سنگدل والدین کو را ضی کر نے کا پا ور فل و ظیفہ

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ! یہ تحریر ان قارئین کے لئے ہے کہ جو محبت میں گرفتار ہو چکے ہیں اور لڑکی امیر ہے اور لڑکا غریب ہے اور اس تضاد کی وجہ سے ان کے والدین ان سے نالاں رہتے ہیں کہ تم امیر لڑکی کے ساتھ کیسے گزارا کرو گے وہ تمہاری ذہنیت کی نہیں ہو گی یا اسی طرح اگر لڑکا امیر ہو تو لڑکی والے

بھی گھبراتے ہیں کہ وہ بہت اونچے سٹیٹس کے ہیں اس لئے ہم ان کے ساتھ رشتہ قائم نہیں کر سکتے تو والدین کو منانے کے لئے اس وظیفے پر عمل کریں ،انشاء اللہ آپ کے والدین یہ عمل کرتے ہی مان جائیں گے ۔قارئین کرام آج کل ہمارے معاشرے میں خاندانی نظام کا بہتر طریقے سے استوارہونا انتہائی مشکل ہوگیا ہے اور اس کے پس پردہ بہت سی وجوہات کرفرماہوتی ہیں کچھ وجوہات ایسی ہیں۔ جو ہم نے مغرب سے مستعار لے کر اپنے معاشرے کے لئے تباہی کا سامان کیا ہے اور کچھ رسومات و رواج ایسے ہیں جو کہ ہمارے تخیل اور دماغ کی اختراع ہیں۔والدین جو کہ اولاد کے لئے ماویٰ و ملجا ہوتے ہیں اور ہر قسم کا حق رکھتے ہیں اور اسی طرح قرآن نے بھی والدین کے سامنے اف کرنے سے بھی منع فرما دیا اور مزید حضور ﷺ کی احادیث مبارکہ میں بھی ان کے احترام اور ان کے درجات کی تصریحات ملتی ہیں۔لیکن آج کل والدین اولاد کے مستقبل کی پریشانی میں تو مبتلا ہیں مگر مستقبل کے مسائل سے بالکل صرفِ نظر کر کے ان کو ایسے رشتے میں جوڑ دیتے ہیں جس میں ان کی مرضی و پسند شامل نہیں ہوتی اسی کے حوالے سے

حضور ﷺ نے فرمایا کہ دومحبت کرنے والوں کے درمیان بہترین چیز نکاح ہے ۔ میاں او ر بیوی کا رشتہ ایسا مقدس رشتہ ہے کہ اس کے استوار ہونے سے پہلے ہر پہلو سے غور کرنا چاہئے تا کہ اس رشتے کی استواری کے وقت اس کی منسوخی کے امکانات کم سے کم ہوں اس کے لئے ضروری ہے۔
کہ دونوں فریقین کی رضامندی شامل ہو اور ان میں محبت کا رشتہ بھی قائم ہو نکاح کے مقدس رشتے کا مقصد صرف جنسی تسکین بن چکا ہے اور یہ حاصل بھی ہوتی ہے ہمارے معاشرے میں زوال اس قدر نفوس میں سرایت کر چکا ہے کہ مرد عورت کو بالکلیہ غلام بنانا چاہتا ہے اور عورت اس غلامی میں آنا نہیں چاہتی ، مردوں وعورتوں دونوں کی تربیت کا فقدان ہے ۔تربیتی ادارے زوال کا شکار ہیں ۔تربیتی اداروں کا نصب العین کاروبار بن چکا ہے ۔غلام قوم نوکر پیدا کرنے پر لگی ہوئی ہے ۔اسی طرح اگر کوئی لڑکا یا لڑکی اپنی پسند کی شادی کرنے کے لئے والدین سے اپنا یہ حق مانگتا ہے تو اسے کہاجاتا ہے کہ ہم نے تجھے اسی لئے پال پوس کر اتنا بڑا کیا ہے کہ آج تو ہماری نافرمانی کریں ۔ہمیں اس چیز کو سمجھنا ہوگا کہ اپنا حق مانگنا

نافرمانی میں شمار نہیں ہوتا ۔حق مانگنے والے کو حق دینا ہر انسان پر لازم ہے حالانکہ بہتر تو یہ ہے کہ حق مانگنے سے پہلے حق ادا کردینا چاہئے۔لہٰذا اگر مسائل پیش آتے ہیں تو اس عمل کو کیجئے انشاء اللہ تعالیٰ آپ کے والدین آپ کی پسند پر ضرور راضی ہوں گے ۔ یہ عمل لڑکی بھی کر سکتےہے اپنے والدین کو اپنی پسند کے لڑکے سے شادی کرنے کے لئے اور لڑکا بھی کرسکتاہے اپنی پسند کی لڑکی سےشادی کرنے کے لئے۔ہاں والدین کے احترام میں کمی واقع نہ ہونے دیجئے ۔والدین آپ کو بے حد چاہتے ہیں والدین کی سختی اصل میں محبت کی علامت ہوتی ہے والدین اپنے بچوں پر سختی اس لئے کرتے ہیں کہ بچوں کا مستقبل اچھا ہو بچے کسی کے غلام نہ بنیں ،والدین چاہتے ہیں کہ ان کے بچے مستقبل کے لیڈر ہوں اس لئے والدین کو منانے کے لئے ان کی نافرمانی مت کیجئے ۔والدین کو منانے کے لئے الٰہی طریقے کا استعمال کیجئے جو کہ اس تحریر میں آپ کو بتایا جائے گا۔یادرکھئے نافرمان اولاد سے اللہ بھی ناراض رہتا ہے ۔والدین کو ہمیشہ راضی رکھئے اور ان کی خدمت کرتے رہئے ۔ان سے منہ مت موڑیئے یہ وظیفہ کیجئے انشاء اللہ والدین بہت جلد راضی ہوجائیں گے ۔ ہر نماز کے بعد یَاقَوِیُّ کا 116 دفعہ ورد کیجئے اور اول و آخر اس درود پاک کو تین تین دفعہ پڑھ لیجئے اور 7 دن تک اس عمل کو جاری رکھئے انشاء اللہ بہت جلد نتائج حاصل ہوں گے۔اَللّٰہُمَّ صَلِّ وَسَلِّمْ وَبَارِکْ عَلٰی سَیِّدِنَامُحَمَّدِنِ النَّبِیِّ الْاُمِّیِّ الْحَبِیْبِ الْعَالِی الْقَدْرِالْعَظِیْمِ الْجَاہِ وَعَلٰی اٰلِہٖ وَصَحْبِہٖ وَسَلِّمْ

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.