میرا شوہر نا مرد ہے عورتیں ایسا کب کہتی ہیں

انہوں نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی تھی پھر ان سے عبدالرحمٰن بن قرضی ؓ نے نکاح کر لیا تھا عائشہ ؓ نے بیان کیا کہ وہ خاتون سوا اڈھنے اوڈھے ہوئے تھے انہوں نے عائشہ ؓ سے اپنے شوہر کی شکایت کی اور اپنے جسم پر سبز نشانات چوٹ کے دکھا ئے پھر جب رسول اللہ ﷺ تشریف لا ئے تو جیسا کہ عادت ہے

عورتیں آپس میں ایک دوسرے کی مدد کرتی ہیں عائشہ ؓ نے نبی کریم ﷺ سے کہا کہ کسی ایمان والی عورت کا میں نے اس سے زیادہ برا حال نہیں دیکھا ان کا جسم ان کے کپڑے سے بھی برا ہو گیا ہے بیان کیا کہ ان کے شوہر نے بھی سن لیا تھا۔کہ ان کی بیوی نبی کریمﷺ کے پاس گئی ہے چنانچہ وہ بھی آ گئے اور انکے ساتھ ان کے دو بچے ان سے پہلی بیوی کے تھے ان کی بیوی نے کہا اللہ کی قسم مجھے ان سے کوئی اور شکا یت نہیں البتہ ان کے ساتھ اس سے زیادہ اور کچھ نہیں ہے جس سے میرا کچھ نہیں ہوتا انہوں نے اپنے کپڑے کا پلو پکڑ کر اشارہ کیا یعنی ان کے شوہر کمزور ہیں اس پر ان کے شوہر نے کہا یا رسول اللہ ﷺ واللہ یہ جھوٹ بولتی ہے میں تو اس کو قربت کے وقت چمڑے کی طرح ادھیڑ کے رکھ دیتا ہوں مگر یہ شریر ہے۔

یہ مجھے پسند نہیں کرتی اور رفع ہے ہاں دوبارہ جانا چاہتی ہے نبی کریم ﷺ نے اس پر فر ما یا اگر یہ بات ہے تو تمہارے لیے عرفع اس وقت تک حلال نہیں ہوگا جب تک یہ عبدالرحمٰن تمہارے دوسرے شوہر تمہار مزہ نہ چکھ لیں۔ بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے عبدالرحمٰن کے ساتھ دو بچے بھی دیکھے تو دریافت فر ما یا کہ یہ تمہارے بچے ہیں؟ انہوں نے عرض کیا جی ہاں نبی کریم ﷺ نے فر ما یا اچھا اس وجہ سے تم یہ باتیں سوچتی ہو اللہ کی قسم یہ بچے ان سے اتنے ہی مشاہبہ ہیں۔ جتنا کہ کوا کوے سے مشابہ ہو تا ہے ایک دوسری روایت میں ہے۔

کہ رفع قرضی نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی اس کے بعد ان سے عبدالرحمان بن زبیر ؓ نکاح کر لیا لیکن وہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو ئیں اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ میں رفع ؓ کے نکاح میں تھی لیکن انہوں نے تین طلاقتیں دے دیں پھر مجھ سے عبدالرحمان بن زبیر ؓ نے نکاح کر لیا لیکن اللہ کی قسم ان کے پاس تو پلو کی طرح کے سوا اور کچھ نہیں مراد یہ کہ وہ نا مرد ہیں اور انہوں نے اپنی چادر کا پلو پکڑ کر بتا یا تو ہمیں یہاں ان سب باتوں سے پتہ لگتا ہے کہ ہمیں ہر معاملے میں اسلام سے رہنمائی حاصل کر نی چاہیے کیونکہ جو رہنمائی ہمیں ہمارا اسلام دے سکتا ہے وہ اور کوئی نہیں دے سکتا۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.