بندکاروبار یا دکان کو دوبارہ چلانے کا زبردست عمل اب رش ختم نہ ہوگا(انشاءاللہ)

آج ہم آپ کو یاباسط کے انمول وظائف بتاتے ہیں۔ رحمت اور روزی اور نعمت کوکشادہ کرنے والا صرف اور صرف اللہ پاک ہے۔ اس لحاظ سے وہ باسط ہے ۔ یہ لفظ باسط قبض کی ضد ہے۔ جب وہ چاہتا ہے تو تنگ کی ہوئی چیز کو کشادہ کردیتا ہے۔ یعنی قبض کو پست میں بدل دیتا ہے۔ یہ اللہ پاک کے سوا کوئی نہیں کر سکتا ہے۔ انسان پر فرض ہے۔

کہ اللہ کی رحمت اور نعمت کا شکراداکرنا چاہیے۔ جو رزق کشادہ کردیتاہے۔ جسے چاہتاہے اسے مقررہ کردہ رزق عطا کر دیتا ہے۔ اور ہر وقت اس کی شکر گزار بندے بننے کی کوشش کرتے رہیں۔ بے جا خوشی اور بے جا بے ادبی سے اجتناب کرے۔ تو اللہ ان کو اپنے صفت باسط میں کا اظہار فرماتا رہے گا۔ یہ اسم “یاباسط” جمالی اسم ہے۔ اور اس کے اعداد بہتر ہیں۔ کشادگی رزق کا مجرب ترین عمل جوشخص “یَا بَاسِطُ” روزانہ صبح کے وقت ایک سو مرتبہ پڑھنے کا معمول بنا لے۔ تو اللہ پا ک اس کے رزق کو کشادہ کردیتاہے۔ اور وہ شخص کسی کا محتا ج نہیں رہتاہے ۔ اور نہ ہی اسے شدید قسم کی پریشانی لاحق ہوتی ہے۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اس عمل سے اللہ پا ک راضی ہوکر پڑھنے والے کے لیے اپنی نعمت اور رزق کو کشادہ کردیتاہے۔ اور اس اسم “یَا بَاسِطُ” کے متعلق امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ جو شخص صبح کی نماز کے بعد یعنی فجر کی نماز سے پہلے دس مرتبہ اس اسم “یَا بَاسِطُ” کو پڑھے۔ اس کےبعد اپنے چہرے پر ہاتھ پھیر لے اور ہمیشہ ایسا کرنے کا معمول بنا لے۔ تو اس

کو کبھی بھی مخلوق سے سوال کرنے کی ضرورت درپیش نہیں پڑے گی۔ یہ قول امام ابو حنیفہ ؒ کا ہے۔ دوسرا وظیفہ ہے خاوند کی بد اخلاقی کا ہے۔ اگر کسی عورت کا خاوند بد اخلاق ہویا اپنی عورت سے بڑی سخت مزاجی سے پیش آئے۔ تواس عورت کو چاہیے کہ اس اسم “یَا بَاسِطُ” کو پانی پر تہتر سو مرتبہ روزانہ گیارہ یوم تک پانی پر دم کرے۔ اور اس پانی کو اپنے خاوند کو پلائے۔ انشاءاللہ خاوند کا مزاج گیارہ دن سے پہلے پہلے تک خاوند کا مزاج ٹھیک ہوجائےگا۔ اور اس میں بد اخلاقی ختم ہوجائے گی۔ تیسر ا اور مختصراً وظیفہ یہ ہے کہ فراخ دلی اور سخاوت پیدا کرنے کا۔ اگر کوئی شخص چاہتاہے کہ وہ فراخ دل اور سخی بن جائےتو وہ شخص اس اسم کو “یَا بَاسِطُ” روزانہ بہتر مرتبہ پڑھنے کا معمول بنا لے۔ آپ خود دیکھ لیں کہ بہتر مرتبہ اس اسم کو پڑھنے میں ایک منٹ یا دو منٹ لگتے ہیں۔ لیکن اس کے بدلے میں ملے گا کیا۔ اسکے دل میں فراخ دلی پیدا ہوجائےگی۔ اور اللہ پاک کی راہ میں دل کھول کر پیسا خر چ کرنے والا بندہ بن جائے گا۔ اور اسے حسا ب سے اللہ پاک عطا بھی کرے گا۔ یعنی جتنا فراخ دل ہوگا۔ اتنا سخی ہوگا۔ جتنا خرچ کرے گا۔ اللہ پاک اسے حساب سے عطا بھی فرمائیں گے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.