جس گھر میں یہ چار کام ہوتے ہیں وہاں غربت بھاگ کر آتی ہے ۔

جس گھر میں یہ کام ہوتے ہیں وہاں غربت بھاگ کر آتی ہے آج کل گھروں کے اندر گانے چل رہے ہوتے ہیں فلمیں چل رہی ہوتی ہیں عورتیں موسیقی کی آواز پر کام کررہی ہوتی ہیں کچن میں گھر میں اور کہتی ہیں الٹا کہ جی موسیقی تو روح کی غذا ہے اور اس بات کو بھول جاتی ہیں کہ جس گھر میں موسیقی

چلتی ہے اللہ ان کے روزی میں تنگی کردیتے ہیں دوسراعمل اولاد کو برا بھلا کہنا کچھ ماں باپ اولاد کو جلدی گالیاں دینا شروع کر دیتے ہیں یا برے الفاظ استعمال کرنا شروع کردیتے ہیں یا کوسنا شروع کر دیتے ہیں تو جو اولاد کو برے الفاظ کہیں گے یا کوسیں گے تو ان کے رزق کو اللہ تعالیٰ ویسے ہی تنگ کر دیتے ہیں اور قرآن مجید کو بلا وضو ہاتھ لگانا ۔قرآن مجید اللہ کا کلام ہے لا یمسہ الا المطہرون اس کو ہاتھ نہیں لگا سکتا مگر وہ جو پاک ہو تو ہمیں چاہئے کہ ہم باوضو ہو کر اس کو ہاتھ لگائیں اگر بے وضو ہاتھ لگائیں گے تو رزق کے اندر کمی آجائے گی پھر چوتھا عمل جس سے رزق میں کمی آتی ہے نامحرم کو دیکھنا ہے یہ بدنظر کی عادت آج اتنی عام ہوگئی ہے چاہے آتے جاتے بازار میں دیکھے گلی میں دیکھے سکرین کے اوپر دیکھے سیل فون کے اوپر دیکھے عورت کو دیکھے یا عورت کی تصویر کو دیکھے بات ایک ہی ہے تو نامحرم کو دیکھنے سے اللہ تعالیٰ رزق میں تنگی فرما دیتے ہیں ۔آج کا مسلمان اپنے مسائل کے حل کے لئے مشکل ترین دُنیوی ذرائع استعمال کرنے کو تو تیار ہے مگر اﷲ عَزَّ وَجَلَّ اور اسکے پیارے

رَسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے عطا کر دہ روزی میں بَرَکت کے آسان ذرائع کی طرف اسکی توجہ نہیں ۔ آج کل بیرُوزگاری و تنگدستی کے گمبھیر مسائل نے لوگوں کو بے حال کردیا ہے۔ شایدہی کوئی گھرایسا ہو جو تنگدستی کا شکار نہ ہو ۔یاد رکھئے!رِزْق میں بَرَکت کے طالب کیلئے ضَروری ہے کہ وہ پہلے رزْق میں بے بَرَکتی کے اسباب سے آگاہی حاصل کرکے ان سے چھٹکارا حاصل کرے، تاکہ رزْق میں بَرَکت کے ذرائع حاصل ہونے پر کوئی رکاوٹ پیش نہ آئے۔اس سلسلے میں احادیثِ مبارَکہ کی روشنی میں تنگدستی کے اسباب اور آخِر میں ان کا حل بھی پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ بغور مطالَعَہ فرمائیں اور اپنے روزمرہ کے معمولات میں اسکا نفاذ کرکے رِزْق میں بَرَکت کے اسباب کیجئے۔آج کل رِزْق کی بے قدری اور بے حرمتی سے کون سا گھر خالی ہے،

بنگلے میں رہنے واے اَرَبْ پَتِی سے لے کر جھونپڑی میں رہنے والا مزدورتک اس بے احتیاطی کا شکار نظر آتا ہے، شادی میں قِسْم قِسْم کے کھانوں کے ضائع ہونے سے لے کر گھروں میں برتن دھوتے وقت جس طرح سالن کاشوربا ، چاول اوران کے ا جْزا بہا کر مَعَاذَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نالی کی نذر کردیئے جاتے ہیں ، ان سے ہم سب واقف ہیں ، کاش رِزْق میں تنگی کے اس عظیم سبب پر ہماری نظرہوتی۔ اُمُّ الْمومِنین عائشہ صدیقہ رضی اﷲعنہا فرماتی ہیں ، تاجدارِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اپنے مکانِ عالیشان میں تشریف لائے، روٹی کا ٹکڑا پڑا ہوا دیکھا، اس کولے کر پونچھا پھر کھالیا اور فرمایا، عائشہ (رضی اﷲعنہا) اچھی چیز کا احترام کرو کہ یہ چیز (یعنی روٹی) جب کسی قوم سے بھاگی ہے لوٹ کر نہیں آئی۔ آج کل کئی دکاندار روزی میں بندِش ختْم کروانے کیلئے تعویذات، عملیات اور دعا کے ذرائع تواپنا تے ہیں ، مگر روزی میں بَرَکت کے زائل ہونے کا ایک بڑاسبب خریدوفروخت میں بے احتیاطی، اسکی طرف توجہ نہیں کرتے ۔حدیثِ پاک میں ہے کہ پیارے مَدَنی آقا سرکا ر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا، کہ بَیْع (یعنی تجارت) میں قَسَم کی کثرت سے پرہیز کرو کہ یہ اگرچہ مال کو بِکوادیتی ہے مگر بَرَکت کو مٹادیتی ہے۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.