محبت کی حقیقت

ایک شخص اپنی بیوی کو لے کر امام علی ؑ کی خدمت میں آیا اور دست ادب کو جوڑ کر عرض کرنے لگایاعلی یہ میری بیوی ہے میں اس سے بے پناہ پیار کرتاہوں محبت کرتا ہوں لیکن یہ میری بات نہیں مانتی میں اسے جو حکم دیتا ہوں وہ تسلیم نہیں کرتی بس یہ کہنا تھا تو امام علی ؑ نے فرمایا اے شخص کون کہتا ہے

کہ تم اس سے محبت کرتے ہو اس نے کہا یا علی میں محبت کرتاہوں اس کا گواہ میں ہوں امام علی ؑ نے فرمایا محبت اور پسند میں فرق ہے جو انسان اپنے آپ سے محبت کرتا ہے وہ چیزوں کو پسند کرتا ہے اور پسند کرنے کے بعد یہ چاہتاہے کہ مجھے پسند آنے والی چیز میرے حکم کو تسلیم کرے میری بات کو مانے لیکن جہاں محبت ہوتی ہے عشق ہوتا ہے پیار ہوتا ہے وہاں انسان اپنی مرضی کو پست اور اپنے وجود کو خم کردیتا ہے اے شخص یاد رکھنا محبت کی سب سے عظیم دلیل سجدہ ہے جھکنے کو محبت کہتے ہیں خود کو فنا کر کے اپنے محبوب کی رضا تسلیم کرنے کو محبت کہتے ہیں اپنی خوشی کو قربان کرکے اس کی خوشی میں خوش ہونے کو محبت کہتے ہیں شیطان اللہ کو پسند کرتا تھا لیکن اللہ سے محبت نہیں کرتاتھا

جہاں محبت ہوتی ہے وہاں سوال نہیں ہوتے وہاں شکوے نہیں ہوتے جب اللہ نے کہا کہ آدم کو سجدہ کرو تمام فرشتوں کو اللہ سے محبت تھی بس اللہ کے حکم کے نزدیک اپنے آپ کو خم کردیالیکن شیطان سوال کربیٹھا اور یہیں سے محبت اور پسند کا فرق واضح ہوگیا ۔محبت کیا ہے؟اس کا ایک سیدھا جواب تو یہ ہے کہ محبت ایک جذبہ ہے جس کی افادیت مسلمہ ہے اور اہمیت سے انکار بھی ممکن نہیں، ہم یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ محبت روشنی کی ایک کرن ہے جو اپنے اندر بے شمار رنگ سمیٹے ہوتی ہے لیکن جب اس کو جذبوں کے شیشے کی منشور میں سے گزارا جائے تو بے شمار حسین رنگ پھوٹ پڑتے ہیں اور ان رنگوں میں بے شمار جذبے پروان چڑھتے ہیں۔بعض لوگ محبت کو مختلف اقسام میں تقسیم کرتے ہیں حالانکہ محبت کی تقسیم ممکن ہی نہیں، لیکن اگر ہم ان کی رائے کو تسلیم کر لیں تو ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ماں کا اپنے بچوں سے پیار بھی محبت ہے، استاد بھی اپنے شاگرد سے

پیار کرتا ہے، کسی تخلیق کار کو بھی اپنی تخلیق سے محبت ہوتی ہے اور بعض اوقات یہ انسانی رشتوں سے بھی بڑھ جاتی ہے، انسان کا بچہ بھی ایک تخلیق ہے، قدرت کی بے حد خوبصورت اور انمول تخلیق اس لئے تو کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندے سے اس کی ماں سے کہیں زیادہ محبت کرتا ہے۔
تاہم ان محبتوں کے ساتھ ساتھ شاعروں نے ایک اور محبت بھی تخلیق کی ہے، یہ وہ محبت ہے جس کے متعلق ہم آج کل کم و بیش ہر نوجوان سے تذکرہ سنتے ہیں، اس محبت کا ظالم سماج سے گہرا ربط ہے بلکہ یوں کہنا بہتر ہو گا کہ دونوں کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔کسی شاعر نے محبت کی تعریف یوں بھی کی ہے کہ:اک لفظ محبت کا ادنیٰ سا فسانہ ہے۔۔سمٹے تو دل عاشق، پھیلے تو زمانہ ہے۔شاعر نے محبت کے متعلق گہری بات کہی ہے لیکن یہ پرانے وقتوں کی بات ہے کہ انسان صرف محبت کرتا تھا، اب اسے اور بھی بہت کام ہیں، یہ فیصلہ اب آپ کو کرنا ہے کہ محبت کی جائے یا دنیا کے کام کئے

جائیں، سولہ سترہ برس کا نوجوان یقیناً یہی کہے گا کہ دونوں کام ساتھ ساتھ بھی ہو سکتے ہیں لیکن تاریخ شاہد ہے کہ یہ دونوں کام ساتھ ساتھ نہیں ہو سکتے، محبت صرف محبت مانگتی ہے، ویسے اگر اس جذبے کا صحیح استعمال کیا جائے تو فرہاد کی سی ہمت اور استقلال کے ساتھ شہنشاہ وقت سے بھی ٹکر لی جا سکتی ہے، چاند کی تسخیر ہو سکتی ہے۔اپنے اعمال پر توجہ دیجئے حقوق العباد لازمی پورے کیجئے اور حقوق اللہ کا بھی خیال رکھئے کیونکہ اللہ کبھی حقوق کے تلف کرنے والے کو پسند نہیں فرماتا قیامت کے دن اللہ اپنے حقوق تو معاف فرمادے گامگر حقوق العباد یعنی اللہ کی مخلوق کے حقوق جو آپ نے ادا نہیں کئے ہوں گے ان کو معاف نہیں فرمائے گا ان پر آپ کو سزاد دی جائے گی اور آپ کی نیکیوں سے ان حقوق کو ادا کیا جائے گا ۔ اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔آمین

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.