حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بتایا ہوا خارش دور کرنے کا وظیفہ

خارش دیکھنے میں تو بہت چھوٹی سی بیماری ہے لیکن اتنی گندی بیماری ہے کہ بندہ کسی محفل میں بیٹھا ہوا بھی شرم محسوس کرتا ہے اور خود بھی اپنے آپ سے بیزار ہوتا ہے اور بعض دفعہ خارش اتنی بڑھ جاتی ہے کہ خارش کرتے کرتے خ و ن بھی نکل آتا ہے جو لوگ ڈاکٹروں اور حکیموں سے علاج کروا چکے ہیں

لیکن ان کو کوئی افاقہ نہیں ہوا تو اس وظیفہ پر عمل کیجئے یہ قرآن سے لیا گیا ہے اور مجرب اور آزمودہ عمل ہے اس عمل سے آپ کی خارش انشاء اللہ ختم ہوجائے گی یاد رکھیں یہ صرف ایک علاج ہے ہم صرف دعا ہی کر سکتے ہیں باقی کام اللہ تعالیٰ کا ہے یہ جو وظیفہ پیش کیا جارہا ہے وہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بتایا ہوا عمل ہے ایک آدمی حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آیا اور آکر عرض کی کہ مجھے خارش ہے تو حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ روز صبح و شام 21 مرتبہ یہ آیت پانی پر دم کر کے اکتالیس روز تک پیو تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے وہ آدمی بالکل ٹھیک ہوگا وہ آیت انتہائی آسان ہے

اور کچھ یوں ہے فکسونا العظام لحما ثم انشاناہ خلقا آخر فتبارک اللہ احسن الخالقین۔حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم سے پہلے لوگوں میں ایک آدمی تھا جسے اللہ تعالیٰ نے وافر مال عطا فرمایا تھا۔ جب اس کی موت کا وقت آیا تو وہ اپنے بیٹوں سے کہنے لگا: میں تمہارا کیسا باپ ہوں؟ انہوں نے جواب دیا، آپ بہت اچھے باپ ہیں۔ کہنے لگا: میں نے نیکی کا کبھی کوئی کام نہیں کیا جب میں مرجاؤں تو مجھے جلا دینا، پھر مجھے پیس ڈالنا اور جس روز تیز ہوا چلے تو میری راکھ کو بھی اُڑا دینا۔ اُنہوں نے ایسا ہی کیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے اُس کے ذرات کو جمع کر کے دریافت فرمایا: تجھے اِس پر کس چیز نے آمادہ کیا؟ اُس نے جواب دیا: تیرے خوف نے۔ اللہ تعالیٰ نے اُسے اپنی آغوشِ رحمت میں لے لیا۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک شخص،.

جس نے کوئی نیکی نہیں کی تھی کہا: جب وہ مر جائے تو اُسے جلا دیا جائے، پھر اُس کی آدھی راکھ خشکی میں اور آدھی سمندر میں بہا دی جائے۔ کیونکہ خدا کی قسم، اگر اللہ تعالیٰ نے اُس پر قابو پایا تو ضرور اُسے اتنا عذاب دے گا جتنا ساری دنیا میں کسی کو عذاب نہ دیا ہو گا۔ (سو اُس کے اہلِ خانہ نے ایسا ہی کیا) پس اللہ تعالیٰ نے سمندر کو حکم دیا تو اس نے اس کے سارے ذرے اکٹھے کر دیئے اور خشکی کو حکم دیا تو جو ذرے اس کے اندر تھے اس نے جمع کر دیئے پھر اُس سے دریافت فرمایا: تو نے ایسا کیوں کیا؟ اُس نے عرض کیا: (اے اﷲ!) تو اچھی طرح جانتا ہے، تجھ سے ڈرتے ہوئے۔ پس اﷲ تعالیٰ نے اُسے بخش دیا۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.