسلم، ترمذی، نسائی اور مسند امام احمد بن حنبل میں حضرت عقبہ بن عامر کی یہ حدیث ہے کہ رسول اللہﷺ نے ایک روز مجھ سے فرمایا: تمہیں کچھ پتہ ہے کہ آج رات مجھ پر کیسی آیات نازل ہوئی ہیں؟ یہ بے مثل آیات ہیں۔ اعوذ بربّ الفلق اور اعوذ بربّ الناس یہ حدیث اس بنا پر ان سورتوں کے مدنی ہونے کی دلیل ہے کہ حضرت عقبہ بن عامر ہجرت کے بعد

مدینہ طیبہ میں ایمان لائے تھے، جیسا کہ ابو داؤد اور نسائی نے خود ان کے اپنے بیان سے نقل کیا ہے۔ دوسری روایات جو اس قول کی تقویت کی موجب بنی ہیں وہ ابن سعد، مُحیّ السُّنّہ بَغَوِی، امام نَسَفِی، امام بَہَیقَی، حافظ ابن حَجَر، حافظ بدر الدین عَینی، عَبُدبن حُمیّد وغیر ہم کی نقل کردہ یہ روایات ہیں کہ جب مدینے میں یہود نے رسول اللہ ﷺ پر جادو کیا تھا اور اس کے اثر سے حضور ﷺ بیمار ہوگئے تھےاس وقت یہ سورتیں نازل ہوئی تھیں۔ ابن سعد نے واقدی کے حوالہ سے بیان کیا ہے کہ یہ سنہ 7 ھ کا واقعہ ہے۔ اسی بنا پر سفیان بن عُیَینَہ نے بھی ان سورتوں کو مدنی کہا ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.