اگر بیوی قربت کرنے کے راضی نہ ہوں تو شوہر کیا کرے اگر بیوی راضی نہ ہو

آج ہم بتائیں گے کہ بیوی کیساتھ قربت کیلئے میاں بیوی کو کونسے وقت کا انتخاب کرنا چاہیے ۔ کچھ لوگوں کی طرف سوالات ہوتے ہیں کہ جب بیوی کے ساتھ قربت کرتا ہوں وہ سوجاتی ہے قربت کرتے وقت جلدی فارغ ہوجاتے ہیں۔میاں بیوی رات کو گئے درواز ہ بند کیا اور مرد حضرات بیوی کو کہتے ہیں قربت کرلیتے ہیں

اور فارغ ہوجاتے ہیں اس طریقہ نہ وہ خود مطمئن ہوتے ہیں نہ بیوی خوش ہوپاتی ہے ۔اکثر لوگ کہتے ہیں کہ کبھی بیوی اس کیلئے راضی نہیں ہوتی ہے سوجاتی ہے کبھی آپ سوجاتے ہیں۔ غلطی اس میں کیا کرتے ہیں مرد حضرات صبح سے لیکر شام تک دنیا بھر کے کاموں میں مشغول رہ کر تھکے ہوئے ہوتے ہیں۔ بیوی بھی صبح سے لیکر شام تک بچوں میں گھر گہرستی میں تھکی ہوئی ہوتی ہے ۔ اس وقت دل تو نہیں چاہ رہا ہوتا لیکن شیطان اکستا تا ہے آ پ کرتو لیتے ہیں لیکن تسکین نہیں ہوتے ۔اس کیلئے بہترین وقت یہ ہے کہ تہجد کے وقت رات کے آخر میں قربت کرے کیونکہ جب انسان کی نیندپوری نہیں ہوتی نیند کا اس معاملے میں بڑا ہاتھ ہوتا ہے جس کیوجہ سے چرچراپن آجاتا ہے انسان کو پتا نہیں ہوتا کیا کررہا ہےجو کام نہیں کرنے والا ہوتا کرجاتا ہے ۔

سب سے وہ خود کو تیار کریں نیند پوری کریں کیونکہ نیند قربت کے دوران نہیں آنی چاہیے آئیگی تو آپ اس عمل کو مطمئن نہیں ہوپائیں گے ۔ نیند پوری ہوجاتی ہے ۔ اس وقت قربت کریں گے آ پ لوگ مطمئن ہونگے ۔ جب آپ کو زور پاخانہ آرہا ہوتو اس وقت بھی قربت نہ کریں شدید بھوک کی حالت ہو تو اس وقت بھی قربت نہ کریں۔ کیونکہ بھوک لگ رہی ہوگی کہ کام کرکے میں نے کھانا کھانا ہے ۔ اگر آپ نے بہت پیٹ بھر کر کھانا کھایا ہوا ہے۔

اس وقت بھی قربت نہ کریں کھانے کے بعد کے معاملات ہوتے ہیں اس وقت قربت سے مطمئن نہیں ہوپاتے ۔ جب بہت زیادہ نیند آرہی ہو ، جب پیشاب پاخانہ زور ہوتوتب قربت نہ کریں ۔ جب بہت زیادہ کھانا کھالیا ہے تو کھانے کے اورقربت کے درمیان تین گھنٹوں کا وقفہ ہونا ضروری ہے ۔ اس وقت قربت نہ کریں کہ جب آپ کو ضروری کام ہو کیا ہوگا کہ آپ یہ عمل کرلوں اور میں نے ضروری کام کرنا ہے تو پھر بھی آپ اس قربت میں مطمئن نہیں ہوپاتے ۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.