شب برات کا واقعہ تقدیر بدلنے والی رات میں کونسے اعمال کریں نصیب چمک جائیگا

آج شب برات کی رات کی عبادت اور اس کا واقعہ بتائیں گے اس رات اللہ تعالیٰ کے فرشتے پورے سال کا اعلان فرما دیتے ہیں کہ اس سال کیا ہوگا ۔ ایک آیت اتری جس کا ترجمہ یوں ہے کہ میرے محبوب اپنی امت کو سنائیے کہ ایک نیکی کرو گے تو دس نیکیاں دوں گا یہ بات آدم ؑ لیکر عیسیٰ ؑ ااور پھر میرے نبیﷺ

تک ایک ہی قانون ہے کہ ایک نیکی پر دس نیکیاں ملیں گی یہ قرآن وحدیث سے ثابت ہے یہ سن کر میرے نبیﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ بہت ہے۔ آپ نے فرمایا تھوڑا ہے زیادہ فرماؤ تو اللہ تعالیٰ نے دوسری آیت اتاری جس کا ترجمہ یہ ہے کہ کون ہے مجھے قرض دے میں کئی گُ۔نا زیادہ کرکے اس کو واپس کردوں ۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا ٹھیک ہے میرے محبوب نبی پاکﷺ نے فرمایا یا اللہ تھوڑا عطاء فرمائیں اللہ تعالیٰ نے کہا آپ کی امت کیلئے ایک پر سات سو نیکیاں دوں گا ۔ یا اللہ تھوڑا اور عطاء کر اچھا میرے محبو ب جو آپ کی امت میں صبر والے ہونگے ان کو بے حساب دونگا۔ یہ امت محمدیہ کا معاملہ اللہ تعالیٰ کیساتھ اور اللہ تعالیٰ کا معاملہ ہے امت محمدیہ کیساتھ اس خصوصی معاملے میں پندرہ شعبان کی رات ہے جو کہ لیلۃ القدر کی رات ہے جو اللہ تعالیٰ نے پہلے کسی امت نہ عطاء فرمائیں۔شب برات یا شب براءت اسلام کے آٹھویں مہینے شعبان کی 15ویں رات کو کہتے ہیں، مسلمان اس رات میں نوافل ادا کرتے، قبرستان کی زیارت کرتے اور ایک دوسرے سے معافی چاہتے ہیں۔

اس رات کو مغفرت کی رات اوررحمت کی رات بھی کہا جاتا ہے۔احادیث مبارکہ میں لیلۃ النصف من شعبان یعنی شعبان کی 15 ویں رات کو شب برات قرار دیا گیا ہے۔ اس رات کو براۃ سے اس وجہ سے تعبیر کیا جاتا ہے کہ اس رات عبادت کرنے سے اللہ تعالیٰ انسان کو اپنی رحمت سے دوزخ کے عذاب سے چھٹکارا اور نجات عطا کر دیتا ہے۔یہ رات مسلمانوں کے لئے آہ و گریہ و زاری کی رات ہے، رب کریم سے تجدید عہد کی رات ہے، شیطانی خواہشات اور نفس کے خلاف جہاد کی رات ہے، یہ رات اللہ کے حضور اپنے گ ن اہ وں سے زیادہ سے زیادہ استغفار اور توبہ کی رات ہے۔

اسی رات نیک اعمال کرنے کا عہد اور برائیوں سے دور رہنے کا عہد دل پر موجود گ۔ن اہوں سے زنگ کو ختم کرنے کا موجب بن سکتا ہے۔نبی کریم ﷺ رمضان کے بعد ماہِ شعبان میں روزں کا زیادہ اہتمام فرمایا کرتے تھے۔ اس سلسلے میں حضرت اسامہ بن زیدؓ نے آپ ﷺ سے عرض کیا کہ ’’میں نے آپﷺ کو رمضان کے علاوہ شعبان میں اتنے روزے رکھتے نہیں دیکھا، حضوراکرم ﷺنے فرمایا کہ شعبان رجب اور رمضان کے درمیان ہونے کی وجہ سے لوگ اس سے غفلت برتنے لگتے ہیں، حالانکہ یہ مہینہ ایسا ہے کہ لوگوں کے اعمال اللہ کے سامنے پیش کئے جاتے ہیں، اس لئے میں یہی پسند کرتا ہوں کہ روزے کے ساتھ میرے اعمال اللہ کے دربار میں پیش کئے جائیں۔اس بابرکت رات میں آپ نے اپنے گ۔ن اہوں کی توبہ کرنی ہے عبادات اور اللہ تعالیٰ کا ذکر زیادہ سے زیادہ کرنا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہم پر راضی ہوسکے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.