خالی پیٹ دہی کھانے سے معدے میں کیا ہوتا ہے

دہی کا شمار صحت بخش ترین غذاﺅں میں کہا جاتا ہے اور اس کے پر لطف ذائقے کی وجہ سے بھی اسے بہت پسند کیا جاتا ہے۔ اگرچہ دہی بہت اچھی غذا ہے لیکن اسے کھانے سے پہلے کچھ اہم باتوں کو ضرور ذہن میں رکھیں بھوکے پیٹ دہی مت کھائیں جب آپ کو بہت بھوک لگی ہو تو دہی کھانا فائدے کی

بجائے نقصان دہ ہوگا۔ دہی میں پایا جانے والا لیکٹک ایسڈ معدے کے تیزاب کو زائل کردیتا ہے اور نہ صرف مکمل کھانے کی طلب ختم کرتا ہے بلکہ مدافعتی نظام کو بھی کمزور کردیتا ہے۔ بہتر ہے کہ کھانے کے ایک سے دو گھنٹے بعد دہی کھائیں۔ دہی کھانا ہر ایک کا کام نہیں ہے، اگرچہ اکثر لوگوں کیلئے یہ صحت بخش ہے لیکن آنتوں کے مسائل، ذیا بیطس اور ہیپاٹائٹس وغیرہ کی صورت میں دہی کھانے سے پہلے ڈاکٹر سے مشورہ ضروری ہے۔ ایک سال سے کم عمر کے بچوں دہی نہیں دینا چاہیے دہی میں موجود غذائیت اور توانائی آپ کو موٹا بھی کرسکتی ہے۔ دہی کو مکمل کھانے کے طور پر بھی استعمال نہ کریں اور کھانے کے ساتھ اس کی زیادہ مقدار کا بھی استعمال نہ کریں بلکہ اگر کھانے کے ساتھ کھائیں تو اس کی مقدار کم رکھیں دہی کو زیادہ گرم نہ کریں کیونکہ اس کا اہم جزو لیکٹک ایسڈ ضائع ہوجائے گا، البتہ اگر اسے ہلکا سا گرم کرلیا جائے تو یہ مفید ہے۔

خواتین دہی کو نسوانی حسن میں اضافے کیلئے استعمال کرسکتی ہیں، اس کے طریقے مندرجہ ذیل ہیںتھوڑا سا دہی لے کر اس میں دو چمچ کنڈینسڈ ملک اور ہرا پپیتا اچھی طرح ملالیں۔ اس آمیزے کو فوری طور پر یا ٹھنڈا کرکے کھائیں۔ دو چمچ کنڈینسڈ ملک میں دہی ملا کر کھانے سے پہلے کھائیں۔غسل کے بعد جسم کے مخصوص حصوں پر کنڈینسڈ ملک اور دہی کے آمیزے سے تقریباً پندرہ منٹ تک مالش کریں کیلشیم سے بھرپور ، پروٹین اور پروبائیوٹک سے لیس دہی دودھ سے بنے والی ایک بہترین غذا ہے ۔ اسے ڈیری پراڈکٹس کا سپر ہیرو بھی کہا جاسکتا ہے ۔ کھانے میں اس کا استعمال عام ہے۔ اسے سادہ بھی کھایا جاتا ہے۔اس کے علاوہ سلاد کی ڈریسنگ اور مشروب کے طور پر بھی دہی کو بہت پسند کیا جاتا ہے ۔

دہی گرمیوں سردیوں ہر موسم میں ہی استعمال کیا جاتا ہے ۔ دہی سے جسم کو بے شمار فوائد حاصل ہوتے ہیں ۔ یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ یہ ایک مکمل غذا ہے ۔ کچھ لوگ تو یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ دودھ سے بھی زیادہ فائدے مند ہے ۔دہی صدیوں سے انسانی غذا کا حصہ رہا ہے۔ صحت پردہیکے لاتعداد مثبت اثرات پڑتے ہیں ان میں سے چند مندرجہ ذیل ہیں نظام انہضام کے لیے مفیددہی میں موجود ضروری غذائی اجزا آسانی سے انہضامی نالی میں جذب ہو جاتے ہیں ۔ یہ دیگر غذاؤں کی بھی ہضم ہونے میں معاونت کرتاہیں ۔ دہی جسم میں پی ایچ بیلنس برقرار رکھنے میں مدد کرتا ہے ۔ دہی معدے میں تیزابیت نہیں ہونے دیتا۔ اس سے معدے کی کئی تکالیف سے نجات ملتی ہے ۔ہڈیوں اور دانتوں ک مضبوطیدہی میں موجود کیلشیم اور فاسفورس ہڈیوں اور دانتوں کو مظبوط کرتا ہے ۔ کیلشیم اور فاسفورس ہڈیوں اور دانتوں کے لیے بے حد ضروری ہے ۔ دہی کا مستقل استعمال آسٹوپروسس اور گٹھیا جیسے مرض کے خطرات سے محفوظ رکھتا ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.