حلالہ کیسے ہوتا ہے حلالہ جائز ہے یا ناجائز

اگر کسی عورت کو تین طلاقیں ہوجائیں تو وہ اپنے خاوند کیلئے حرام ہوجاتی ہے ۔ سورۃ بقرہ میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اگر تیسری بار طلاق ہوجائے وہ مرد اس کیلئے حلال نہیں جب تک وہ کسی دوسرے خاوند سے نکاح نہ کرے اس سے وہ نکاح مراد ہوتا جو شرعاً سہی ہے جس میں مرد ہمیشہ کیلئے بیوی کیساتھ

آباد کیلئے ہونے کیلئے نکاح کرتا ہے پھر اگر اتفاق سے دوسرے شوہر سے بھی نبھا نہ ہوسکے اور طلاق ہوجائے اور ایسی طلاق ہو تو اس میں رجوع نہ ہو ۔ تین طلاقیں ہوجائیں تو عورت عدت گزار کر پہلے خاوند کیساتھ نئے نکاح میں آسکتی ہے ۔ لیکن اس ارادے میں عارضی نکاح کرنا یہ ایک بڑا مسئلہ ہے جس کے لوگ دین سے کھیلتے ہیں یہ بات اسی لیے ہم باور کرانا چاہتے ہیں جو لوگ اس ارادے میں عارضی نکاح کرتے ہیں کہ پھر طلاق دلوا کر عورت کو پہلے خاوند کیلئے حلال کرلیں یہ نکاح باطل ہے اس طرح عورت پہلے خاوند کیلئے حلال نہیں ہوتی تو بعض بدبخت شکی وقلب لوگ ایسی بری حرکت کرتےہیں کہ ایگریمنٹ بناتے ہیں کہ یہ لڑکی سے شادی کرلو اس کو تم کل صبح طلاق دے دینا طلاق دینے کے بعد وہ عدت پوری کرے

گی پھر پہلا شوہر اس سے شادی کرلیگا ۔ یہ بلکل ناجائز ہے کیونکہ نکاح اس نیت کیا نہیں جاسکتا کہ میں اس عورت کو چھوڑ دونگا نکاح کیا جاتا ہے اس نیت کیساتھ کہ میں نے اس کے ساتھ گھر بسانا ہے اگر کسی شخص نے اس ارادے سے نکاح کیا کہ عورت کو پہلے خاوند کیلئے حلال بنائیں تو یہ نکاح باطل ہے ۔حضرت عبداللہ ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے حلالہ کرنے والے اور جس کیلئے کیا جارہا ہے دونوں پر لعنت کی ۔ یہ حدیث شریف ترمذی شریف میں درجہ سہی کو پہنچتی ہے کہ اس کا حکم یہ ہے کہ یہ نکاح باطل ہوگا ایسے کرنے والوں پر جو دین سے کھلواڑ کرتے ہیں لعنت ہے دونوں پر کہ اس نیت سے نکاح کیا کہ عورت کا حلالہ کیا جائے ۔ حلالے کی نیت سے نکاح نہیں کیا جاسکتا ہے ایسا نکاح فسق ہوگا باطل ہوگا

وہ نکاح ہی نہیں اس طرح عورت پہلے خاوند کیلئے جس نے تین طلاقیں دیں تھیں حلال نہیں ہوتیں اگر حلالہ کرنے والے نے مجامعت کرلی ہے تو عورت کو مہر دیکر ان کے درمیان تفریق کردی جائے اگر اس نیت سے کسی نے حلالہ کیا ہے ۔میں اس کو طلاق دے دونگا ایک رات کے بعد یہ پھر پہلے شوہر کیلئے جائز ہوجائیگی اس طرح کرنے والا شخص اگر اس عورت سے قربت بھی کربیٹھا ہے تو بھی عورت کو وہ مہر دیگا اور پھر دونوں تفریق ہوجائیگی کیونکہ نکاح ہی باطل ہے نکاح ہے ہی نہیں یہ حلالہ کا مسئلہ ہے ۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.