سال کی بچی کا نکاح ہو سکتا ہے

آج میں حضرت عائشہ کے نکاح اور رخصتی کے بارے میں تذکرہ کر وں گا۔ اور یہ تذکرہ کروں گا کہ نو سال کی عمر میں حضرت عائشہ کا نکاح اور اس کی حکمت کیا اس عمر میں نکاح جائز ہے یا نہیں ہے۔ سب سے پہلے درخواست ہے کہ ہماری تمام باتوں کو غور سے سنیے گا تا کہ ہماری ہر بات آپ کو بہت اچھے سے سمجھ آ سکے۔

چنانچہ حضرت خدیجہ کی وفات ہو گئی تو خولا بنت حکیم سے حضور پاک ﷺسے عرض کیا یا رسول اللہ کیا آپ نکاح نہیں کر لیتے آپ نے ارشاد فر ما یا کہ کس سے؟ عرض کیا کہ آپ چاہیں تو کنوراری سے کر لیں آپ چاہیں تو بیوہ سے کر لیں ۔ آپ ﷺ نے ارشاد فر ما یا کہ کنواری کون ہے؟ جواب دیا گیا کہ مخلوق میں جو آپ کو جو محبوب ہیں ان کی بیٹی ۔ جو کہ حضرت عائشہ آپ نے دو بارہ سوال فر ما یا کہ بیوہ کو ن ہے ؟ تو عرض کیا گیا کہ سودا بن ظمہ جو آپ پر ایمان لا چکی ہیں اور آپ کا احترام کر تی ہیں یہ سن کر بہتر ہے جاؤ دونوں جگہ میرا پیغام ہے

جاؤ چنانچہ پہلے حضرت ابو بکر صدیق کے گھر پہنچیں تو حضرت ابو بکر صدیق تشریف نہ رکھتے تھے تو آپ نے ان کی بیوی سے کہا کہ کچھ خبر بھی ہے کہ اللہ نے کس خیر و خبر سے نوازنے کا ارادہ فر ما یا ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا جواب دیا مجھے رسول اللہ ﷺ عائشہ صدیقہ کے ہاں پیغام دے کر بھیجا ہے تو آپ نے جواب دیا کہ حضرت ابو بکر صدیق تو گھر پر تشریف نہیں رکھتے۔ تو ان کے آ نے کا انتظار کرو۔ چنانچہ تھوڑی دیر میں وہ تشریف لے آ ئے ان سے بھی حضرت خولہ نے بھی یہی کہا۔ حضرت ابو بکر صدیق کچھ خبر بھی ہے کہ اللہ نے تم کو کس خیر و برکت سے نوازنے کا ارادہ فر ما یا بولے وہ کیا۔ جواب دیا کہ مجھے رسول اللہ ﷺ نےا س مقصد کے لیے بھیجا ہے کہ حضرت عائشہ

سے نکاح کرنے کے بارے میں آپ تک پیغام پہنچا دوں ۔ یہ سن کر حضرت ابو بکر صدیق نے فر ما یا کہ وہ تو آپﷺ کی بھتیجی ہیں کیو نکہ میں آپ کا بھائی ہوں۔ ان سے آپ کا نکاح ہو سکتا ہے کیو نکہ عرب اور مشر کین کسی کو بھی منہ بو لا بھائی یا بیٹا بنا لیتے تو اس کو معراج میں بھی شامل کرتے اور اس کے رشتہ داروں سے شادی بھی نہ کرتے تھے جو حرام ہوتے تھے اس سوال کا جواب لینے کے لیے حضرت خولہ بارگاہِ رسالت میں واپس پہنچیں اور حضرت ابو بکر صدیق کی باتیں سامنے رکھیں۔ تو جواب میں آیا کہ ابو بکر سے کہو کہہ دو کہ تم اور میں دونوں دینی بھائی ہیں۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.