روٹی کے لقمہ پر اللہ کریم کا یہ نام صرف 11 بار پڑھ کر پرندوں کو کھلانے سے اتنارزق اور دولت برسے گا کہ 7 پشتیں آباد ہوجائیں گی۔

اس تحریر میں بہت ہی زبردست وظیفہ شیئر کیاجارہا ہے جو کہ رزق میں کشادگی کے حوالے سے ہے جو کوئی بھی اس کو اپنائے گا انشاء اللہ اللہ تبارک وتعالیٰ اس کے رزق میں کشادگی اس کے رزق میں برکت عطافرمائے گا اور اللہ اسے اتنا زیادہ مال عطافرمائیں گے کہ وہ صاحب استطاعت ہو کر لوگوں کو کھلائے گا

لوگوں کو اپنا رزق بانٹے گا تب بھی اس کارزق ختم ہونے کا نام نہیں لے گا۔ہمارا دین ہمیں جائز طریقوں سے روٹی روزی کمانے کا حکم دیتا ہے حرام مال کے نقصانات اور اس کے مہلک اثرات سے بھی خبر دار کرتا ہے تا کہ انسان مال و دولت کی لالچ میں حلال اور حرام کی تمیز ہی نہ کھو بیٹھے۔لیکن افسوس آج کل دیکھنے میں یہ آتا ہے کہ لوگ دولت کی حرص میں اتنے اندھے ہوچکے ہیں کہ ان کو احساس ہی نہیں ہوتا کہ یہ دولت ناجائز طریقے سے حاصل ہورہی ہے کسب حلال شرافت کی علامت اور عزت و وقار کی دلیل ہے جب تک انسان حلال رزق کی تلاش میں سرگرم رہتا ہے تو اسکو نہ سستی چھوتی ہے اور نہ ہی وہ دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلاتا ہے بیشک دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلانا معیوب بات ہے اس لئے کہاجاتا ہے کہ انسان کو حصول رزق کے لئے استقلال سے کام لینا چاہئے جتنا رزق انسان کے مقدر میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے رکھ دیا ہوتا ہے وہ اسے مل کر ہی رہتا ہے کوئی اس کے منہ سے نوالہ تک نہیں چھینتا خواہ کوئی اس کی راہ میں کتنی ہی رکاوٹیں ڈالنے کی کوشش کرے۔

اس کے حصے کے رزق کو کوئی بھی نہیں چھین سکتا یہ تو ہم سب کو معلوم ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ کی رضا شامل نہ ہو تو کوئی پتہ بھی اپنی جگہ سے نہیں ہل سکتا انسان اپنی روزی کمانے کے لئے جو اور جیسی بھی محنت کرتا ہے خواہ وہ محنت جسمانی ہو یا دماغی اور اپنا پیسہ بہا کر اپنی روزی روٹی حاصل کرتا ہے اس کو عزت کی نگاہ سے دیکھاجاتا ہے پیشے کی حقارت مٹانے کے لئے محنت اور مزدوری کی عزت افزائی کے لئے حضرت محمد ﷺ نے بھی خود اس کا عملی نمونہ پیش کیا طلب معاش اور کسب حلال ایسا مشغلہ ہے جس میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے انبیاء کرم اور عوام کو جمع فرمادیا اس لئے کسب حلال سنت رسول سمجھ کر کرنا چاہئے اس میں دنیا کی عزت بھی ہے اور آخرت کی سرخروئی بھی اس لئے ہم دیکھتے ہیں کہ مختلف انبیاء کرام نے مختلف پیشے اپنائے مثلا آدم ؑ ہل جوتتے۔

حضرت نوح بڑھئی کا کام کرتے حضرت ادریس کپڑے سیتے حضرت صالح تجارت کرتے حضرت ابراہیم کھیتی باڑی کرتے حضرت شعیب و موسیٰؑ بکریوں کی نگہبانی فرمایا کرتے تھے اورپھر اماں حوا اپنے ہاتھوں سے کپڑوں کو بن کر پہنا کرتی تھیں یہی وہ ہے کہ محنت مزدوری کرنا ہاتھ سے کما کرنا کوئی کسب اختیار کرنا کسی ہنر فن یا کسی بھی قسم کی کاریگری اور صنعت و حرفت کو ذریعہ معاش کے لئے بطور پیشہ اختیارکرنا کوئی معیوب چیز نہیں اسی لئے محنت کش اللہ تعالیٰ کا دوست ہوتا ہے ۔وظیفہ یہ ہے کہ آپ جب بھی کھانا کھانے بیٹھیں تو پہلا لقمہ منہ میں ڈال کر واپس باہر نکال لیں۔

اور پھر اس لقمے پر یاباسطُ 11 مرتبہ پڑھ لیں جب بھی کھانا کھائیں تو اس عمل کولازمی کریں پھر اس لقمے کو مٹی کے برتن میں ڈال دیں اور پھر دوسرا پیالہ لین اور اس میں پانی ڈال دیں دونوں پیالوں کو کسی ایسی جگہ رکھیں جہاں پرندے وغیرہ آتے ہوں یا مکان کی چھت پررکھ دیں جہاں پرندےوغیرہ آتے ہوں تا کہ اس کھانے کو اور اس پانی کو پرندے استعمال کرلیں اور اس عمل کو آپ نے 11 روز تک کرنا ہوگا اور یہ عمل کرنے کے بعد آپ نے صبح نماز فجر پڑھ کر دس بار یاباسِطُ پڑھ کر اپنے ہاتھوں پر دم کر کے اپنے ہاتھوں کو چہرے پر پھیر لیں اور اس عمل کو اپنا معمول بنالیجئے تو انشاء اللہ آپ کے رزق میں کبھی بھی کمی نہیں ہوگی کبھی بھی تنگدستی کا سامنا نہیں ہوگا۔اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔آمین

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *