حضرت علی نے فر ما یا جب ہر دروازہ بند ہو جائے

جو عمل جو وظیفہ میں لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ہوں۔ وہ ایک ایسا عمل ہے ایک ایسا وظیفہ ہے جو کہ حضرت علی شیر خدا سے منقول ہے۔ جب آپ کو پر یشانیوں اور مشکلات نے گھیر لیا ہو اور ہر طرف سے مایوسی اور ناکامی کے بادل چھائے ہوئے ہوں جب تما دروازے بند ہو جائیں تو جب آپ کو ایسا لگے

کہ آپ کا کوئی بھی طریقہ کارآمد نہیں ہو رہا تو انشاء اللہ تعالیٰ یہ عمل کرنے کی برکت سے اللہ رب العزت کے فضل اور کرم سے آپ کو اس سے ضرور فائدہ ہوگا۔ اس عمل کے ساتھ ایک ایسا واقعہ بھی آپ کے ساتھ شیئر کروں گا کہ جس کو سننے کے بعد آپ کا یقین اور بھی زیادہ پختہ ہو جائے گا۔ آپ کو وہ عمل وہ وظیفہ اور وہ واقعہ بھی بتائیں گے لیکن اس سے پہلے ایک بات آپ سے کہنا ضروری سمجھتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ میری تمام باتوں کو غور سے سنیے گا اور سمجھیے گا تا کہ اس عمل اس وظیفے پر عمل کر نا آپ کے لیے آ سانی ہو جا ئے۔ آج میں ایسا ایک ایسا وظیفہ شیئر کروں گا جو کہ ہر بند دروازے کو کھولنے والا عمل ہے ۔ جب ہر دروازہ بند ہو جائے اور کوئی راستہ آپ کو نظر نہ آ رہا ہو۔ تب آپ یہ عمل کریں انشاء اللہ تعالیٰ اللہ کے حکم سے اللہ پاک آپ کی دعاؤں کو قبول فر ماتے ہوئے آپ ے تمام تر جائز مقاصد میں کامیابی عطا فرمائیں گے۔ یہ عمل حضرت علی کا بتایا ہوا عمل ہے۔

آپ راتوں کی تنہائیوں میں ایسے بے قرار ہو کر رو یا کرتے تھے کہ جیسے کسی چھوٹے بچے کو کسی زہر یلے جانور جیسے سانپ یا بچھو وغیرہ نے کاٹ لیا ہو تو اس درد اس تکلیف میں جیسے بے قراری سے وہ بچہ روتا ہے ایسے ہی حضرت علی شیرِ خدا رات کی تنہائی میں اللہ کے سامنے رویا کرتے تھے اور یہی وہ عمل ہے کہ جس کو آپ نے بھی کر نا ہے اور میں نے بھی کر نا ہے جب بھی کوئی حاجت ہو کوئی مسئلہ ہے کوئی کسی بھی قسم کی پریشانی ہو۔ تو آپ نے رات کی تنہا ئی میں دو رکعت نماز نفعل تہجد کے ادا کرنے ہیں اور اس کے بعد اللہ تعالیٰ سے رو رو کر اپنی حاجت طلب کر نی ہے جیسا کہ خود حضرت علی کی حالت ہوتی تھی کہ راتوں کی تنہائی میں ایسے بے قرار ہو کر روتے تھے اور اللہ کے حضور ایسے بے قرار ہو کر رو یا کر تے تھے جیسے چھوٹے بچے کو کسی زہر یلے جانور نے کاٹ لیا ہو۔یہ وہ لوگ ہیں جن کو جنت کی بشارت اللہ نے دنیا میں ہی دے دی تھی مگر عاجزی کا نمونہ ذرا ملاحظہ فرمائیے کہ اللہ کی بارگاہ میں بے قرار ہو کر رو یا کر تے تھے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.