نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ایک شخص کی اس کی پیٹھ پیچھے برائی کی ۔

اسلامی تعلیمات کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیا جائے تو بخوبی احساس ہوتا ہے کہ اسلام میں ہر شخص کے حقوق کا پوری طرح تحفظ کرتے ہوئے معاشرے میں اخلاقی اقدار کے فروغ کو بہت زیادہ اہمیت دی گئی ہے اسی طرح اسلام میں برائی کی راہ سے بچتے ہوئے گ ن ا ہ سے گریز اور راہ مستقیم پر چلنے کا

درس بھی دیا گیا جس طرح نیکی کے کاموں کا اجرو ثواب بیان کیا گیا اسی طرح گ ن ا ہ کے بھی درجات کا ذکر سامنے آتا ہے اس حوالہ سے بنیادی طور پر گ ن ا ہ و ں کو دو درجات گ ن ا ہ کبیرہ اور گ ن ا ہ صغیرہ میں تقسیم کیا گیا ہے کبیرہ کے سلسلہ میں سخت وعید ملتی ہے اور بتایا جاتاہے کہ اس میں معافی اور بچت کی امید نہیں ہے کبیرہ میں سب سے پہلا اور بڑا گ ن ا ہ شرک ہے اس کے بعد غیبت کا شمار بھی گ ن ا ہ کبیرہ میں ہی آتا ہے اور اس حوالہ سے اس قدر ممانعت ہے کہ عام زندگی میں اس کا تصور بھی محال ہے اس تحریر میں غیب کرنے والوں کے انجام کے بارے میں بتایا جارہا ہے اس کے علاوہ یہ بھی کہ کس موقع پر اور کس شخص کی غیبت کرنا جائز ہوتا ہے اور گ ن ا ہ نہیں ہوتا اللہ اور اس کے محبوب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے غیبت کو پسند نہیں کیا اس حوالہ سے قرآن کریم یوں کہتا ہے

اے ایمان والو بہت سی بدگمانیوں سے بچتے رہو کیونکہ بعض گمان تو گ ن ا ہ ہیں جن پر اخروی سزا واجب ہوتی ہے اور کسی کے عیبوں اور رازوں کی جستجو نہ کیا کرو اور نہ پیٹھ پیچھے ایک دوسرے کی برائی کیا کرو کیا تم میں سے کوئی شخص پسند کرے گا کہ وہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھائے سو تم اس سے نفرت کرتے ہو اور ان تمام معاملات میں اللہ سے ڈرو بے شک اللہ توبہ کو بہت قبول فرمانے والا بہت رحم فرمانے والا ہے یہاں بہت واضح ہے کہ اللہ تعالیٰ نے غیبت کرنے سے منع فرمایا ہے اور غیب کرنے کو اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانے سے تشبیہہ دی ہے غیبت اور غیبت کرنے والے کو رسول کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے بھی سخت ناپسند فرمایا ہے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم دو قبروں کے پاس سے گزرے اور فرمایا کہ ان دونوں ق ب ر والوں پر ع ذ ا ب ہو رہا ہے اور کسی بڑے کام کی وجہ سے نہیں ع ذ ا ب ہورہا پھر فر مایا ان میں سے ایک تو چغلی کھاتا تھا اور دوسرا پیشاب سے نہیں بچتا تھا پھر آپ نے تر لکڑی لی اس کے دو ٹکڑے کئے اور ایک ایک ٹکڑا ہر ایک کی ق ب ر پر گاڑ دیا پھر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ شاید ان دونوں کے ع ذ ا ب میں تخفیف ہوجائے جب تک یہ دونوں لکڑیاں خشک نہ ہوجائیں ۔حضرت امی عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتی ہیں کہ ایک آدمی نے رسول اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے اندر آنے کی اجازت چاہی

آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اس کو اجازت دے دو وہ قبیلہ کا برا بھائی ہے یا یہ فرمایا کہ قبیلہ کا برا بیٹا ہے جب وہ اندر آیا تو اس سے نرمی سے گفتگو کی میں نے عرض کیا کہ یارسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے متعلق یہ فرمایا پھر اس سے نرمی کے ساتھ گفتگو کی آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اے عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سب سے برا آدمی وہ ہے کہ لوگ اس کی فحش گوئی سے بچنے کے لئے اس کو چھوڑ دیں اس واقعہ پر غور کیجئے تو معلوم ہوگا کہ حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اس شخص کے متعلق بری رائے رکھنے کے باوجود اس کے ساتھ اچھی طرح سے بات چیت اسلئے کی کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا اخلاق اسی کا تقاضا کرتا تھا لیکن آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو یہ اندیشہ ہوا کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے گھر والے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو اس سے مہربانی برتتے دیکھ کر کہیں اسے آپ کا دوست نہ سمجھ لیں اور بعد میں کسی وقت وہ اس کا ناجائز فائدہ نہ اُٹھا لے۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.