شب برات گندم کے دانوں پر یہ عمل کر لیں

رزق کی تنگی دور کرنے کا بہترین مجرب عمل ہے یہ عمل شب برات کو یا رمضان المبارک کی ستائیسویں رات کو کریں انشآ اللہ عزوجل پورا سال ھر قسم کی تنگدستی رزق کی تنگی دور ھو گی نماز عشا کے بعد سات دانے چاول یا گندم کے سات دانے یا کالے جو کے سات دانے لے کر وظیفہ میں بیٹھ جائیں اور اول آخر

گیارہ گیارہ مرتبہ درود ابراھیمی اور ستر مرتبہ یارزاق پڑھ کر ھر دانے پر دم کرلیں اور انکو اپنے پرس میں رکھ لیں اور پھر انشآ اللہ عزوجل رزق وافر مقدار میں آپ کے گھر میں آئے گا شرط گناھوں سے پرہیز کرنا ھے اور پانچ وقت کی نماز کی نمازوں کی پابندی ھے پھر اس عمل کا فائدہ ھوگا اس عمل کی اجازت عام ہے جو بھی اس عمل کو کرنا چاہے بغیر کسی خاص اجازت کے کرسکتا ہے ۔شعبان المعظم اسلامی سال کا آٹھواں مہینہ ہے جو دو مبارک مہینوں رجب اور رمضان کے درمیان میں آتا ہے جس سے اس کی فضیلت میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔حضور غوث الاعظم الشیخ عبدالقادر جیلانی رَحِمہ اﷲ غنیۃ الطالبین میں بیان فرماتے ہیں: لفظ شعبان پانچ حرفوں کا مجموعہ ہے: ش، ع، ب، الف اور ن شین شرف سے، عین علو، عظمت (بلندی) سے، باء بِر (نیکی اور تقویٰ) سے، الف اُلفت (اور محبت) سے اور نون نور سے ماخوذ ہے۔

اس مہینے میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے بندے کو یہ چار چیزیں عطا ہوتی ہیں۔ یہ وہ مہینہ ہے جس میں نیکیوں کے دروازے کھل جاتے ہیں اور برکات کا نزول ہوتا ہے گناہ گار چھوڑ دیے جاتے ہیں اور برائیاں مٹا دی جاتی ہیں اور مخلوق میں سب سے افضل اور بہترین ہستی حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ بے کس پناہ میں کثرت سے ہدیہ درود و سلام بھیجا جاتا ہے۔ امام قسطلانی نے المواہب اللدنیہ میں ایک لطیف بات کہی ہے۔ فرماتے ہیں:إِنَّ شَهْرَ شَعْبَان شَهْرُ الصَّلَاةِ عَلٰی رَسُوْلِ اﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم، لِأَنَّ آیَةَ الصَّلَاةِ یَعْنِي: اِنَّ ﷲَ وَمَلٰٓئِکَتَهٗ یُصَلُّوْنَ عَلَی النَّبِیِّ بے شک شعبان رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود و سلام بھیجنے کا مہینہ بھی ہے، اس لیے کہ یہ وہ مہینہ ہے جس میں درود و سلام کی آیت نازل ہوئی۔ یہ آیت ماهِ شعبان میں نازل ہوئی تو شعبان کا تعلق حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے درود و سلام کے ساتھ بھی ہے اور اللہ تعالیٰ کی بخشش و مغفرت اور توبہ کے ساتھ بھی ہے۔ لہٰذا اس ماہ اور شب برأت کی عبادت سے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ سے بھی قربت نصیب ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں بھی قرب نصیب ہوتا ہے۔

حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شعبان کو اپنا مہینہ قرار دیا اور اس ماہ کی حرمت و تعظیم کو اپنی حرمت و تعظیم قرار دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس ماہ میں کثرت سے روزے رکھتے اور دیگر اَعمال صالحہ بجالاتے۔حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:شَهْرُ رَمَضَانَ شَهْرُ اﷲِ، وَشَهْرُ شَعْبَانَ شَهْرِي، شَعْبَانُ الْمُطَهِّرُ وَرَمَضَانُ الْمُکَفِّرُ. ماهِ رمضان اﷲ تعالیٰ کا مہینہ ہے، اور ماهِ شعبان میرا مہینہ ہے، شعبان (گناہوں سے) پاک کرنے والا ہے اور رمضان (گناہوں کو) ختم کر دینے والا مہینہ ہے۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ماهِ رجب کی آمد پر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یوں فرمایا کرتے:اَللّٰهُمَّ، بَارِکْ لَنَا فِي رَجَبٍ، وَشَعْبَانَ، وَبَلِّغْنَا رَمَضَانَ. اے اللہ! ہمارے لیے رجب اور شعبان میں برکتیں نازل فرما اور رمضان ہمیں نصیب فرما۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:کَانَ أَحَبُّ الشُّهُورِ إِلٰی رَسُوْلِ اﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم أَنْ یَصُوْمَهٗ شَعْبَانَ، ثُمَّ یَصِلُهٗ بِرَمَضَانَ. رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تمام مہینوں میں سے شعبان کے روزے رکھنا زیادہ محبوب تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شعبان (کے روزوں) کو رمضان المبارک کے ساتھ ملا دیا کرتے تھے۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.