جھوٹ بولتے ہیں وہ لوگ جو یہ وظیفہ پڑھیں اور کہتے ہیں کہ ہمارا کام نہیں ہوتا دولت نہیں آتی

ایک بات تو یہ ہے کہ نماز جماعت کے ساتھ پڑھنا پیغمبرانہ کردار ہے اور امت کو قیامت تک کے لئے نبی کے کردار کا پابند کیا گیا ہے یہ انعام اللہ نبیوں کو دیتا ہے اور ایک نبی کم از کم چھوٹے سے چھوٹے امتی سے کتنا بڑا ہوگا ایک عام نبی سوا لاکھ درجے بلند ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ نینوا کی قوم کی

تعداد بھی سوا لاکھ ہے اور حضرت یونس نے ایک ہی دفعہ کہا لا الہ الا انت سبحانک انی کنت من الظالمین اب جب ہم سوالاکھ مرتبہ اخلاص سے اور دل سے توجہ سے نیک گھڑی میں آیت کریمہ پڑھ لیتے ہیں تو مشکل حل ہوجاتی ہے بالکل حل ہوتی ہے لوگ جھوٹ بولتے ہیں یا تو پڑھتے نہیں ہیں یا تعداد میں گڑ بڑ کرتے ہیں بالکل جھوٹ ہے مشکل ایسے حل ہوتی ہے جیسے کاغذ پانی میں ڈالتے ہیں اور وہ گھلتا ہے ایسے حل ہوتی ہے لوگ کیا کرتے ہیں پچاس طلبا دے دیں اور دس خود بیٹھ جاتے ہیں آدھے گھنٹے میں پڑھ لیا ہم تو یہاں بٹھاتے ہیں چودہ سو طلباء ہیں دو گھنٹے پڑھتے ہیں پورا نہیں ہوتا گویا یہ اتنا آسان کام نہیں کہ طلباء کو پیسے دے کر تعداد پوری کرا لیجائے ۔حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اے انسان! جب تک تو مجھ سے دعا کرتا اور اُمید رکھتا رہے گا،

میں تیرے گناہ بخشتا رہوں گا چاہے تجھ میں کتنے ہی گناہ ہوں مجھے کوئی پرواہ نہیں۔ اے انسان! اگر تیرے گناہ آسمان تک پہنچ جائیں پھر تو بخشش مانگے تو میں بخش دوں گا مجھے کوئی پرواہ نہیں۔ اے انسان! اگر تو زمین بھر گناہ بھی لے کر میرے پاس آئے لیکن تو نے شرک نہ کیا ہو تو میں تجھے اس کے برابر بخشش عطا کروں گا۔حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: دجال کے ساتھ پانی ہو گا اور آگ بھی۔ پس جسے لوگ دیکھیں گے کہ یہ آگ ہے وہ حقیقت میں ٹھنڈا پانی ہو گا اور جسے لوگ ٹھنڈا پانی سمجھیں گے وہ جلانے والی آگ ہوگی۔ پس جو کوئی تم میں سے اس کے ہتھے چڑھ جائے تو وہ اُس کی آگ میں چلا جائے کیونکہ وہ میٹھا اور ٹھنڈا پانی ہوگا۔ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے سنا: گذشتہ زمانوں کے کسی آدمی کے پاس ملک الموت اُس کی روح قبض کرنے آیا تو اس سے پوچھا: کیا تجھے اپنی کوئی نیکی معلوم ہے؟ وہ کہنے لگا کہ میرے علم میں تو کوئی نہیں۔ اس سے کہا گیا، ذرا اور توجہ سے دیکھ۔ وہ کہنے لگا کہ میرے علم تو کوئی چیز نہیں سوائے اس کے کہ میں لوگوں کے ساتھ خرید و فروخت کرتا تھا

تو مالدار کو مہلت دے دیا کرتا اور غریب آدمی سے درگزر کرتا رہتا تھا۔ اِس نیک عمل کے سبب اللہ تعالیٰ نے اسے جنت میں داخل کر دیا۔ اُنہوں نے یہ بھی روایت کی ہے کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے سنا: ایک آدمی کی جب موت قریب آئی اور اُسے زندگی سے مایوسی ہوگئی تو اس نے اپنے اہل و عیال کو وصیت کی: جب میں مر جاؤں تو میرے لئے بہت سا ایندھن لے کر اس میں آگ لگا دینا۔ جب وہ میرے گوشت کے ساتھ ہڈیوں کو بھی جلا دے تو انہیں جمع کرکے پیس لینا اور جس روز تیز ہوا چلے اس روز وہ راکھ کسی دریا میں ڈال دینا۔ اس کے خویش و اقارب نے ایسا ہی کیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے تمام اجزا اکٹھے کر کے پوچھا: تو نے ایسا کیوں کیا؟ جواب دیا: تیرے ڈر سے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اس کی مغفرت فرما دی۔ حضرت عقبہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے اور وہ آدمی مردے دفنانے کا کام کرتا تھا۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.