ز ن ا سے حمل یا بچہ پیدا ہو جا ئے تو کیا کرنا چاہیے

نبی کریم ﷺ کے پاس موجود تھے جب کہ آپ ﷺ اپنے خچر پر سوار تھے وہ خچر کھڑا تھا لوگ ایک حاملہ عورت لے کر آپ ﷺ کے پاس آ گئے اس عورت نے کہا میں نے ز ن ا کیا ہے ۔ مجھے رجم کیجئے۔ نبی کریم ﷺ نے اس سے فر ما یا اللہ تعالیٰ کی پردہ پوشی کے ساتھ اپنے آپ پر پردہ کر سو وہ واپس چلی گئی

لیکن پھر آ گئی اور آپ ﷺ اپنے خچر پر ہی سوار تھے اس نے کہا اے اللہ کے نبی مجھے رجم کیجئے آپ ﷺ نے فر ما یا : اللہ تعالیٰ کی پردہ پوشی کے ساتھ اپنے آپ پر پردہ کر سو وہ لوٹ گئی لیکن پھر تیسری مرتبہ آگئی جب آپ ﷺ کھڑے تھے۔ اس بار اس نے آپ ﷺ کے خچر کی لگام تھام لی اور کہنے لگی میں آپ کو اللہ تعالیٰ کا واسطہ دے کر کہ مجھے رجم کیجئےآپ ﷺنے فر ما یا جاؤ اور بچہ جنم دینے کے بعد آ نا پس وہ بچہ جنم دے کر دوبارہ آ ئی اور نبی کریم ﷺ سے بات چیت کی آپ ﷺ نے فر ما یا چلی جا اور خ و ن سے پاک ہو کر آ نا پس وہ چلی گئی اور بعد میں آپ ﷺ کے پاس آئی اور کہنے لگی میں پاک ہو چکی ہوں۔ رسول اللہ ﷺ نے عورتوں کو اس کی جانب بھیجا کہ وہ اس کے خ و ن کے صاف ہونے کا جائزہ لیں انہوں نے آقا ﷺ کے پاس گواہی دی کہ وہ واقعی ہی پاک ہو چکی ہے ۔

نبی کریم ﷺ نے اس کے سینے تک گڑھا کھودنے کا حکم دیا پھر آپ ﷺ تشریف لا ئے اور دوسرے مسلمان بھی آ گئے نبی کریم ﷺ نے چنا کے برابر کنکری لی اور عورت کو ماری پھر آپ ﷺ ایک طرف ہٹ گئے اور مسلمانوں سے کہا کہ اس پر سنگ باری کر دو اور اس کا چہرہ بچاؤ پس جب وہ فوت ہو گئی آپ نے اسے گڑھے سے باہر نکالنے کا حکم دیا۔ اور پھر اس کی نمازِ جنازہ پڑھی اور فر ما یا اگر اس کے اجر کو تقسیم کر دیا جا ئے توا ن کے لیے یہ کافی ہو جا ئے گا سید نا علی ؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں۔

ان کی ایک لونڈی نے ز ن ا کی اور اس کی وجہ سے وہ حاملہ ہو گئی میں نبی کریم ﷺ کے پاس گیا اور آپ ﷺ کو اس کی خبر دی ۔ آپ ﷺ نے فر ما یا : اسے وضع حمل تک چھوڑ دو پھر اسے حد لگا نا رسول اللہ ﷺ نے فر ما یا جس شخص نے کسی لونڈی سے ز ن ا کیا پھر اس سے بچہ پیدا ہوا تو وہ والد الزنا ہے نہ وہ مرد اس بچے کا وارث ہو گا اور نہ ہی بچہ اس مرد کا ۔ تو ہمیں ہر معاملے میں اسلام سے رہنمائی حاصل کر نی چاہیے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.