خواب کی تین قسمیں ہیں ۔آپ کے خواب کی کونسی قسم ہے ؟

خواب 3 قسم کے ہوتے ہیں۔1۔ لا شعور کی باتیں سوچیں یا خواہشیں۔2۔ بے تکے خواب جن کا نہ کچھ جوڑ ہوتا ہے نہ مطلب۔سایکالوجی میں اسے اضافی انفارمیشن کے طور پے جانا جاتا ہے جو ماینڈ میں آ جاتی ہے لیکن اس کی ضرورت نہیں ہوتی۔ خواب میں کوڈڈ فارم میں یہ انفارمیشن ہوتی جاتی ہے جس کی وجہ سے

بے تکے خواب آتے ہیں۔3۔ سچے خواب:سچے خواب نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہیں۔ سچے خواب سمجھ آنےوالی زبان میں بھی آتے ہیں اور کوڈڈ فارم میں بھی۔سچے خواب بھی اکثر ہمارے روز مرہ اور جانے پہچانے ماحول کے اندر ہی ہوتے ہیں۔ مثلا کوی شخص بینک میں نوکری کرتا ہے تو وہ خواب میں بینک کا ماحول ہی دیکھے گا اس ماحول میں کیا کچھ کیسے ہو رہا ہے اس میں خواب کا مطلب ہوتا ہے۔ لیکن بعض اوقات مطلب نہیں بھی ہوتا۔کوئی خاتون اپنے آپ کو گھر کے کام کاج کرتے دیکھتی ہے تو اس میں مطلب ہو سکتا ہے۔خوابوں کا مطلب خود سے نہیں نکالنا چاہیے کسی معبر ( تعبیر بتانےوالا) سے پوچھنا چاہیے۔ کچھ خوابوں کے اصل مطلب ظاہری مطلب سے بلکل الٹے ہوتے ہیں۔ جیسے مرنے کا مطلب زندگی اور رونے کا مطلب خوشی ہوتا ہے۔معبر کو خواب بتا کر اس پر چھوڑ دینا چاہیے کہ وہ تعبیر بتانا چاہتا ہے یا نہیں۔

بعض اوقات تعبیر نہ بتانا بہتر ہوتا ہے۔یہ جو بات مشہور ہے کہ جس کو خواب بتایں وہ جو کہے وہی ہو جاتا ہے… اس بات میں کوی حقیقت نہیں ہے۔ البتہ خواب ہر اک کو بتانے نہیں چاہییں۔ صرف مطلب جاننے والوں کو بتانے چاہییں۔ اچھے خواب فرشتوں کی طرف سے آتے ہیں اور برے شیطان کی طرف سے۔خواب میں مردے کو دیکھنے کے بہت سے مطلب ہوتے ہیں یہ جو لوگ یہ سمجھ لیتے ہیں کہ اس کا مطلب ہے کہ ہمارا وقت آ گیا ہے ایسا نہیں ہے۔ معبر بتاۓ گا کہ کیا مطلب ہے۔ عام طور پر ہمارے بزرگ ہمارے خواب میں اس کیے آتے ہیں کہ ہم ان کے لیے دعاۓ نغفرت اور ایصال ثواب کریں۔ سورت زمر آیت 42 کی تفسیر میں آتا ہے کہ جب ہم سو جاتے ہیں تو ہمارا نفس فوت شدہ لوگوں کے نفوس سے ملتے ہیں۔اگر کوئی برا خواب دیکھیں تو بائیں طرف تین دفعہ تھوکیں اور اللہ کی پناہ طلب کریں تو خواب کا اثر زائل ہو جائے گا۔جس نے خواب میں حضور پاک صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا اس نے آپ کو ہی دیکھا کیونکہ شیطان حضور پاک کی شکل میں نہیں آ سکتا ۔اگر کوی حضور پاک کو جسمانی یا نورانی کمی کے ساتھ دیکھے تو اس کی تعبیر صاحب خواب کی کمزوری اعمال کی ہوتی ہے۔خواب کے بارے میں نبی کریم صلی الله عليه وسلم کے ارشادات:رسول الله صلی الله عليه وسلم نے فرمایا:جس نے مجھے خواب میں دیکھا تو کسی دن مجھے بیداری میں بھی دیکھے گا اور شیطان میری صورت میں نہیں آ سکتا۔رسول اللہ صلی اللہ علیه وسلم نے فرما یا:جس نے مجھے دیکھا اس نے حق دیکھا۔

رسول الله صلی الله عليه وسلم نے فرمایا:اچھے خواب الله کی طرف سے ہوتے ہیں اور برے خواب شیطان کی طرف سے ہوتے ہیں۔رسول الله صلی الله عليه وسلم نے فرمایا:صالح خواب الله كی طرف سے ہوتے ہیں اور برے خواب شیطان کی طرف سے پس جو کوئی برا خواب دیکھے تو اپنے بائیں طرف کروٹ لے کر تین مرتبہ تھو تھو کرے اور شیطان سے الله کی پناہ مانگے وہ خواب بد اس کو نقصان نہیں دے گا اور شیطان کبھی میری شکل میں نہیں آ سکتا۔رسول الله صلی الله عليه وسلم نے فرمایا:جب کوئی تم میں سے ایسا خواب دیکھے جس کو برا سمجھے تو بائیں طرف تین بار تھوکے اور شیطان سے پناہ مانگے الله کی تین بار اور جس کروٹ پر لیٹا ہو اس سے پھر جائے کروٹ بدل لے۔رسول الله صلی الله عليه وسلم نے فرمایا:نیک خواب نبوت کے ستر (70) حصوں میں سے ایک حصہ ہے۔رسول الله صلی الله عليه وسلم نے فرمایا:نبوت میں سے صرف اب مبشرات باقی رہ گئی ہیں۔پوچھا گیا مبشرات کیا ہیں؟فرمایا:اچھے خواب۔رسول الله صلی الله عليه وسلم نے فرمایا:مومن کا خواب نبوت کا چھیالیسواں (46) حصہ ہے۔رسول الله صلی الله عليه وسلم نے فرمایا:بےشک میرے بعد نبوت کا کوئی حصہ باقی نہیں سوائے اس کے کہ کسی کو کوئی نیک خواب آ جائے۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.