ایک نوجوان رسول اللہﷺ کی خدمت کیا کرتا تھا اسنے گزرتے ہوئے ایک انصاری کے گھر جھانک لیا

حضرت جابر بن عبداللہ انصاری کی روایت ہے کہ ایک انصاری نوجوان نے اسلام قبول کیا جسکا نام ثعلبہ بن عبدالرحمٰن تھا۔ یہ نوجوان رسول اللہﷺ کی خدمت کیا کرتا ایک مرتبہ رسول اللہﷺ نے انہیں کسی کام کیلئے بھیجا تو اسنے گزرتے ہوئے ایک انصاری کے گھر جھانک لیا تو اندر عورت غسل کررہی تھی ۔

اب اس نوجوان کو خ وف ہوا کہ کہیں ایسا نہ ہوکہ میری اس حرکت کی رسول اللہﷺ کو اطلاع ہوجائے ۔لہذا خ وف اور شرمندگی کے باعث وہ واپس بارگاہ رسالتﷺ میں حاضر نہ ہوا اور وہاں سے بھاگ کر مدینہ کے پہاڑوں میں جاکر چھپ گیا ۔ اسکو غائب ہوئے چالیس دن گزر گئے تو حضرت جبرائیل ؑ نازل ہوئے اور فرمایا اے محمدﷺآپ کا رب آپکو سلام کہتے ہیں اور یہ کہ آپ کی امت کا ایک شخص ان پہاڑوں میں چھپا مجھ سے پناہ کی درخواست کررہا ہے رسول اللہﷺ نے حضرت عمر ؓ اور حضرت سلمان فارسی ؓ سے فرمایا تم دونوں جاؤ اور اس نوجوان ثعلبہ کو تلاش کرکے میرے پاس لاؤ۔ یہ دونوں حضرات مدینہ منورہ سے ان پہاڑوں کیطرف تلاش میں نکلے ۔ راستے میں مدینہ منورہ کے دفافہ نامی ایک چرواہے سے ملاقات ہوئی تو اس سے پوچھا کیا تم نے ان پہاڑوں کے دامن میں کسی ثعلبہ نامی کسی نوجوا ن کو تو نہیں دیکھا اس نے کہا شاید آپ لوگ جہ نم کے ڈر سے بھاگے ہوئے نوجوان کے بارے میں سوال کررہے ہیں ان حضرات نے کہا تمہیں کیسے معلوم ہوا کہ وہ ج ہنم سے بھاگا ہوا ہے اسنے بتایا کہ وہ اس لئے کہ جب آدھ یرات گزرتی ہے تو وہ اپنی پیشانی پر ہاتھ رکھے پہاڑوں کے دامن سے نمودار ہوکر اس طرح صدالگاتا ہے کاش تو میری روح کو بھی روحوں میں قبض کرلیتا اور جسم کو جسموں میں اورمجھے فیصلے کے دن کیلئے مقرر نہ رکھتا حضرت عمررضی نے فرمایا کہ ہاں اس نوجوان کی تلاش میں ہیں تو وہ انہیں پہاڑوں کی طرف لے کر چلا گیا

یہاں تک کہ جب آدھی رات کا وقت ہوا تو نوجوان حسب معمول اپنی پیشانی پر ہاتھ رکھ کر نمودار ہوا اور وہی الفاظ دہرائے کہ کاش تو میری روح کو بھی روحوں میں قبض کرلیتا اس دوران حضرت عمر ؓ نے جھپٹ کر اسے پکڑ لیا تو اس نے پوچھا کیا رسول اللہﷺ کو میر ے گ نا ا ہ و ں کے باےر میں معلوم ہوگیا ہے فرمایا یہ تو مجھے معلوم نہیں البتہ کل شام آپﷺ نے تمہیں یاد کیا تو پھر مجھے اور سلمان فارسی ؓ کو تمہاری تلاش میں بھیج دیا کہ جاؤ ثعلبہ کو ڈھونڈ کر لاؤ ۔ اس نے کہا کہ پھر ایسا کرو مجھے اس وقت بارگاہ اقدس میں لے چلو جب پہنچے تو آپﷺ نماز پڑھ رہے تھے حضرت عمر ؓ اور سلمان فارسی ؓ ثعلبہ کو پیچھے صف میں کھڑا کردیا ثعلبہ نے جب نماز کی حالت میں رسول اللہﷺ کی تلاوت سنی تو بے ہوش ہوکر گر پڑا ۔سلام کے بعد جب رسول اللہﷺ نے جب ان حضرات سے ثعلبہ کے بارے میں پوچھا

تو عرض کیا یا رسول اللہﷺ یہ رہا ثعلبہ ۔رسول اللہﷺ نے اسے ہلایا تو ہوش میں آگیا آپﷺ نے فرمایا تجھے کس چیز نے مجھ سے دور کردیا تھا۔ عرض کیا یارسول اللہﷺ میرے گ ن ا ہ نے ۔آپﷺ نے اسے تسلی دی اور اسے اپنے گھر جانے کا حکم فرمایا جس کے بعد یہ نوجوان آٹھ دن تک بیمار پڑا رہا ۔ اطلاع ملنے پر حضرت سلمان فارسی ؓ بارگاہ رسالتﷺ میں حاضر ہوکر عرض گزار ہوئے یارسول اللہ احساس گ ن ا ہ نے ثعلبہ کو بیمار کرڈالا رسول اللہﷺ نے فرمایا چلو ابھی ثعلبہ کی عیاد ت کریں آپﷺ اس کے پاس تشریف لائے اور اس کا سر اپنی گود میں لے لیا۔آپﷺ نے فرمایا اس وقت تم کیا محسوس کرتے ہو اسنے کہا یارسول اللہﷺمجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ میرے جسم کے گ و شت میرکھالوں اور ہڈیوں کو چیونٹیاں سی کاٹ رہی ہیں۔ آپﷺ نے فرمایا کوئی خواہش ہو تو بتاؤ عرض کیا یارسول اللہﷺ میرے رب کی طرف سے مغفرت کا پروانہ اور بس حضرت جبرائیلؑ نے نزول فرمایا اور فرمایا اگر میرا یہ بندہ زمین کی مقدار بھر بھی گ ن ا ہ کرتا تو میں اسی مقدار میں اپنے رحمت ومغفرت کے ساتھ اسکا استقبال کرتا ۔ جب رسول اللہﷺ نے ثعلبہ کو اللہ کا پیغام دیا تو اسنے ایک چیخ ماری اور اس کی روح قبض ہوگئی۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.