عورتیں یہ دو کام چھوڑ دیں ورنہ ج ہ ن م میں جائیں گی۔

رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ناشکری عورتو ں کو ج ہ ن م میں لے جائے گا آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے عورتوں سے وعظ کی اور فرمایا عورتو صدقہ کیا کرو میں نے دیکھا ہے کہ ج ہ ن م میں اکثر عورتیں جل رہی ہیں ایک صحابیہ بڑی جرات والی تھیں فرمایا اللہ کے رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم

ہم کیوں زیادہ ج ہ ن م میں مرد کیوں نہیں آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا دو گ ن ا ہ ہے تم ایک دوسرے پر لعن طعن زیادہ کرتی ہو اور خاوندوں کی ناشکری کرتی ہو ساری زندگی وہ آپ کے ساتھ نیکی کرے جب موڈ خراب ہوجائے تو عورت کیا کہتی ہے میں نے پوری زندگی تجھ سے تو خیر پائی ہی نہیں یہ ناشکری ہے لعن طعن زیادہ کرتی ہیں آپ نے دیکھا ہو گا پہلے تو یہ مصیبت دیہاتوں میں تھی اب شہر وں میں بھی آگئی ہے دیہاتوں میں لڑائی ہوجاتی تھی کہ یہ میرے اپلے ہیں یہ میرے اپلے ہیں لوگ دیکھ رہے ہوتے ہیں سر پر دوپٹہ نہیں ہوتا اور دونوں طرف سے خطبہ چل رہا ہوتا ہے سخت دھوپ ہوتی ہے آخر جب تھک ہار کے بولنے کی سکت نہیں رہتی ہے پھر کہتی ہیں اپنادوپٹہ پکڑ کر کہ اچھا اب تینوں میرا صبر ہی مارے گا۔زبان کی تیزی ہمیشہ انسان کو برباد کرتی ہے لعن طعن کی وجہ سے گ ن ا ہ و ں میں مبتلا مت ہوئیے۔حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے

روایت ہے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اے میرے بندو! تم سب بھٹکے ہوئے ہو مگر جسے میں ہدایت دوں (وہ ہی ہدایت یافتہ ہے) پس مجھ سے ہدایت مانگو میں تمہاری راہ نمائی کروں گا۔ تم سب محتاج ہو، مگر جسے میں نے مالدار کیا (وہ ہی امیر ہے) پس مجھ سے اپنا رزق مانگو میں تمہیں رزق دونگا۔ تم سب گنہگار ہو، مگر جسے میں معافی دوں پس جسے معلوم ہے کہ میں بخشنے پر قادر ہوں وہ مجھ سے بخشش مانگے، میں بخش دونگا اور مجھے اس کی پرواہ نہیں اور اگر تمہارے پہلے، پچھلے

، زندہ، مردہ اور تر و خشک سب کے سب میرے بندوں میں سے بڑے پرہیزگار بندے کے دل پر جمع ہو جائیں تو میری حکومت میں مچھر کے پر کے برابر بھی کمی نہیں کر سکیں گے۔ اگر تمہارے اول، آخر، جن، انسان، زندہ، مردہ اور تر و خشک ایک زمین میں جمع ہوجائیں پھر ہر انسان اپنی آرزو کے مطابق سوال کرے اور میں ہر سائل کو اُس کی خواہش کے مطابق دوں تو بھی میری حکومت و سلطنت میں کچھ کم نہ ہوگا مگر اتنا کہ اگر تم میں سے کوئی سمندر کے پاس سے گزرے اور اس میں سوئی ڈال کر پھر اسے اپنی طرف اُٹھا لے۔ یہ اس لئے کہ میں سخی ہوں، بزرگی والا ہوں، جو چاہتا ہوں کرتا ہوں، میرا عطا کرنا بھی (محض) کہنا ( حکم دینا) ہے اور میرا عذاب بھی ایک کلام (حکم) ہی ہے۔ میرا حکم کسی چیز کے لئے یہ ہے کہ جب کسی کام کا ارادہ کرتا ہوں تواسے کہتا ہوں: ہو جا پس وہ ہو جاتا ہے۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.