فالجھ سے نجات کا پاور فل وظیفہ جو کوئی بھی اس موذی مرض میں مبتلا ہے

سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں ان الدعاء موقوف بین السماء والارض بے شک دعا زمین اور آسمان کے درمیان معلق رہتی ہے یعنی ٹھہری ہوئی رہتی ہے اور لا یفعل منہ شیئ حتی تصلی علی نبیک اس سے کوئی چیز اوپر کی طرف نہیں جاتی یعنی دعا قبول نہیں ہوتی جب تک کہ تم اپنے نبی مکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم

پر درود پاک نہ پڑھ لو ۔شیخ طریقہ نے فالج کے لئے یہ روحانی علاج تجویز فرمایا ہے کہ سورہ زلزال کسی لوہے یا اسٹیل کے برتن پر لکھ کر اب اسے دھو کر مریض کو پلائیں انشاء اللہ عزوجل فالج کے مرض سے شفاء نصیب ہو جائے گی لوہے یا اسٹیل کا بڑا سا برتن لے لیجئے اس پر زعفران یا کسی زردئی رنگ کے کلر سے سورہ زلزال لکھ دیجئے اور سورہ زلزال لکھ کر اس میں پانی ڈال کر یہ پانی مریض کو پلائیے انشاء اللہ عزوجل بہت جلد فالج سے آپ شفاء پا جائیں گے اسی طرح لوہے یا اسٹیل کے برتن پر سورہ زلزال لکھ کر صرف آپ دیکھیں اس کو دیکھنے کی برکت سے بھی انشاء اللہ عزوجل صحت نصیب ہو گی۔اس بارے میں کہ یہ سورہ مکہ میں نازل ہوا یا مدینہ میں ، مفسرین کے درمیان اختلاف ہے ۔ بہت سے اسے مدنی سمجھتے ہیں جب کہ بعض کا نظریہ یہ ہے کہ یہ مکہ میں نازل ہو ا ہے ۔ اس کی آیا ت کا لب و لہجہ جو معاد اور قیامت کی شرائط کے بارے میں گفتگو کرتی ہیں ، مکی سورتوں سے زیادہ مشابہت رکھتا ہے ، لیکن ایک حدیث میں آیا ہے کہ جس وقت یہ سورہ نازل ہوا تو ابو سعید خدری نے پیغمبر اکرام سے آیہ فمن یعمل مثقال ذرةکے بارے میں سوال کیا ، اور ہم جانتے ہیں کہ ابو سعید مدینہ میں مسلمانوں سے ملحق ہوئے تھے ۔لیکن اس سورہ کا مکی یا مدنی ہونا اس کے مفاہیم اور تفسیر پر اثر انداز نہیں ہوتا۔بہرحال یہ سورہ خصوصیت کے ساتھ تین محوروں کے گردگردش کرتاہے ۔پہلے الشرائط الساعة اور قیامت کے وقوع کی نشانیوں سے بحث کرتا ہے ۔اور اس کے بعد انسان کے تمام اعمال کے بارے میں زمین کی گواہی کی گفتگو ہے ۔اور تیسرے حصہ میں لوگوں کی دو گروہوں نیکو کار اور بد کار میں تقسیم، اور ہر ایک شخص کے اپنے اعمال کا نتیجہ پانے کی بات ہے ۔

اس سورہ کی فضیلت میں اسلامی روایات میں اہم تعبیریں آئی ہیں منجملہ ایک حدیث میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے آیا ہے : من قراٴھا فکانما قراٴ البقرة و اعطی من الاجر کمن قراٴ ربع القراٰن :جو شخص اس کی تلاوت کرے گویا اس نے سورہ بقرہ کی قرا ئت ، اور اس کا اجزر ثواب اس شخص کے برابر ہے جس نے قرآن کے چوتھے حصہ کی قرائت کی ہو۔ اورایک حدیث میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے آیا ہے کہ آپ نے فرمایا:سورہٴ اذا زلزلت الارض کی تلاوت کرنے سے ہر گز خستہ نہ ہونا ، کیونکہ جو شخص اس کو نافلہ نمازوں میں پڑھے گا وہ ہر گز زلزلہ میں گفتار نہ ہوگا اور نہ ہی ا س کی وجہ سے مرے گا ۔ اور مرتے دم تک صاعقہ اور آفاتِ دنیا میں سے کسی آفت میں گفتار نہ ہوگا۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.