امام علی ؓ نے فرمایا:کپڑے اتارتے وقت یہ کام نہ بھولنا۔

امام علی ؓ کے پاس ایک شخص آ کر غسل کا طریقہ سیکھ رہاتھا امام علی ؓ غسل کے آداب اور طریقہ بتاتے بتاتے فرمانے لگے اے بندہ خدا یاد رکھنا جب بھی غسل کے لئے اپنے جسم سے لباس اتارو تو یہ کام کبھی نہ بھولنا وہ کہنے لگا یا علی کونسا کام امام علی ؓ نےفرمایا جب بھی اپنے جسم سے لباس اتارو تو شیطان پر لعنت کرنا

کبھی نہ بھولنا وہ کہنے لگا یا علی وہ کیوں بات جب یہاں تک پہنچی تو امام علی ؓ نے فرمایا جب انسان اپنے جسم پر لباس پہنتا ہے تو انسان کا جسم اور پسینہ اس لباس پر لگتا رہتا ہے جب انسان اپنے جسم سے لباس کو اتارتا ہے تو شیطانی جن اس لباس کے آس پاس پھرتے رہتے ہیں اور یوں انسان بیمار ہونے لگتا ہے یاد رکھنا جو انسان لباس اتارتے وقت شیطان پر لعنت کرے اور لباس پہننے سے پہلے صحیح طرح سے پاک کر کے دھو کر سورج کی روشنی میں کچھ دیر رکھ کر پھر زیب تن کرے تو شیطانی جن اس انسان کے قریب نہیں آتے اور یوں وہ انسان روحانی اور جسمانی بیماریوں سے اللہ کی پناہ میں رہتا ہے ۔

اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت ہے جو انسانی جسم کو سردی، گرمی اورماحول کی آلودگی سے بچاتا ہے۔اللہ تعالیٰ ارشادفرماتا ہے: اور تمہارےلئے کچھ پہناوے بنائے کہ تمہیں گرمی سے بچائیں۔اتنا لباس جس سے سترِ عورت ہوجائے اور گرمی سردی کی تکلیف سےبچے،فرض ہےاوراس سے زائدجس سے زینت مقصود ہواور یہ کہ جبکہ اﷲ نے دیا ہے تو اُس کی نعمت کا اظہار کیا جائے یہ مستحب ہے۔ خاص موقع پر مثلاً جمعہ یا عید کے دن عمدہ کپڑے پہننا مباح(جائز)ہے۔ اِس قسم کے کپڑے روز نہ پہنےکیونکہ ہوسکتا ہے کہ اِترانے لگے اورغریبوں کو جن کےپاس ایسے کپڑے نہیں ہیں نظرِحقارت سے دیکھے،لہٰذااس سے بچناہی چاہیے۔مرد کے لیے ناف کے نیچے سے گھٹنوں کے نیچے تک’’ عورَت ‘‘ہے، یعنی اس کا چھپانا فرض ہے۔ناف اس میں داخِل نہیں اور گھٹنے داخِل ہیں۔

عورت کا جسم سر سے پاؤں تک ستر ہے جس کا چھپانا ضروری ہے سِوائے چہرے اور کلائیوں تک ہاتھوں اور ٹخنے سے نیچے تک پاؤں کے ، کہ ان کا چھپانا نماز میں فرض نہیں، باقی حصّہ اگر کُھلا ہوگا تو نماز نہ ہوگی۔ لہٰذا اُسکا لباس ایسا ہونا چاہئے جو سرسے پاؤں تک اس کو ڈھکا رکھےاور اس قدر باریک کپڑا نہ پہنے جس سے سرکے بال یا پاؤں کی پنڈلیاں یا پیٹ اُوپر سے ننگا ہو۔ گھر میں اگر اکیلی یا شوہر یا ماں باپ کے سامنے ہو تو دوپٹہ اُتار سکتی ہے لیکن اگر داماد یا دوسرا قرابت دار ہو تو سر باقاعدہ ڈھکا ہوا ہونا ضروری ہے اور شوہر کے سوا جو بھی گھر میں آئے وہ آواز سے خبر کرکے آئے۔عورت کو لازم ہے کہ لباسِ فاخِرہ،عمدہ برقعہ اوڑھ کر نہ باہر جائے کہ بھڑک دار برقعہ پردہ نہیں بلکہ زینت ہے۔مرد عورتوں کا اور عورتیں مردوں کا لباس نہیں پہن سکتیں

کیونکہ ایسے مردوں اور عورتوں پر حدیثِ پاک میں لعنت بھیجی گئی ہے چنانچہ حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ رسولِ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمَنے عورت کا لباس پہننے والے مرد اورمرد کا لباس پہننے والی عورت پرلعنت فرمائی ہے۔نبیِّ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمَاکثر سفید لباس زیبِ تن فرماتے۔ایک تحقیق کے مطابق سفیدلباس ہر قسم کے سخت موسمی تغیُّرات، کینسر، جلدی گلینڈز کے ورم، پسینے کے مسامات کی بندش اور پھپھوند کے امراض جیسی خطرناک اور تکلیف دہ بیماریوں سے حفاظت کرتا ہے ۔سنت یہ ہے کہ دامن کی لمبائی آدھی پنڈلی تک ہو اور آستین کی لمبائی زیادہ سے زیادہ انگلیوں کے پوروں تک اور چوڑائی ایک بالشت ہو ۔جو شخص کپڑا پہنے اور یہ پڑھے :اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ کَسَانِیْ ھٰذَا وَرَزَقَنِیْہِ مِنْ غَیْرِ حَوْلٍ مِّنِّیْ وَلاَ قُوَّۃٍ،تو اس کے اگلے پچھلے گناہ معاف ہو جائیں گے۔اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔آمین

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.