میری 5باتیں ہمیشہ یاد رکھنا بہت کا میاب ہو گے

حضرت علی  سخاوت، شجاعت، عبادت، ریاضت ، فصاحت اور بلاغت کے پیکر تھے۔ اور میدانِ خطابت کے شہسوار مانے جاتے تھے۔ حضرت علی  میں جہاں یہ تمام خوبیاں تھیں وہیں آپ ہر ایک میں ممتازو یگانہ حیثیت رکھتے تھے۔ صحابہ کرام  میں جو لوگ اعلیٰ درجے کے فصیح و بلیغ و اعلیٰ درجے

کے شجاعت اور بہادری میں سب سے فائق پائے جاتے تھے۔ ان میں آپ کا مقام بہت او نچا تھا۔ خلیفہ چہارم سیدناحضرت علی المرتضی ٰ میدانِ جنگ میں تلوار کے دھنی اورمسجد میں عبادات میں زاہد و شب ِ دار تھے۔ مفتی و قاضی اور علم و عرفان کے سمندر تھے۔ عزم و حوصلے میں بے مثل۔ ذہانت میں بے مثل۔ حضور اکرم ﷺ کے چچا زاد بھائی اور داماد ۔ فضائل و فضیلت بے شمار۔ سخی و فیاض۔ دوسروں کا دکھ بانٹنے والے عابد و پرہیز گار۔ مجاہد و جانباز ایسے تھے کہ نہ دنیا کو ترک کیا اور نہ آخرت سے کنا رہ کشی اختیار کی ۔ ان سب کے باوجود نہایت سادہ زندگی گزارنے والے تھے۔ دوستو یہ آپ  فصاحت و بلاغت ہی تھی کہ چودہ سو سال بعد بھی آپ کے علم کے چرچے ہیں اور آپ  کے اقوالِ زریں سے آج بھی لوگ استفادہ حاصل کر رہے ہیں۔ حضرت علی  کے اقوال میں سے آج ہم آ پ کو وہ پانچ باتیں بتانے جا رہے ہیں جو آپ  حضرت کمیل کو بطور نصیحت فر مائی تھیں ۔ یہ پانچ نصیحتیں کیا تھیں۔

پیارے دوستو اللہ تعالی ٰ نے حضرت علی  ایک مقام اور مرتبہ دیا تھا اور آپ  کی فہم و فراصت کے لیے اللہ کے حبیب سرکارِ دو جہاں حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے دعا فر مائی تھی اور یہ آپ ﷺ کی دعا ہی کی بر کت تھی کہ آج بھی شیرِ خدا، حیدرِ قرار حضرت علی  کی فہم و فراصت کے چرچے ہیں۔حضرت علی  علم کے بارے میں بتا یا کرتے تھے کہ علم مال سے بہتر ہے۔ کیونکہ علم انسان کی حفاظت کر تا ہے جبکہ مال کی حفاظت انسان کو کرنی پڑتی ہے۔ مال خرچ کرنے سے کم ہو جاتا ہے لیکن علم خرچ کرنے سے بڑھتا ہے۔ او ر فر ماتے تھے کہ جو شخص مال کے بلبو تے پر عزت حاصل کر نے کی کوشش کرتا ہے ۔ تو جیسے ہی مال ختم ہوتا ہے ۔

اسکی عزت ختم ہو جاتی ہے۔ جبکہ علم کی وجہ سے عزت حاصل کرتا ہے تو اس کی عزت ہمیشہ کے لیے رہتی ہے اور فر ما یا کہ علم کی وجہ سے ہی انسان نامور رہتا ہے حتیٰ کہ وہ مر بھی جاتے۔ علم حاکم ہے اور ما ل محکوم۔ اس لیے ہمیں چاہیے کہ علم کو مال پر ترجیح دیں۔ کمیل ابن زیاد ؒ فرما تے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت علی  اور ایک صحرا ایک قبرستان کی طرف چل دیے اور فر ما یا کہ کمیل یہ دل ایک برتن ہے ۔ اس میں جو چاہے ڈال دو اور اس کے بعد فر ما یا کہ میں تمہیں پانچ باتوں کی نصیحت کرتا ہوں۔ ان باتوں کو غور سے سنو اور ان کو پلو سے باندھ لو۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.