ایسا پھل جسکا ایک بیج کھانے سے فیل گردے دوبارہ کام شروع کردیں گے

شاہ بلوط کسی خاص جغرافیائی دائرے کے اندر محدود نہیں۔ بحر متوسط کے اطراف میں پھیلے ملک اس پھل کی پیداوار کے لیے مشہور ہیں۔ یونان کو اس حوالے سے سب سے زیادہ اہمیت حاصل ہے۔ اس کے علاوہ ترکی، ایران اور چین میں بھی اس کی اچھی خاصی پیدوار ہوتی ہے۔جہاں تک شاہ بلو ط کے طبی فواید کا تعلق ہے

یہ باقی تمام خشک پھلوں کی نسبت زیادہ موثر اور کئی طبی خواص کا حامل پھل ہے۔ شاہ بلوط وٹا میں A, ،B اور C، کیلشیم اور فاسفورس سے بھرپور خوراک ہے۔ چکنائی، پروٹین اور نشاستہ جات کی وافر مقدار کے ساتھ ساتھ انتہائی کم کولسٹرول کی مقدار کا حامل پھل ہے۔پہلے سے ہی ذکر کیا ہے، بلوط نہ صرف ایک درخت سمجھا جاتا ہے. یہ اکثر عظیم طاقت اور ہمیشگی کے مقابلے میں ہے. یہ بھی ایک عام فقرہ طرف سے ثبوت ہے “سو سال بلوط.” اس درخت میں بہت سے حیرت، اس کی اوسط شرح نمو دورانیہ – 400 سال. شاہ بلوط کی چھال کے اوک اور طبی خصوصیات ہمیشہ گہری دلچسپی ہوئی. سب کے بعد، درخت میں اب بھی واقع ہے اور ایک خاص چمک. اس بلوط اس کے وجود کے 20-40 کے بعد ہی سال کھلتے شروع ہوتا ہے کہ نوٹنگ کے قابل ہے. اونچائی تک 150 سال تک جا، لیکن موٹائی میں اضافہ کے زندگی بھر کی ہے.شاہ بلوط کی چھال – مختلف بیماریوں میں استعمال کی جاتی ہے ، جل، اور زبانی گہا سے نمٹنے کے لئے سب سے زیادہ مؤثر ایجنٹ. اس فراسٹ بائیٹ سے بچاتا ہے اور یہاں تک کہ کچھ خواتین کی بیماریوں کے علاج میں جل پر ایک شفا یابی اثر ہے اور سنڈروم پسینہ ختم، اسہال سے لڑتا ہے

شاہ بلوط کے پتوں سے بنی چائے صحت کے لئے بہت ہی زبردست ہے اور سانس کی بیماری میں فائدہ مند ہے اور مدافعتی نظام کو مظبوط بناتی ہے۔اسکے لئے اس سے بنا مشروب جسم سے غیر ضروری مادوں کو نکالتا ہے اور جسم میں خ۔ون کی گردش کو بہتر کرتا ہے اور اسطرح سے جسم میں تمام اعضاء ٹھیک سے کام کرتے ہیں۔شاہ بلوط کے پودے کی کھا ل معدے کے مسائل کو ختم کرتی ہے اور اسکے بیج کھانے سے گردوں کی ورم ختم ہوتی ہے اور گردوں کے امراض سے چھٹکارہ ملتا ہے اور مریض صھت مند ہوجاتا ہے ۔شاہ بلوط کے خشک پھول مثانے اور دائمی پیچش کے لئے اکسیر ہیں۔اس کے علاوہ اس کی چھال سے زخموں کا علاج بھی کیا جا تا ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.